80

مون سون کی بارشیں، ڈینگی کا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں از قلم نسرین امیرزمان

مون سون کی بارشیں قدرت کا حسین تحفہ ہیں۔ یہ زمین کو سیراب کرتی ہیں، موسم کو خوشگوار بناتی ہیں اور ماحول میں تازگی بھر دیتی ہیں۔ مگر جب یہی بارشیں ہمارے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے ملتی ہیں تو نعمت، زحمت میں بدل جاتی ہے۔ گلیوں، چھتوں، صحنوں، ٹوٹے برتنوں، ٹائروں اور کھلے ڈرموں میں جمع ہونے والا پانی مچھروں، خصوصاً ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے بہترین جگہ بن جاتا ہے۔ڈینگی ایک خطرناک بیماری ہے جو صرف ایک مچھر کے کاٹنے سے انسان کو شدید بخار، جسم اور جوڑوں کے درد، کمزوری اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈینگی کے پھیلاؤ میں صرف موسم کا نہیں بلکہ ہماری غفلت کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں تو ڈینگی کے خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے وفائی صرف حکومت یا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا قومی اور اخلاقی فرض بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، گلیوں اور محلوں کو صاف رکھیں، کوڑا کرکٹ مقررہ جگہ پر پھینکیں، پانی جمع نہ ہونے دیں اور پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔ بارش کے بعد جمع شدہ پانی کو فوری طور پر خشک کرنا اور نالیوں کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔والدین بچوں کو بارش کے بعد گندے پانی میں کھیلنے سے روکیں، جبکہ ہر فرد پوری آستین والے کپڑے پہننے، مچھر بھگانے والی ادویات استعمال کرنے اور خاص طور پر صبح و شام کے اوقات میں احتیاط کرنے کی عادت اپنائے۔ اگر کسی کو تیز بخار، شدید جسم درد یا دیگر مشتبہ علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔مون سون کی خوبصورتی سے لطف اٹھانا ہمارا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ احتیاط اور ذمہ داری نبھانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیں، ڈینگی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا امتحان بھی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے تو نہ صرف ڈینگی بلکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بھی اپنے خاندان اور معاشرے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔آئیے اس مون سون میں یہ عہد کریں کہ بارشوں کا استقبال صفائی، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کریں گے، تاکہ یہ موسم خوشیوں، صحت اور زندگی کی علامت بنے، نہ کہ بیماری اور پریشانی کا سبب ہو جاۓ-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں