42

عنوان: ٹیکس دینے والے شہری کا جرم کیا ہے؟ تحریر : سیدہ شبانہ رضوی ( اسلام آباد)

کہتے ہیں ٹیکس مہذب ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔ یقیناً ہوتا ہوگا، مگر شاید ہماری ریاست نے اس جملے کا مطلب کچھ یوں سمجھا ہے کہ شہری صرف ٹیکس دینے کے لیے پیدا ہوتے ہیں، سہولتیں مانگنے کے لیے نہیں۔چند روز پہلے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جو برطانیہ سے آئے تھے۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ ناخن کاٹتے ہوئے بلیڈ ذرا سا پھسلا، معمولی سی چوٹ لگی اور خون بہنے لگا۔ گھر والوں نے طبی امداد کو فون کیا۔ چند ہی لمحوں میں عملہ پہنچ گیا، پٹی کی، مکمل معائنہ کیا، ضروری معلومات درج کیں، اور ان کے بقول کچھ عرصے بعد حکومت کی جانب سے انہیں مالی معاونت بھی ملنا شروع ہو گئی۔یہ واقعہ سن کر بے اختیار اپنا ملک یاد آ گیا، جہاں اگر سرکاری ہسپتال میں معمولی زخم لے کر چلے جائیں تو پہلے پرچی، پھر قطار، پھر ڈاکٹر کی تلاش، پھر مشین خراب، اور اگر سب کچھ ٹھیک بھی ہو تو ٹیسٹ کی تاریخ کئی ماہ بعد۔ اگر مریض اس دوران دنیا سے رخصت ہو جائے تو شاید اگلی تاریخ پر اس کے لواحقین رپورٹ وصول کر سکیں!
پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ واقعی قابلِ داد ہے۔ تنخواہ آنے سے پہلے ہی حکومت اپنا حصہ وصول کر لیتی ہے۔ اگر قسمت سے ایک انکریمنٹ مل جائے اور تنخواہ حکومتی سلیب سے صرف ایک روپیہ بھی اوپر نکل جائے تو مبارک ہو! آپ اچانک زیادہ “امیر” قرار دے دیے جاتے ہیں، اس لیے اب زیادہ ٹیکس بھی ادا کیجیے۔اصل مزہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
بجلی استعمال کریں تو ٹیکس، گیس جلائیں تو ٹیکس، خریداری کریں تو ٹیکس، کچھ بیچیں تو ٹیکس، بینک جائیں تو ٹیکس، جائیداد لیں تو ٹیکس، گاڑی رکھیں تو ٹیکس۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر رسید پر ایک ہی جملہ لکھا ہو: “آپ کی جیب ہماری قومی امانت ہے۔”پھر بھی اگر برسوں کی محنت سے کچھ رقم بچا لیں تو پریشان نہ ہوں، حکومت آپ کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے اس پر بھی ٹیکس وصول کر لے گی۔ آخر شہری کو یہ احساس تو رہنا چاہیے کہ اس کی کامیابی میں حکومت کا بھی “حصہ” ہے!اور بدلے میں کیا ملتا ہے؟سرکاری اسکول، جہاں والدین ٹیکس بھی دیتے ہیں اور پھر ٹیوشن کی فیس بھی ادا کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال، جہاں علاج سے زیادہ صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، گندے نالے، مہنگی بجلی، مہنگی گیس، گرتی ہوئی قوتِ خرید، بڑھتی بے روزگاری، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود سکیمرز ایسے دندناتے پھرتے ہیں جیسے انہیں بھی کوئی سرکاری این او سی حاصل ہو۔سوال صرف یہ ہے کہ آخر ایک ٹیکس دینے والا شہری بدلے میں کیا حاصل کرتا ہے؟
ٹیکس دینا کوئی احسان نہیں، یہ ہر شہری کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ لیکن معیاری تعلیم، بروقت علاج، انصاف، تحفظ اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا بھی ریاست کی اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہے۔ جب ریاست صرف وصول کرنا جانتی ہو اور خدمت کے تقاضے پورے نہ کرے تو ٹیکس قومی ذمہ داری کے بجائے ایک اضافی بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔پاکستان کو ٹیکس کی شرح بڑھانے سے پہلے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ ٹیکس دہندگان کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ان کے پیسے سے واقعی ان کی زندگی بہتر بن رہی ہے، نہ کہ صرف سرکاری اعداد و شمار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایک ریاست کی اصل طاقت صرف اس کے خزانے میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو اس کے شہری اپنے ٹیکس کے بدلے محسوس کرتے ہیں۔ جس دن ٹیکس دہندہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پیسے کے بدلے اسے عزت، سہولت، تحفظ اور انصاف مل رہا ہے، اسی دن ٹیکس دینا بوجھ نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ محسوس ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں