اسلام آباد(سٹی رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ ق کی اوورسیز قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ ق برطانیہ اور صدر پاکستان مسلم لیگ ق برمنگھم نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ھے کہ آزادکشمیر انسانی جانوں کا ضیاع قابل مذمت ہے، مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔ دونوں لیڈروں نے اپنے ایک بیان میں آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں، بالخصوص میرپور، راولاکوٹ اور مظفر آباد سمیت دیگر مقامات پر پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خاص طور پر ان واقعات میں ہونے والی شہادتوں کی مذمت کی۔ لورز آف چوہدری شجاعت حسین کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر شیخ شوکت علی اور محمد شفیق کشمیری نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش امر ہے۔ انسانی جان کا تحفظ ہر مہذب معاشرے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ھوتی ہے، تشدد کسی مسئلے کو حل نہیں۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا ریاست میں حکومت ماں کا کردار ادا کرتی ہے اور بڑے تحمل و بردباری سے لوگوں کے مسائل سنتی ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ تشدد کا راستہ کوئی مثبت نتیجہ نہیں دے سکتا بلکہ اس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے، واحد اور بہترین راستہ مذاکرات و افہام و تفہیم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ اوورسیز متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام واقعات کی شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، اور آزاد کشمیر کے عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی مسائل اور مطالبات کو سننا، ان کے ساتھ بامعنی مکالمہ کرنا اور قانونی و جمہوری ذرائع سے ان کا حل تلاش کرنا ہی پائیدار امن اور امان کی ضمانت ہے۔ تشدد، طاقت کے غیر ضروری اور ناجائز استعمال اور تصادم سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر ایک نہایت حساس خطہ ہے اور مسئلہ کشمیر کے تناظر میں اس کی خصوصی اہمیت ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے تحریکِ آزادی کشمیر میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ حالات میں دانشمندانہ، ذمہ دارانہ اور دور اندیش طرزِ عمل اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے یا ایسے عناصر کو فائدہ حاصل ہو جو کشمیری عوام اور پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ تحمل، برداشت، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے احترام کو مقدم رکھا جائے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ اور ایسے عمل سے اجتناب کیا جائے جس سے کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچے اور پاکستان و کشمیر دشمن طاقتیں اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ دونوں لیڈروں ڈاکٹر شیخ شوکت علی اور محمد شفیق کشمیری نے زور دے کر قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کو دہراتے ھوئے کہا کہ کشمیر آج بھی پاکستان کی شہ رگ ھے اور کشمیر کی مکمل آزادی اور ترقی کے راستے پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔
4