اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کا اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع، وسیع بندرگاہی انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے مواقع وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔قازقستان کے شہر الماتی میں وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی اور معیاری سرمایہ کاری سے متعلق دوسرے تیان شان فورم (Second TIANSHAN Forum for Central Asia Economic and Quality Investment) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ راہداری بن سکتا ہے، جو انہیں بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی تین بڑی بندرگاہوں، کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے فروغ، نقل و حمل کے روابط میں بہتری اور اشیاء کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں کی فراہمی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔انہوں نے بالخصوص کراچی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا ایک بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، جہاں موجود صنعتی بنیاد، کاروباری انفراسٹرکچر، مالیاتی ادارے اور بندرگاہی سہولیات تجارت، صنعتی شراکت داری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے گوادر بندرگاہ کی صلاحیت کو بھی علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کے لیے ایک اہم آبادیاتی فائدہ ہے۔ نوجوان افرادی قوت ملک کی اقتصادی ترقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت علاقائی روابط کو مضبوط بنانے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بہتر علاقائی روابط اور توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی خطے کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔علاقائی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن (CAREC) پروگرام کی خدمات کو سراہا، جو ٹرانسپورٹ روابط کے فروغ، تجارت میں سہولت اور شریک ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ CAREC پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، نوجوان آبادی، صنعتی استعداد اور بندرگاہی انفراسٹرکچر اسے وسطی ایشیائی معیشتوں کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ علاقائی روابط کا مقصد صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور منڈیوں کو آپس میں ملانا نہیں، بلکہ معیشتوں کو قریب لانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا، روزگار کے نئے ذرائع فراہم کرنا اور پورے خطے میں مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔
2
