وطنِ عزیز کا مرثیہ
حافظ مطیع الرحمن بزم رائپوری تھوہا محرم خان
آج قلم لرزاں ہے، سیاہی گریہ کناں ہے اور حروفِ تحریر ماتم کدہ بنے ہوئے ہیں۔ میں جس سرزمین کی شادابیوں کے نغمے لکھتا تھا، آج اسی کے ملبے پر نوحہ نگاری پر مجبور ہوں۔ یہ پاکستان نہیں رہا، یہ ایک “مسمار شدہ خواب” کا کھنڈر ہے جس کی دیواروں سے “افلاس و یاس” ٹپک رہا ہے۔خزانے تہی دامن ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر “سراب” بن چکے اور مہنگائی کا اژدہا ہر گھر کا لہو چوس رہا ہے۔ صنعت و حرفت کا پہیہ جامد ہے، بیروزگاری کی یلغار نے نوجوانوں کو “بے کسی و حرماں” کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ہم نے “خود کفالتی” کا نعرہ لگایا تھا، آج ہم “قرضوں کے گداگر” بن کر عالمی اداروں کے در پر سجدہ ریز ہیں۔ یہ کس قدر “ننگِ قومی” ہے کہ ایک ایٹمی قوت “قوامِ محتاج” کی صف میں کھڑی ہو اور اس کے حکمران “استجدا” کو ہی پالیسی سمجھیں۔ایوانِ اقتدار “مکر و فریب” کا گڑھ بن چکا ہے۔ اصول پرستی کو “خبطِ حماقت” سمجھا جاتا ہے اور مصلحت کوشوں کی “ریا کاری” کو دانش کا درجہ حاصل ہے۔ جمہوریت کے نام پر “استبدادِ جماعت” مسلط ہے اور احتساب کے نام پر “انتقامِ سیاسی” کا بازار گرم ہے۔ ہمارے رہنما قوم کے “مسیحا” نہیں رہے، وہ “سوداگرِ اقتدار” بن گئے ہیں جو وطن کی حرمت کو “سوداے ناچیز” کے عوض بیچ رہے ہیں۔ یہاں وفاداری کا معیار “چاپلوسی” ٹھہرا اور حق گوئی “بغاوت” قرار پائی۔معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہیں۔ رشتوں میں “خلوص” کی جگہ “مفاد پرستی” نے لے لی۔ تعلیم “تاجرانہ جنس” بن گئی اور ہنر “متروک و متروک”۔ انصاف کا ترازو “رشوت” کے باٹ سے جھک گیا ہے، مظلوم کی فریاد “بے صدا” ہے اور ظالم کا قہقہ ایوانوں میں گونجتا ہے۔ ہم نے اقبال کا شاہین کھو دیا اور “کرگسِ خود غرضی” کو اپنا مطمحِ نظر بنا لیا۔ دلوں سے “احساسِ ذمہ داری” رخصت ہو گئی اور زبانوں پر صرف “الزام تراشی” کا ورد ہے۔
کیا یہی وہ مملکت تھی جس کے لیے ہمارے اسلاف نے “خونِ جگر” سے قربانیوں کی داستانیں رقم کیں؟ کیا یہی وہ چمن تھا جسے علامہ نے “شاہینوں کا نشیمن” کہا تھا؟ ہم نے نظریے کو فراموش کیا، اتحاد کو پارہ پارہ کیا، اور محنت کو “عیب” سمجھ لیا۔ ہم نے “تن آسانی” کو ترجیح دی اور “جہدِ مسلسل” کو ترک کر دیا۔ نتیجہ ایک ایسی “مملکتِ خستہ حال” کی صورت میں نکلا جو اندر سے کھوکھلی اور باہر سے مقروض ہے، جس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔اے وطن! تیری “زخم خوردہ پیشانی” کو چومنے کو جی چاہتا ہے۔ مگر یاد رکھو نوحہ سے قومیں نہیں بنتیں۔ اب وقت “تجدیدِ عہد” کا ہے۔ وقت ہے کہ ہم “انا پرستی” کے بت پاش پاش کریں، “کرپشن” کے اژدہے کو نیست و نابود کریں، اور “علم و عمل” کا علم بلند کریں۔ ورنہ تاریخ ہمیں “غافل قوموں” کے زمرے میں لکھ دے گی جنہوں نے اپنی “ریاستِ مدینہ” جیسا خواب خود اپنے ہاتھوں مسمار کر دیا۔”خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا”
اللہ اس دیس کو “زوال کی اتھاہ گہرائیوں” سے نکال کر “عروج کی معراج” تک پہنچائے۔ آمین
4