4

چوہدری چندو لال سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ایک صاحب کردار شخصیت 16اپریل 1907تا 1986 تحر یر ۔احسان بخش

تاریخ کے اوراق کی ورق گر دا نی کرتے ہوئے ایک محترم شخصیت سارے بندھن توڑ کر سامنے آ کھڑی ہو تی ہے جو پا کستان میں مسیحیوں کی حالت زار پر نو حہ کناں ہے کہ ہم نے اس ملک کو بنا نے کے لئے کردار ادا کیا تھا کہ یہ مملکت خدا دا د ہمارا بھی آشیا نہ ہو گی اور ہم بھی اپنے اکثریتی بھائیوں کے ساتھ مل کر بھائی چارے کی فضا ، میں محبت کے ساتھ رہ سکیں گے میری مراد با نی پاکستان قائد اعظم کے دست راست سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری چندو لال ایڈووکیٹ سے جو تحریک پا کستان کے ایک سرخیل ، اور مسلم لیگ کے سرمایہ کا رکن تھے ، آپ سکھ مزہب کے بانی بابا گورو نانک کی جنم بھومی ننکا نہ صاحب سے چند کلو میٹر دورینگسن آباد میںچوہدری سندر داس نمبر دار کے ہاں پیدا ہو ئے ینگسن آباد اور مارٹن پور کے دو تا ریخی چکوک جو امن کے شہزادے یسوع المسیح کے پرستارو ںکی دھرتی ہے جو کہ اس خطہ مردم خیز نے پاکستان کا نام نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامیسطح پر بھی روشن کیا ہے نامور سفارتکار سیموئیل مارٹن برق ، ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر دانی ایل بخش ، قابل فخر جج ڈیود فضل دین ، دوسری جنگ عظیم کے عظیم مجاہد کرنل جے، ایبل ، آزادئی پاک و ہند مایہ ناز سپا ہی صوبیدار سیموئیل ڈہوڈ ۔ اور سینکڑوں جرات مند مسیحی ، زمیندار ، ڈاکٹروں ، انجئینرز ، وکلاء ، کی اس دھرتی میں چوہدری چندو لال پروان چڑھے والدین نے بڑے ناز و نم سے پا لا ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی گا ئوں کے ہائی سکول سے حا صل کی اور 1927ء مین میٹرک کا امتحان سی ، ایم ،۔ایس ہائی سکول ڈسکہ سے پاس کیا اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مادر علمی مرے کا لج سیالکوٹ سے بی، اے کیا اور 1933 میں قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاسل کی اور اپنے علاقے کے پہلے مسیھی ایڈووکیٹ ہو نے کا اعزاز حاصل کیا ، آپ اپنے ہی گائون کے ایک معزز گھرانے جس کے سربراہ چوہدری جلال دین تھے کی صاحبزادی برکت بی بی سے شادی کی جو کہ ایک نہائیت ہی پرہیز گا ر ، نیک اور خاد ترس خاتون تھیں ، خدا نے ؤپ کو اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا اور ایک بیٹی عطا کی جس کا نام،، سریندر ،،رکھا گیا جس کی پرورش بہت ہی اچھے طریقے سے کی گئی اور اس کی شادی رتن لال ( عرف رتی )شیخوپورہ کے ایک نامور وکیل اسرا ئیل قیصر سے دھوم دھام سے کی گئی ، چوہدری چندو لال کی نواسی مریمقیصر ملک کی پہلی خاتون جج ہوئی ہیں جو مختلف شہروں میں قوم کی خدمت سرانجام دے کر ملک کا نام روشن کر رہی ہیں ان کا یہ اعزاز نہ صرف چوہدری چندو لال کے خاندان کے لئے بلکہ ملک بھر کے مسیحیوں کے لئے با عث فخر ہے ، چودری چندو لال نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بنلدیا تی سیاست سے کیا کیونکہ وہ اسکو قومی سیاست کا پہلا زینہ قرار دیتے تھے 1933میں اپنی وکالت کے پہلے ہی سال سے سیاسی سفر کا آغاز کیا اس دور مین سکھ ، اور مسلمان ان کو اپان اپنا ساتھی بنا نا چا ہتے تھے لیکن آپ نے مسلما نوں کو سکھوں پر ترجیح دی اور بہت غور خوج کے بعد مسلمانوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جس پر سکھ رہنمائوں نے نارضگی کا بھی اظہار کیا جس کی آپ نے پرو انہ کی ۔آپ بری مستقل مزاجی سے مسیحی مسلم اتحاد کا پرچم شیخوپورہ کی فضا میں لہراتے رہے ،1936ء میں ؤپ میونسپل کمیٹی کے ممبر منتخب ہو ئے ، آپ بر صغیر کے سیاسی حالات اور آنے والی بری تبدیلیوں سے بخوبی آگا ہ تھے آپ نے تقسیم ہند میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کا عزم کیا اور قائد اعظم کے دست راست کیطور پر مسیحیوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع کرتے رہے جس کی بدولت ایس ، پی، سنگھا ، سابق ایم ، ایل ،اے ، سپیکر متحدہ پنجاب اسمبلی ، ایچ ایل حیات ، جو شوا فضل دین ، نائب وزیر قانو ن و خزانہ و پارلیمانی امور ، اور دیگر سینکڑوں اکابرین مسلم لیگکے پلیٹ فارم پر جمع ہو ئے اور تحریک پاکستان کو مستحم کیا اور قائد اعظم کی اپیل پر 23مارچ 1940جلسہ لاہور میں ہزاروں مسیحیوں کے ساتھ شامل ہو کر قرارداد پاکستان کی حمائیت کی۔ 1945میں جب قائد اعظم نے شملہ کانفر س کی ناکامی پر ہندووں اور انگریز کے مسلمان ایجنٹوں اور کا نگرس ، کالیدل ، ایجنٹوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلوانے کے لئے لارڈ ویول ، واسرائے ہند کو عام انتخابات کے انعقاد کا مشورہ دیا تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ، جس پر انگریز سرکار نے دسمبر 1945میں مرکزی اور جنوری 1946ء مین صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ، مسلم لیگ ، نے یہ انتخابات پاکستان کی بنیاد پر لرنے کا فیصلہ کیا اور ایک انقلا بی منشور دیا اور کانگرس اور انگریز کے پٹھوون کی ضمانتیں ضبط روائیں ان انتخابات مین چوہدری چندو لال نے بھی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا لیکن آل انڈیا کرسچین لیگ پنجاب کے رہنما ایس ۔ پی، سنگھا سے ہار گئے ، لیکن انہوں نے شکست کے بعد بھی مسلم لیگ کا پرچم مضبوطی سے تھامے رکھا اور سیاسی اصول پرستی کا بول بالا کیا اور بعد مین ان ہی کی کاوشوں سے ایس ، پی، سنگھا مسلم لیگ کا حصہ بنے ، چوہدری چندو لال نے پاکستان کو اقلیتوں کے لئے محفوط پناہ گا قرار دیا اور پنجاب کا طوفا نی دورہ کیا اوعر مسیھی قوم کو بائونڈری کمیشن کے سامنے پیش ہو کر مسلمانوں اور مسلم لیگ ، اور قائداعظم کا ساتھ دینے کے لئے تیار کیا بعد ازاں نمائندہ مسیحی وفد نے بائونڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوکر قرارداد پیش کی اور کہا کہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے ساتھ گنا جا ئے جس پر مسیحی اکثریت کے علاقے ، فیصل آباد ، لاہور ، شجخو پورہ ، قصور ، سیالکو ٹ ،نارووال ، اور دیگر علاقہ جات پاکستان اک حصہ بنے ، چوہدری چندو لال کو قائد اعطم اور ان کی مسلم نے سرمایہ قراردیتے ہو ئے 1946ء کے انتخابات میں شکست کے باوجود 1948سے1950تک صوبا ئی ٹرانسپورٹ ، صوبا ئی لیبر بور ڈ، صوبا ئی الیکٹرک سٹی بورڈ ، صوبائی راشنگ بورڈ ، اور صوبا ئی لینگویج کمیٹی کا ممبر بنایا جہاں انہون نے بھر پور خدمات سر انجام دیں ۔ چوہدری چندو لال نے 1951ء کے عام انتخابات مین بھی حصہ لیا اور بلا مقابلہ منتخب ہوئے اور مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی نے انہیں دپٹی سپیکر بنا یا جب کہ انہوں نے چند ما ہ قائم مقام سپیکر کے فرائض بھی سر انجام دئیے ۔ چوہدری چندو لال کو مخصوص مقا صد کے حصول کے لئے بنا ئی جا نے والی پاکستان ری پبلکن پارٹی مین بھی شمولیت کی دعوت دی گئی جس کو انہو ںنے مسترد کردیا اور کہا کہ ،، میرا جینا مرنا مسلم لیگ کے ساتھ ہے ۔ 1958میں جب مارشل لا نے ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی تو چوہدری چندو لال نے آمر مطلق ایوب خان کو دوبارہ جمہوری شطرنج بچھانے پر مجبور کیا اور 1962ء کا آئین بنوایا جو کہ فرد واحد کا ؤئین کہلایا ، ؤپ کو لاہور ڈویژن کا بورڈ ممبر بنا یا گیا لیکن آپ نے قبول نہ کیا ، اور اس پر اھتجاج کیا کہ قائداعطم کی قائم کردہ قومی و سوبائی اسمبلی کی اقلیتی نشستوں کو ختم کرنا ایک ظالمانہ اقدام ہے ان کو بحال کیا جائے ، آپ نے بعد ازاں مسیحی لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی اور ایس ، پی سنگھا ، کی وفات کے بعد بھی اس سے وابسطہ رہے ۔ جب ذوالفقار علی بھٹو عوامی چیف مارشل بن بیٹھے اور مسیحیوں اور ان کے جمہوری حلقوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور مسیحی سکول کالج ، ہسپتال غاصبانہ قبضہ کر کے چھین لئیے اور مسیحیوں کی نسل کشی کی پا لیسی اپنا ئی تو چوہدری چنو لال نے ایک بھر پور تحریک چلا ئی یوں ان کی ساری زندگی سیاسی جدوجہد سے عبارت رہی ہے ۔ آپ عمر کے آخری ایام مین ڈسٹرکٹ ہیڈ کورٹر ہسپتال شیخوپورہ میں بستر علالت پر تھے کہ راقم الحروف نے جو اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا سیاسی بسیرت رکھتے ہوئے اپنے قائد کی عیادت کی اس موقع پر چوہدری پرویز الہی جو اس وقت ایم ، ایس ، ایف پنجاب کے صدر تھے بھی چوہدری چندو لال کی عیاد ت کے لئے آئے اس وقت مر کز میں محمد خان جو نیضو ، جب کہ پنجاب مین میاں مھمد نواز شیف بطور وزیر العی حکمران تھے لیکن کسی بھی مسلم لیگی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ ان کے بہتر علاج معالجے کے لئے کاوش کرتا اور نہ ہی حکومتی اکابرین نے اس طرف توجہ دی ایسے ہی وہ بیماری سے لرتے ہو ئے راہی ملک عدم ہوئے ۔ آپ کو برے ا ہتمام و عزت کے ساتھ آبائی گا ئو ن ینگسن آباد میں آپ کے والد چوہدری سندر داس کے پہلو میں دفن کیا گیا جہاں آپ اسودہ خاک ہیںجب کہ گائوں میں آپ کے خاندان کے لوگ آپ کی سیاسی بصیرت اور رکھ رکھائو کو جاری رکھے ہو ئے ہیں ، آپ کے پوتے چوہدری رنجیت لال نمبر دار آج بھی مسلم لیگ کا حصہ ہیں ، گو کہ مال و دولت کی چمک اور دینے کے لئے بھاری فندز نہ ہو نے کی وجہ سے مسلم لیگ کی جماعتوں نے ان کو تا ھال نطر انداز کر رکھا ہے لیکن وہ پھر بھی اپنے داد کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے مسلم لیگ کا حصہ کہلونے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں