84

پروں کا جنازہ، سلاخوں کے پیچھے ازحافظ مطیع الرحمن بزم رائپوری تھوہامحرم خان

پروں کا جنازہ، سلاخوں کے پیچھے
ازحافظ مطیع الرحمن بزم رائپوری تھوہامحرم خان
شہر کے شور میں ایک آواز ایسی ہے جو سنائی نہیں دیتی۔ وہ آواز خاموشی کی ہوتی ہے۔ وہ آواز اس پرندے کی ہوتی ہے جس کے پنجرے پر شام کو کپڑا ڈال دیا جاتا ہے۔ کپڑا اندھیرے کے لیے نہیں ڈالا جاتا۔ کپڑا اس یاد پر ڈالا جاتا ہے جو پرندے کی آنکھوں میں لہراتی ہے۔ یاد آسمان کی۔ یاد بے حساب وسعت کی۔ یاد اس ہوا کی جو کبھی مفت تھی۔سلاخیں۔ سیدھی، بے رحم، چمکتی ہوئی سلاخیں۔ لوہے کی ہوں تو جسم قید ہوتا ہے۔ سونے کی ہوں تو خواب قید ہوتے ہیں۔ فرق صرف دھات کا ہے، قید کا نہیں۔ اندر ایک جسم ہے جس کے لیے اللہ نے ہوا بنائی تھی۔ باہر ایک دنیا ہے جس کے لیے اللہ نے پرندے بنائے تھے۔ درمیان میں ہم کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں دانہ لیے، دل میں “شوق” لیے۔ پرندہ اڑتا نہیں۔ وہ گرتا ہے۔ روز گرتا ہے۔ صبح جب آنکھ کھلتی ہے تو پہلا خیال پرواز کا آتا ہے۔ پھر سلاخ یاد آ جاتی ہے۔ پھر وہ ایک انچ اوپر اچھلتا ہے اور ایک انچ نیچے آ گرتا ہے۔ یہ گرنا موت نہیں ہے۔ یہ اس یقین کا جنازہ ہے کہ “میں آزاد تھا”۔ پروں کا جنازہ ایسے ہی نکلتا ہے۔ کوئی بین نہیں کرتا۔ کوئی کفن نہیں ہوتا۔ بس پر، جو کبھی ہوا کو چیرتے تھے، اب سلاخوں سے ٹکرا کر تھک جاتے ہیں۔
اللہ نے پرندے کو ہلکا بنایا۔ ہڈیاں کھوکھلیں، دل ہلکا، سانسیں تیز۔ تاکہ وہ بوجھ نہ بنے۔ تاکہ وہ زمین کی کشش کو ہرا دے۔ ہم نے اسے وزن دے دیا۔ قید کا وزن۔ تنہائی کا وزن۔ اس نظر کا وزن جو اسے “چیز” سمجھتی ہے، “جان” نہیں سمجھتی۔ میں نے دیکھا ہے۔ جب کوئی بچہ پنجرے کے پاس آ کر انگلی کرتا ہے تو پرندہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ڈر کے مارے نہیں۔ شرم کے مارے۔ شرم اس بات کی کہ “میں وہ نہیں رہا جو میں تھا”۔ میں وہ چڑیا نہیں رہی جو درخت کی سب سے اونچی شاخ پر بیٹھ کر سارے شہر کو للکارتی تھی۔ میں وہ نہیں رہی جس کی چہچاہٹ سے گھروں میں سحر ہوتی تھی۔ اب میں ایک سجی ہوئی قبر ہوں۔ زندہ قبر۔نبی کریم ﷺ کا دل رحم کا دریا تھا۔ ایک بار صحابہ نے چڑیا کے بچے اٹھا لیے۔ ماں چڑیا اوپر منڈلانے لگی، چیخنے لگی، بے چین ہو گئی۔ آقا ﷺ نے دور سے دیکھا اور فرمایا: “اسے اس کے بچوں سے جدا کر کے کس نے تکلیف دی؟ اسے اس کے بچے واپس دو”۔ ہم نے تو ماں بھی چھین لی، بچے بھی چھین لیے، گھونسلہ بھی چھین لیا۔ اور نام رکھ دیا “پالتو”۔ پالتو نہیں، قیدی کہو اسے۔
پنجرے میں آئینہ لگا دیتے ہیں تاکہ پرندہ اکیلا محسوس نہ کرے۔ وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ ایک پل کے لیے دھوکا کھاتا ہے۔ سمجھتا ہے کوئی اور بھی ہے۔ پھر چونچ مارتا ہے۔ شیشہ چٹخ جاتا ہے۔ لیکن سلاخیں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ سمجھ جاتا ہے – تنہا میں ہی ہوں۔ اور تنہائی وہ زہر ہے جو روز تھوڑا تھوڑا کر کے مارتی ہے۔
ہم کہتے ہیں “ہمیں آزادی چاہیے”۔ ہم جلوس نکالتے ہیں۔ نعرے لگاتے ہیں۔ سٹیٹس لگاتے ہیں۔ لیکن اسی ہاتھ سے ہم دوسرے کی آزادی خرید لیتے ہیں۔ 500 روپے میں۔ ایک پنجرے میں۔ اور پھر سیلفی لیتے ہیں۔ کیپشن لکھتے ہیں “My baby”۔ بیبی نہیں۔ وہ تمہارا قیدی ہے۔ تمہارے ضمیر کا قیدی۔رات کو جب شہر سو جاتا ہے تو پرندہ جاگتا ہے۔ نیند اسے نہیں آتی۔ کیونکہ نیند گھونسلے میں آتی ہے۔ گھونسلہ تنکوں سے نہیں بنتا۔ گھونسلہ “اپنے پن” سے بنتا ہے۔ پنجرے میں تنکے تو ہیں، اپنا پن نہیں ہے۔ وہ چھت کو دیکھتا ہے۔ چھت کو نہیں، چھت کے پار آسمان کو دیکھتا ہے۔ اور ایک لمبی، خاموش، بے آواز چیخ مارتا ہے۔ وہ چیخ کوئی نہیں سنتا۔ سوائے خدا کے۔ اور خدا لکھ لیتا ہے۔پروں کا جنازہ روز نکلتا ہے۔ جنازہ پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کاندھا دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ صرف ہوا کے ایک جھونکے کا انتظار ہوتا ہے جو سلاخوں کے بیچ سے گزرے اور اس مردہ پروں کو ایک بار پھر چھو لے۔ بس ایک بار۔ تاکہ مرنے سے پہلے پرندے کو یاد آ جائے کہ وہ تھا کیا۔اور ہم؟ ہم صبح اٹھ کر پنجرہ صاف کریں گے۔ تازہ دانہ ڈالیں گے۔ اور مطمئن ہو جائیں گے کہ ہم نے “خیال” رکھا ہے۔
ہائے افسوس۔ ہم نے خیال رکھا، لیکن پرواز نہیں لوٹائی۔
“پنجرہ سونے کا بھی ہو تو قید ہی رہتا ہے۔ اور پرندہ دانے کے لیے پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ افق کے لیے پیدا ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں