سرمایہ دارانہ نظام، مادہ پرستی اور نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں لوگ اپنے سامنے ہوتے جرائم کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں، وہاں اسلام آباد کے نائتھ ایونیو شاہین چوک پر پیش آنے والے ایک واقعے نے انسانیت، غیرت اور فرض شناسی کی ایک ایسی لازوال داستان رقم کی ہے جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وردی صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ مظلوم کی حفاظت اور ملک و قوم کے وقار کے تحفظ کا نام ہے۔ دوسری طرف، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی قیادت میں وفاقی پولیس نے جدید ترین سائنسی خطوط اور مصنوعی ذہانت (AI) کو بروئے کار لاتے ہوئے محض نو گھنٹوں میں سفاک قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔غیرت اور شجاعت کا استعارہ: گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید اپنے سرکاری کام کے سلسلے میں گزر رہے تھے جب انہوں نے نائتھ ایونیو پر ایک بے بس خاتون کو موٹر سائیکل سوار درندے کے چنگل میں دیکھا۔ وہ خاتون، جو ملزم سعد عباسی کی موٹرسائیکل سروس استعمال کر رہی تھی، اس وقت اپنی عزت اور جان بچانے کے لیے مزاحمت کر رہی تھی کیونکہ ملزم اسے دھوکے سے کسی نامعلوم یا ویران جگہ لے جانے کی کوشش میں تھا۔ ایک ایسے موڑ پر جہاں بہت سے لوگ مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں، پاک فضائیہ کے اس غیرت مند افسر نے ایک سچے اور ذمہ دار شہری اور ایک باوقار فوجی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے گاڑی روکی، اپنا تعارف کرایا اور مظلوم خاتون کی ڈھال بن گئے۔
ملزم سعد عباسی، جس کی نیت بد تھی اور جو جرائم کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا، نے بوکھلاہٹ اور سرکشی میں فوراً پستول نکال کر گروپ کیپٹن پر فائر کر دیا۔ عاصم طارق شہید نے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کیا، لیکن انہوں نے اپنی جان دے کر اس ملک کی ایک بیٹی کی آبرو اور زندگی بچا لی۔ ان کا یہ اقدام ہر اس باشعور اور غیور شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو معاشرے میں سدھار دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ کے شاہین صرف فضاؤں میں ہی دشمن کو پچھاڑنا نہیں جانتے، بلکہ زمین پر بھی مظلوموں کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان نثار کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کا یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے، لیکن ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔کیس کی حساسیت اور نوعیت کو دیکھتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے روایتی تفتیش کے بجائے جدید سائنسی اور تکنیکی وسائل کا استعمال کیا۔ یہ پولیس کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ متاثرہ خاتون ملزم کے گھر یا مکمل شناخت سے ناواقف تھی اور محض دس دن سے اس کی رائڈ سروس استعمال کر رہی تھی۔ ملزم انتہائی شاطر نکلا؛ اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون بند کیا، سم نکال پھینکی، لباس تبدیل کیا اور قانون کو دھوکا دینے کے لیے اسکائی ویز کا ٹکٹ لے کر فرار ہونے کی کوشش کی۔آئی جی اسلام آباد نے فوری طور پر 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور خود اس آپریشن کی نگرانی کی۔ اس کیس کی سب سے بڑی خاص بات جدید مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تھا۔ پولیس نے AI کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت، لباس کی تبدیلی اور موٹرسائیکل کی ٹریکنگ کی اور تمام تر مربوط ٹیم ورک کی بدولت فرار ہونے سے پہلے ہی، محض نو گھنٹوں کے اندر سفاک قاتل سعد عباسی کو دھر لیا۔اس پورے آپریشن کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی مسلسل کیس کی نگرانی کرتے رہے اور لمحہ بہ لمحہ تفتیش کی پیش رفت سے آگاہ رہے۔ آئی جی علی ناصر رضوی اور ان کی ٹیم نے جس پیشہ ورانہ مہارت، تندہی اور رفتار کے ساتھ اس ہائی پروفائل کیس کو حل کیا، وہ پاکستان کی پولیسنگ کی تاریخ میں ایک روشن مثال ہے۔ دورانِ پریس کانفرنس آئی جی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ یہ ملزم ایک ماہ قبل بھی ایک خاتون کو اسی طرح دھوکے سے میانوالی لے گیا تھا، لیکن صلح کی وجہ سے بچ نکلا تھا۔ اگر پولیس اسے آج گرفتار نہ کرتی تو نہ جانے کتنی اور خواتین اس درندے کا شکار بنتیں۔گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے جو خون دیا ہے، وہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ اسلام آباد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اپنا پہلا اور اہم ترین فرض پورا کر دیا ہے۔ اب باری ہماری عدالتوں اور نظامِ انصاف کی ہے کہ وہ اس سفاک قاتل کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعے ایسی عبرت ناک سزا سنائیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن جائے۔ آئی جی علی ناصر رضوی اور ان کی پوری ٹیم اس شاندارکامیابی پر قوم کی طرف سے تحسین اور سلام کی حقدار ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب نیت صاف ہو اور ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کیا جائے، تو انصاف کی فراہمی میں دیر نہیں لگتی۔
51