راولپنڈی(کامرس رپورٹر)پاکستان میں ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کا دورہ کیا، ترک سفیر کے ہمراہ سفارت خانہ ترکی کے کمرشل کونسلر اینس ملک بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر آر سی سی آئی نوشیروان خلیل خان ، پیٹرن ان چیف سہیل الطاف ، سینئر نائب صدر وسیم اسلم، نائب صدر اکرام عباسی اور آر سی سی آئی کے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی شریک ہوئے۔ملاقات کے دوران ترک سفیر عرفان نیزیروغلو نے آر سی سی آئی کی نو منتخب قیادت کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں برادر ممالک کے مضبوط سیاسی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم اقتصادی تعاون میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
ترک سفیر نے کہا کہ دیرینہ دوستانہ تعلقات کے باوجود پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ خوراک، سیاحت، معدنیات، تعلیم، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرے اور مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) کے ذریعے کاروباری تعاون کو فروغ دے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے درمیان روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ ترک سفیر نے پاکستانی تاجروں کو 25 سے 28 نومبر تک استنبول میں منعقد ہونے والے حلال ایکسپو سمیت ترکی میں دیگر تجارتی نمائشوں میں شرکت کی دعوت بھی دی۔صدر آر سی سی آئی نوشیروان خلیل خان نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں ترک سفیر کو چیمبر کی سرگرمیوں، کاروباری اقدامات اور مستقبل کے پروگراموں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آر سی سی آئی اسلام آباد میں ترک سفارت خانے کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا تاکہ تجارتی وفود کے تبادلوں، بی ٹو بی روابط اور مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔ پیٹرن ان چیف آر سی سی آئی سہیل الطاف نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے فریم ورک کی طرز پر سہ فریقی اقتصادی معاہدے کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے مشترکہ ویزا سہولت، ترجیحی تجارتی معاہدوں اور کاروباری افراد کی آسان نقل و حرکت کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بہت ہی قریبی تعلقات ہیں ، 1998 میں جب وہ صدر چیمبر تھے تو انہیں اس وقت میئر استنبول اور موجودہ صدر رجب طیب اردوان کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہوں نے پاکستان اور ترکی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط اقتصادی اور کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ترک سفیر نے پاکستانی کاروباری افراد اور نجی شعبے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
1
