58

پاکستان میں سیلابوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے،امیر محی الدین ، موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے انسان اور فطرت کا تحفظ ضروری ہے،فرزانہ نائیک

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور ہلالِ احمر پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا ،سیمینار میں حکومتی نمائندوں ترقیاتی شراکت داروں ماہرین تعلیم سول سوسائٹی نجی شعبے اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے شرکت کی اور قدرتی وسائل پر مبنی حل کو ملک بھر میں فروغ دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ،تقریب کے مہمانِ خصوصی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے ایڈیشنل سیکریٹری امیر محی الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلابوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور گلیشیئرز کے پگھلنے اور شہری سیلاب جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے انہوں نے جنگلات چراگاہوں آبی ذخائر اور محفوظ قدرتی علاقوں کے تحفظ کو موسمیاتی لچک اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور ہلالِ احمر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ ہمارا ادارہ گزشتہ کئی برسوں سے قدرتی وسائل پر مبنی مختلف اقدامات کے ذریعے پانی کے تحفظ سیلابی خطرات میں کمی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور مقامی آبادی کی موسمیاتی لچک میں بہتری کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 320 سے زائد منصوبوں کے ذریعے گلگت بلتستان خیبر پختونخوا اور پنجاب کے 16 اضلاع میں پانچ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں ہلالِ احمر پاکستان کی چیئرپرسن محترمہ فرزانہ نائیک کا کہنا تھا کہ موسمیاتی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے انسان اور فطرت دونوں کا تحفظ ضروری ہے۔ قدرتی وسائل پر مبنی حل کو فروغ دینے کے لیے مضبوط شراکت داری مؤثر پالیسی سازی پائیدار سرمایہ کاری اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے پینل ڈسکشن بھی سیمینار کا حصہ تھی شرکاء کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت انسانی ہمدردی کی تنظیموں، تعلیمی و تحقیقی اداروں سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے قدرتی وسائل پر مبنی حل کو موسمیاتی موافقت آفات سے بچاؤ اور پائیدار ترقی کی قومی حکمت عملی کا مؤثر حصہ بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں