اسلام آباد : یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری کی قیادت میں پاکستان کی ممتاز کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے زبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو سے پاکستانی سفارت خانے میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،محمد مدثر ٹیپو، جنہوں نے حال ہی میں ازبکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ازبکستان کے دورے اور کاروباری مواقع میں دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح دونوں ممالک کے درمیان معاشی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنانا اور تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کا مثبت تشخص اور دونوں ممالک میں موجود وسیع تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہو سکے،سفیر پاکستان نے کہا کہ ازبکستان بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس سے پاکستانی کمپنیوں اور ہنر مند افرادی قوت کے لیے بہترین مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، لیدر، انفراسٹرکچر اور دیگر صنعتی شعبوں کو دوطرفہ تعاون کے لیے انتہائی موزوں قرار دیا،انہوں نے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر علاقائی روابط اور تجارتی سہولیات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گی۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستانی سفارت خانہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا،ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر ظہیر عباس نے وفد کو بتایا کہ ایک وقت میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 800 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم افغانستان کے راستے ٹرانزٹ میں رکاوٹوں اور سرحدی راستوں کی بندش کے باعث تجارتی حجم میں نمایاں کمی آئی۔ انہوں نے بتایا کہ اب ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے کنٹینرز کی آمدورفت تقریباً 4 ہزار سے بڑھ کر 14 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ ترسیل کا وقت بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے تجارتی سہولیات، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے،ظہیر عباس نے بتایا کہ ازبکستان خام کپاس کی برآمد سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی طرح لیدر کے شعبے میں بھی ازبک کمپنیاں پاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کی خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فارماسیوٹیکل مصنوعات ازبکستان میں اعلیٰ معیار کے باعث نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل، لیدر اور فارماسیوٹیکل ازبکستان کے ترجیحی شعبے ہیں، جہاں پاکستانی مصنوعات معیار اور مسابقتی قیمتوں کی وجہ سے نمایاں برتری رکھتی ہیں،اس موقع پر آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سرپرستِ اعلیٰ احسن ظفر بختاوری نے پاکستانی سفیر اور سفارت خانے کا وفد کو سہولت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا انتہائی اہم اور اسٹریٹجک ملک ہے کیونکہ اس کی سرحدیں تمام وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملتی ہیں، اس لیے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے ازبکستان کو مرکزی گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے۔احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ٹورازم کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط میں غیر یقینی صورتحال نے تجارت کو متاثر کیا ہے، جبکہ مضبوط اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ رابطے ہی خطے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔انہوں نے پاکستان، ازبکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان ایک مؤثر ریلوے کوریڈور کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی، تجارت میں اضافہ اور علاقائی انضمام کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے حقیقی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے ویزا پالیسی کو مزید آسان بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں نے عوامی روابط کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستان کو معیاری صحت اور تعلیم کی سہولیات کے حوالے سے ایک علاقائی مرکز کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے،ظفر بختاوری نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفیر محمد مدثر ٹیپو کی متحرک قیادت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی رفتار دے گی،انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات نے تجارت اور اقتصادی انضمام کو متاثر کیا ہے، جبکہ افغانستان کے ذریعے بہتر علاقائی روابط وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کی تجارت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کاروباری بhرادری دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور طویل المدتی کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لیے سفارت خانے کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی،
20