69

محکمہ اطلاعات کی نئی سمت، صحافت کے مستقبل کا سوال احمد نور

خیبرپختونخوا میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ محض سرکاری سرگرمیوں کی تشہیر کا ادارہ نہیں بلکہ ریاست، حکومت، عوام اور میڈیا کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ آج جب اطلاعات کا میدان روایتی اخبارات اور ریڈیو سے نکل کر ڈیجیٹل میڈیا، سماجی رابطوں، فوری خبروں، مصنوعی ذہانت اور عالمی اطلاعاتی جنگ تک پھیل چکا ہے، ایسے میں محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اسی تناظر میں ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ انصاراللہ خلجی کے سامنے ایک بڑا موقع موجود ہے۔ یہ موقع صرف محکمہ چلانے کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے اطلاعاتی نظام کو جدید، فعال، شفاف اور ضلعی سطح تک مؤثر بنانے کا ہے۔ محکمہ اطلاعات کے سرکاری طور پر بیان کردہ فرائض میں تشہیر، تعلقات عامہ، اخبارات، رسائل، کتابیں، مطبوعات، فلم و دستاویزی مواد اور دیگر متعلقہ امور شامل ہیں۔ پریس رجسٹرار کے شعبے کو اخبارات کی رجسٹریشن، میڈیا فہرست، پریس کلبوں کے معاملات، صحافیوں کی فلاح، امدادی گرانٹس اور صحافتی امور سے بھی جوڑا گیا ہے۔ لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ذمہ داریوں کو فائلوں سے نکال کر عملی میدان میں محسوس کیا جائے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اطلاعاتی نظام کی مضبوطی سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ سرکاری ترقیاتی پروگرام میں ’’ضم اضلاع میں اطلاعاتی نظام کی توسیع‘‘ کا منصوبہ پہلے ہی موجود ہے، جبکہ 2026-27 کے ترقیاتی پروگرام میں اس منصوبے کے لیے مالی تخصیص بھی درج ہے۔ اسی طرح ضم اضلاع کے پریس کلبوں کی بحالی کے لیے بھی منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ منصوبے کاغذ سے نکل کر زمین پر کب نظر آئیں گے؟ وانا، میرعلی، میران شاہ، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی اور دیگر اضلاع میں مؤثر ضلعی اطلاعاتی دفاتر صرف سرکاری پریس ریلیز جاری کرنے کے لیے نہیں بلکہ مقامی صحافیوں کو سہولت، معلومات تک رسائی، سرکاری اداروں سے رابطہ، فوری تصدیق اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ ایک فعال ضلعی اطلاعاتی دفتر مقامی صحافی کے لیے وہی کردار ادا کرسکتا ہے جو صوبائی سطح پر مرکزی محکمہ اطلاعات ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر جنوبی وزیرستان جیسے حساس اور جغرافیائی لحاظ سے دور علاقوں میں اطلاعاتی نظام کی موجودگی قومی ضرورت ہے۔ جہاں امن و امان، ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل براہ راست قومی بیانیے سے جڑے ہوں، وہاں سرکاری اور صحافتی رابطے کا مضبوط نظام ناگزیر ہے۔ صحافی برادری کے مسائل کسی ایک شہر یا ایک پریس کلب تک محدود نہیں۔ مالی مشکلات، علاج معالجہ، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت، اخبارات کے واجبات، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پریس کلبوں کے انتظامی تنازعات ایسے مسائل ہیں جن پر مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے 2026 میں صحافیوں کی فلاح کے لیے بلاسود قرضوں، فلاحی فنڈ اور اخبارات کے واجبات کی ادائیگی جیسے اقدامات کا اعلان کیا۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ صحافیوں کے فلاحی انڈومنٹ فنڈ کی بنیاد میں اضافہ کیا گیا جبکہ اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 40 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کی گئی اور مزید 40 کروڑ روپے آئندہ بجٹ میں جاری کرنے کی بات بھی سامنے آئی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اعلانات کی شفاف اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ اخبارات کو واجبات کی ادائیگی صرف اخبارات کے مالکان کا مسئلہ نہیں۔ اس کا براہ راست تعلق صحافی، رپورٹر، فوٹوگرافر، کیمرہ مین، نیوز ڈیسک اور دیگر میڈیا کارکنوں کے روزگار سے ہے۔ اسی لیے حکومت نے اخبارات کے واجبات کی ادائیگی کو صحافیوں کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی سے مشروط کرنے کی بات بھی کی ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ پریس کلبوں کے اندرونی اختلافات ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ذاتی، گروہی یا تنظیمی اختلافات جب صحافتی اداروں کو تقسیم کردیں تو نقصان صرف چند صحافیوں کا نہیں ہوتا؛ اس سے پورا صحافتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ مارچ 2026 میں محکمہ اطلاعات کی ایک سرکاری کھلی کچہری میں مختلف پریس کلبوں کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹیوں کے قیام اور پریس کلبوں کو بروقت گرانٹس کی فراہمی کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔ اب اس عمل کو مستقل نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر پریس کلب میں شفاف انتخابات، واضح آئینی طریقہ کار، رکنیت کا باقاعدہ ریکارڈ، مالی حسابات اور اختلافات کے حل کے لیے غیر جانب دار مصالحتی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ محکمہ اطلاعات کا کردار کسی گروہ کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں بلکہ قانون، میرٹ اور صحافتی اتحاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں خبر چند منٹ میں ہر شخص تک پہنچ جاتی ہے، مگر خبر کے پس منظر، قومی مفاد، عالمی سیاست اور مستقبل کے ممکنہ اثرات کو سمجھانے کا کام کالم نگار کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے کالم نگار ملکی اور بین الاقوامی سطح پر صوبے کا مؤقف، مسائل اور امکانات اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ محکمہ اطلاعات کالم نگاروں اور تحقیقی لکھاریوں کے لیے باقاعدہ فکری و تحقیقی پروگرام، تربیتی نشستیں، مطالعاتی ورکشاپس اور اعترافِ خدمات کا نظام قائم کرے۔جو قلم کار برسوں سے دہشت گردی، امن، قبائلی اضلاع، افغانستان، معیشت، تعلیم اور قومی سلامتی جیسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں، ان کی خدمات کو بھی سرکاری سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ صدارتی اور صوبائی اعزازات کے لیے مستحق صحافیوں، کالم نگاروں اور میڈیا کارکنوں کی میرٹ پر سفارشات ایک منظم اور شفاف طریقے سے مرتب کی جاسکتی ہیں۔ آج کی صحافت صرف اخبار کے صفحے تک محدود نہیں۔ جھوٹی خبر، مصنوعی مواد، جعلی اکاؤنٹس، گمراہ کن اطلاعات اور معلوماتی جنگ قومی سلامتی کے لیے بھی چیلنج بن چکے ہیں۔ محکمہ اطلاعات کو ضلعی سطح پر صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل صحافت، معلومات کی تصدیق، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، سائبر تحفظ، تصویری و ویڈیو تصدیق اور تحقیقاتی صحافت کی تربیت کا پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ خوش آئند امر ہے کہ محکمہ اطلاعات کی جدیدکاری اور ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ بھی 2026-27 کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔ لیکن ڈیجیٹلائزیشن صرف کمپیوٹر خریدنے کا نام نہیں؛ یہ سوچ، تربیت، رفتار، شفافیت اور معلومات کی درستگی کا نام ہے۔
اگر ڈائریکٹر جنرل اطلاعات انصاراللہ خلجی محکمہ اطلاعات کو واقعی نئی سمت دینا چاہتے ہیں تو چند فوری اقدامات ان کی ترجیحات میں ہونے چاہئیں۔ اول، تمام اضلاع بالخصوص ضم اضلاع میں اطلاعاتی دفاتر کو مکمل طور پر فعال کیا جائے۔ دوم، ہر ضلع میں صحافیوں کے مسائل کے لیے باقاعدہ رابطہ افسر اور شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ سوم، پریس کلبوں کے تنازعات کے حل کے لیے غیر جانب دار مصالحتی نظام بنایا جائے۔ چہارم، اخبارات کے واجبات کی ادائیگی میں شفاف، قابلِ نگرانی اور مقررہ مدت کا نظام بنایا جائے۔ پنجم، صحافیوں کی فلاحی اسکیموں کو کاغذی کارروائی سے نکال کر مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔ششم، کالم نگاروں، تحقیقی صحافیوں اور آزاد لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ صوبائی سطح کا اعزاز قائم کیا جائے۔ ہفتم، قومی و بین الاقوامی سطح پر خیبرپختونخوا کے صحافیوں اور کالم نگاروں کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام تشکیل دیے جائیں۔ اور سب سے بڑھ کر، محکمہ اطلاعات کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ادارے، صحافت اور قومی مفاد کا نمائندہ بنایا جائے۔ خیبرپختونخوا اس وقت امن، معیشت، ترقی اور اطلاعاتی محاذ پر ایک حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں مضبوط محکمہ اطلاعات حکومت کی تشہیر سے کہیں بڑھ کر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی تعمیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انصاراللہ خلجی کے لیے یہ ایک بڑا امتحان بھی ہے اور ایک تاریخی موقع بھی۔ اگر ضلعی اطلاعاتی دفاتر بحال ہوتے ہیں، ضم اضلاع میں صحافیوں کو مؤثر ادارہ جاتی سہولت ملتی ہے، پریس کلبوں کے اختلافات ختم کرنے کے لیے شفاف نظام بنتا ہے، اخبارات کے واجبات بروقت ادا ہوتے ہیں، صحافیوں کی فلاحی اسکیمیں حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہیں اور کالم نگاروں و تحقیقی صحافیوں کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے تو محکمہ اطلاعات محض ایک سرکاری دفتر نہیں رہے گا بلکہ خیبرپختونخوا کی اجتماعی آواز بن جائے گا۔ یہ وقت روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھنے کا ہے۔یہ وقت اطلاعات کو طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھنے کا ہے۔
اور یہ وقت صحافی کو محض خبر دینے والا نہیں بلکہ ریاست، معاشرے اور تاریخ کے درمیان ایک ذمہ دار پل تسلیم کرنے کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں