16

ندیم گلزار کھوکھر صحافت کے آسمان پر وقار کا روشن ستارہ از قلم: نسرین امیرزمان

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی اصل پہچان ان کا عہدہ نہیں، بلکہ ان کا کردار ہوتا ہے۔ وہ جہاں بھی ہوں، اپنے اخلاق، انکساری، دیانت اور مثبت طرزِ فکر سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ صحافت کے میدان میں ندیم گلزار کھوکھر کا نام بھی انہی باوقار شخصیات میں لیا جاتا ہے جن کے لیے قلم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک امانت، ایک ذمہ داری اور معاشرے کی خدمت کا وسیلہ ہے۔حبدار اخبار سے وابستہ ان کی پیشہ ورانہ خدمات ہوں یا صحافتی میدان میں ان کی موجودگی، ان کے انداز میں سنجیدگی، شائستگی اور وقار نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ ایک سچا صحافی صرف خبر سنانے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر سچائی، شعور اور ذمہ داری کا پیغام بھی دیتا ہے۔ یہی خوبی ایک صحافی کو ہجوم سے ممتاز کرتی ہے۔کہ وہ نئے لکھنے والوں اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب بہت سے لوگ اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں، وہاں کسی نوآموز قلم کار کی تحریر کو جگہ دینا، اس پر اعتماد کرنا اور اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا دراصل علم و ادب کی خدمت ہے۔جب میری تحریر کو انہوں نے اپنے اخبار میں جگہ دی تو یہ صرف ایک کالم کی اشاعت نہیں تھی، بلکہ ایک نئے لکھنے والے کے حوصلے میں اضافہ تھا۔ ایک قلم کار کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی آواز کو سننے والا کوئی ایسا شخص موجود ہو جو صلاحیت کی قدر جانتا ہو۔ ایسے لوگ صرف صفحات نہیں سجاتے بلکہ خوابوں کو حقیقت کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ندیم گلزار کھوکھر کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کی خوش اخلاقی اور عاجزی ہے۔ بڑے لوگ وہ نہیں ہوتے جن کے پاس بڑے عہدے ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے رویے بڑے ہوں۔ نرم گفتاری، دوسروں کا احترام، مثبت رہنمائی اور انسان دوستی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی شخصیت کو حقیقی معنوں میں عظیم بنا دیتے ہیں۔صحافت کا شعبہ صرف خبروں کی دنیا نہیں بلکہ اعتماد کی دنیا بھی ہے۔ یہاں قلم کی طاقت کا اصل حسن تب نمایاں ہوتا ہے جب اس کے ساتھ کردار کی مضبوطی بھی شامل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ایسے صحافی ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جو اپنی ذات سے زیادہ اپنے پیشے کے وقار کا خیال رکھتے ہیں۔ہمیں ایسے سینئر صحافیوں کی ضرورت ہے جو نئی نسل کے لیے دروازے کھولیں، ان کے حوصلے بلند کریں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ محنت، دیانت اور مسلسل سیکھنے کا سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ جو شخص دوسروں کی کامیابی میں خوشی محسوس کرے، وہ درحقیقت اپنے کردار کی بلندی کا ثبوت دیتا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ندیم گلزار کھوکھر کو مزید عزت، صحت، کامیابی اور استقامت عطا فرمائے، ان کے قلم میں مزید تاثیر، ان کی آواز میں مزید سچائی اور ان کی خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے۔ اللہ انہیں ہمیشہ حق، دیانت اور انسان دوستی کے راستے پر قائم رکھے، تاکہ وہ اسی طرح نئی صلاحیتوں کی رہنمائی کرتے رہیں اور صحافت کے وقار کو مزید بلند کرتے رہیں۔ایسے لوگ اداروں کی زینت نہیں ہوتے، بلکہ ادارے ان کی موجودگی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جو قلم دوسروں کے لیے روشنی بانٹے، وہ خود بھی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ روشن رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں