1

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقات برداشت کر رہے ہیں،ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد۔2نومبر (ندیم گلزارکھوکھر ):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقات برداشت کر رہے ہیں،پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی نظام، بلند شرح سود اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ترقی کو محض معاشی اشاریوں کے بجائے انسانی حقوق،موسمیاتی انصاف اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، حقیقی پائیدار ترقی کے لیے موسمیاتی آفات سے نقصانات کی پیشگی روک تھام، محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مقامی سطح پراختراعی و معاشی مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو یہاں ایس ڈی پی آئی کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک عالمی مالیاتی نظام، بلند شرح سود، جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث ترقی کے سفر میں متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سال سے ترقی کے ایک ایسے تصور کو پیش کیا جا رہا ہے جس کے تحت سرمایہ کاری، زرعی پیداوار، صنعت اور خدمات کے شعبے کے ذریعے غربت سے نکلنے کا راستہ دکھایا جاتا ہےتاہم اس عمل میں دنیا کے بنیادی اصولوں، باہمی انحصار اور عالمی نظام میں عدم مساوات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کو ایک عالمی گاؤں اور مشترکہ معاشی و سماجی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہےلیکن حقیقت میں عالمی سطح پر طاقت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم موجود ہے۔ مختلف ممالک ویزا پالیسیوں، صنعتی پالیسیوں اور گرین معاہدوں کے ذریعے نئی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران غریب طبقات کے لیے دستیاب مالی وسائل میں 23 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی ترقی کے لیے تقریباً 2.2 فیصد شرح سود پر قرض حاصل کرتے ہیں جبکہ پاکستان جیسے ممالک کو 5.2 فیصد شرح سود ادا کرنا پڑتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 3.7 ارب آبادی ایسی ہے جو قرضوں پر سود کی ادائیگی کے باعث تعلیم اور صحت پر زیادہ اخراجات کرنے سے قاصر ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ قرضوں کا ایک بوجھ موسمیاتی تبدیلی اوربڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی صورت میں بھی غریب انسان اپنے جسم سے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے جیکب آباد کے ایک اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور گلاب بروہی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں کام کرنے کے باوجود وہ محض اس لیے بھٹی پر موجود رہتا ہے تاکہ اس کے بچے بھوکے نہ مریں۔ ان کے بقول یہ صرف موسم یا درجہ حرارت کا معاملہ نہیں بلکہ غریب طبقے پر عائد ہونے والا ایک ایسا بوجھ ہے جس کی قیمت وہ اپنی صحت اور زندگی سے ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کم ترقی یافتہ ہونے کے بجائے عالمی نظام کے ڈاؤن اسٹریم حصے میں ہیں جہاں انہیں ایسے فیصلوں، مالیاتی پالیسیوں،جنگوں اور عالمی حالات کے اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں جن میں ان کا براہ راست کردار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےحقوق اور موسمیاتی انصاف کو بھی ترقی کے مباحثے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کے حوالے سے تین بنیادی سوالات اہم ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا ہماری ترقی آئندہ سیلاب کے دوران برقرار رہ سکے گی، دوسرا یہ کہ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کی قیمت کون ادا کرے گا اور تیسرا یہ کہ ترقیاتی منصوبوں کی ملکیت کس کے پاس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ترقی کی ضرورت ہے جو ہر دو چار سال بعد سیلاب کی نذر نہ ہو اور جس کا بوجھ ہر مرتبہ غریب طبقے کو برداشت نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی موسمیاتی لچک (ریزیلینس) کا مطلب یہ نہیں کہ متاثرہ افراد کو ہر آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا کہا جائے بلکہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے نقصانات کو پہلے ہی روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے سیلابی میدانوں میں غیر محفوظ تعمیرات سے گریز،محفوظ مقامات پر گھروں کی تعمیر اور نئے انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو انسانی حقوق کےمسئلے کے طور پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں نئی مارکیٹ اور معاشی مواقع بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں شیڈز، کولنگ اور مقامی سطح پر تیار کردہ حل پر توجہ دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گرین یونیورسٹی کے تصور پر بھی کام کیا جا رہا ہےجس کے تحت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، نسٹ، لمز، آغا خان یونیورسٹی اور دیگر پاکستانی جامعات کو عالمی تحقیقی اداروں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اٹلی کے ساتھ روابط اور برطانیہ کے ساتھ گرین کمپیکٹ کے تحت گلیشیئرز اور دیگر ماحولیاتی موضوعات پر مشترکہ تحقیق، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے اورتحقیقی پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کو ورچوئل گرین یونیورسٹی کا نام دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے گرین کلاؤڈ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ٹیکس دہندگان کےپیسے سے حاصل ہونے والے وسائل اور سہولیات نوجوانوں کو مفت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ وہ ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نےگرین فیلڈ پروگرام کے تحت ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کیا ہے جس کا بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے جبکہ آئندہ تین ماہ کے دوران پہلا مقابلہ منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور نئی کاروباری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یونیسیف، یو این ڈی پی، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور جی آئی زیڈ سمیت مختلف عالمی شراکت دار اس پروگرام میں تعاون کر رہے ہیں،حکومت تمام شراکت داروں کے اشتراک سے ایسا فنڈ تشکیل دینا چاہتی ہے جو نئے کاروباری منصوبوں اور اختراعی اقدامات کے فروغ میں معاون ثابت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں