2

پاکستان اور چین کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے بنانے کی ضرورت ہے، سیاسی تسلسل، موثر طرز حکمرانی اور عوامی ضروریات پر مرکوز ترقی پائیدار قومی پیشرفت کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،احسن اقبال کاسمپوزیم سے خطاب

اسلام آباد۔ (نیوز رپورٹر):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسراحسن اقبال نے پاکستان اور چین کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی تسلسل، موثر طرز حکمرانی اور عوامی ضروریات پر مرکوز ترقی پائیدار قومی پیشرفت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کویہاں’’شی جن پنگ کے پارٹی کی تعمیر سے متعلق نظریات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیرنے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں عوامی خدمت، خود اصلاحی، تنظیمی نظم و ضبط اور طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کے حوالے سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے تجربات سے قیمتی رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔ ترقیاتی عمل میں تسلسل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اچھی اور موثر پالیسیوں کو ترک کرنے کی وجہ سے پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی ترقیاتی منصوبے انتخابی ادوار سے بالاتر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ پاکستان کے جمہوری نظام کے اندر ان اصولوں کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں مفاہمتی یادداشت کو تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں تبدیل کیا گیا جس کے نتیجے میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداوار، 888 کلومیٹر طویل شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر اور تقریبا 2 لاکھ 36 ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سیاسی اختلافات اور حکومتوں کی تبدیلی سے بالاتر ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں موجود قومی اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے۔ اڑان پاکستان اور سی پیک 2.0 کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے چین کی کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان پانچ سیاسی راہداریوں کے قیام کی تجویز پیش کی جو پانچ اقتصادی راہداریوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گی۔ ان میں تزویراتی مکالمہ، طرز حکمرانی اور ترقیاتی تجربات سے استفادہ، نوجوانوں اور قیادت کی ترقی، ثقافتی روابط اور علاقائی امن و تعاون شامل ہیں۔ انہوں نے بالخصوص نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے نوجوان رہنماؤں کے درمیان باہمی تبادلوں کا آغاز 2027 میں ابتدائی گروپ سے کیا جائے اس پروگرام میں چین کے مرکزی پارٹی سکول میں منظم تربیتی اور مطالعاتی مواقع بھی شامل ہوں گے۔ احسن اقبال نے چین کے صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی کو 20ویں سینٹرل کمیٹی کے پانچویں مکمل اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ سیاسی اور ادارہ جاتی تعاون کے ایک نئے باب کے آغاز کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قیادت کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف اپنے دور میں حاصل کردہ کامیابیاں نہیں بلکہ وہ پائیدار ادارے، پالیسیاں اور بنیادیں ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑی جاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں