اسلام آباد۔3نومبر (کامرس رپورٹر):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے سٹیٹ بینک کو جدید خطوط پر استوار کرنے، بینکاری شعبے میں اصلاحات متعارف کرانے، تعلیمی اداروں کی بہتری اور سرکاری شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے، ان کی خدمات پاکستان کے ادارہ جاتی ارتقا میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کانفرنس 2026 کے موقع پر ڈاکٹر عشرت حسین کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی پیشہ وارانہ زندگی کا ایک نمایاں پہلو ادارہ جاتی اصلاحات کا مسلسل ایجنڈا رہا ہے، انہوں نے سٹیٹ بینک کی قیادت سے لے کر آئی بی اے اور حکومتی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات تک ہر ذمہ داری میں تبدیلی اور بہتری کے لئے کام کیا۔ وفاقی وزیر نے ڈاکٹر عشرت حسین کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقات 1990 کی دہائی کے اواخر میں اس وقت ہوئی جب ڈاکٹر عشرت حسین نے گورنر سٹیٹ بینک کا منصب سنبھالا تھا اور وہ خود ایک غیر ملکی بینک میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے اس وقت مرکزی بینک کے تحقیقی شعبے کو ازسرنو منظم کرنے کے لئے بینک کے چیف اکانومسٹ کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی جس سے سٹیٹ بینک کے تحقیقی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے تقریباً تین دہائیاں قبل ہی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے سٹیٹ بینک میں آئی ٹی کمیٹی قائم کی اور انہیں اس کمیٹی کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی یہ اس وقت ایک غیر معمولی فیصلہ تھا کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے فرد کو مرکزی بینک کی اہم کمیٹی کی قیادت دی گئی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے سٹیٹ بینک کی جدید خطوط پر تبدیلی، بینکاری شعبے کی بہتری اور ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، آج سٹیٹ بینک ملک کے بہترین ریگولیٹڈ اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی موجودہ حیثیت کے قیام میں ڈاکٹر عشرت حسین کی خدمات اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے سٹیٹ بینک سے اپنی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ اختیار کرنے کے بجائے آئی بی اے کی قیادت سنبھالی اور اس ادارے میں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 2018 میں پاکستان واپسی کے بعد بھی انہیں ڈاکٹر عشرت حسین کی رہنمائی اور مشاورت سے استفادہ کرنے کا موقع ملا، بعدازاں ڈاکٹر عشرت حسین نے حکومتی انتظامی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس حوالے سے اہم کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے کی سربراہی اور وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کا کام سونپا گیا تو انہوں نے ڈاکٹر عشرت حسین سے رابطہ کرکے ان کی تیار کردہ رپورٹ حاصل کی اور اسے اصلاحاتی عمل کے لئے بنیادی دستاویز بنایا ،ڈاکٹر عشرت حسین کی رپورٹ میں تحقیق، تجزیے اور سفارشات کے حوالے سے بھرپور محنت کی گئی تھی ،ہم نے اس رپورٹ کی سفارشات پر ایک ہی مرحلے میں عملدرآمد کے بجائے مرحلہ وار پیشرفت کا فیصلہ کیا تاکہ وزارتوں اور ان کے منسلک محکموں میں اصلاحات کو عملی طور پر آگے بڑھایا جا سکے ،اس عمل کے تحت پاسکو، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن اور پاک پی ڈبلیوڈی جیسے اداروں کی بندش سمیت متعدد اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ 26 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے گئے ہیں، پی آئی اے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ڈسکوز کے علاوہ بعض بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے حوالے سے بھی اقدامات جاری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات کا عمل آسان نہیں اور اس میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض حلقے اصلاحات کی رفتار سے مطمئن نہیں تاہم 78 سال سے جاری نظام میں تبدیلی لانے کے لئے مستقل مزاجی اور مرحلہ وار اقدامات ضروری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے اچھے کام کو نظرانداز کرکے ہر مرتبہ نئے سرے سے آغاز کرنا درست طرز عمل نہیں بلکہ پہلے سے موجود تحقیق، تجربے اور سفارشات سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاحات کو آگے بڑھانا چاہئے ،ایک ہی کام بار بار اسی انداز میں کرتے ہوئے مختلف نتائج کی توقع رکھنا درست نہیں، اس لئے ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھنا اور درپیش مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔
1
