28

2030 کی دنیا: کون آگے ہوگا، کون پیچھے رہ جائے گا؟ احمد نور وقت کی رفتار کبھی یکساں نہیں رہتی۔ تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب چند برسوں میں اتنی تبدیلیاں آتی ہیں جتنی پہلے کئی دہائیوں میں بھی نہیں آتی تھیں۔

وقت کی رفتار کبھی یکساں نہیں رہتی۔ تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب چند برسوں میں اتنی تبدیلیاں آتی ہیں جتنی پہلے کئی دہائیوں میں بھی نہیں آتی تھیں۔ آج دنیا ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کا تصادم، امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی رقابت، مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی، سائبر جنگ، توانائی کے نئے راستے اور عالمی معیشت کی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ 2030 کی دنیا، آج کی دنیا سے نمایاں طور پر مختلف ہوگی۔سب سے پہلے امریکہ کو دیکھیے۔ گزشتہ ایک صدی سے امریکہ عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ تاہم اب اسے پہلی بار ایک ایسے حریف کا سامنا ہے جو صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی، صنعتی اور تکنیکی میدان میں بھی مقابلہ کر رہا ہے۔ واشنگٹن آئندہ برسوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اپنے اتحادیوں کو مزید مضبوط کرے گا، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، خلائی پروگرام اور بحری طاقت پر سرمایہ کاری بڑھائے گا۔ امریکہ کی اصل جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر قیادت حاصل کرنے کی جنگ ہے۔دوسری جانب چین خاموشی سے اپنی طاقت بڑھا رہا ہے۔ اس کی حکمت عملی براہِ راست تصادم کے بجائے معیشت، تجارت، بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی سرمایہ کاری کے ذریعے اثرورسوخ میں اضافہ کرنا ہے۔ چین جانتا ہے کہ اگر عالمی معیشت میں اس کا کردار مسلسل بڑھتا رہا تو سیاسی اثر بھی خود بخود وسیع ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں اپنے معاشی روابط کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔روس یوکرین جنگ کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس نے مغربی پابندیوں کا سامنا کیا، لیکن اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ عالمی سیاست اب صرف ایک طاقت کے گرد نہیں گھومتی۔ آئندہ برسوں میں روس اپنی توجہ دفاعی صنعت، توانائی، ایشیائی منڈیوں اور نئے سفارتی اتحادوں پر مرکوز رکھے گا۔ایران نے حالیہ برسوں میں شدید دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور عسکری کشیدگی کا سامنا کیا ہے۔ تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ علاقائی سیاست میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ تہران عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کو بھی اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اپنی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے جدید دفاعی نظام، انٹیلی جنس اور علاقائی اتحادوں پر مزید انحصار کرے گا۔ اس لیے اگرچہ براہِ راست جنگ ہر وقت جاری نہیں رہے گی، لیکن مقابلہ مختلف شکلوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے۔بھارت بھی خود کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ، مگر اسے داخلی سماجی چیلنجز، علاقائی تنازعات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات جیسے مسائل کا سامنا بھی رہے گا۔ صرف معاشی ترقی ہی عالمی قیادت کی ضمانت نہیں ہوتی؛ سیاسی استحکام، علاقائی اعتماد اور متوازن خارجہ پالیسی بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔2030 کی دنیا میں طاقت کا مفہوم بھی بدل جائے گا۔ پہلے فوج، ٹینک اور میزائل طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، مگر اب مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کوانٹم کمپیوٹنگ، خلائی ٹیکنالوجی، ڈرونز، سیمی کنڈکٹرز، صاف توانائی اور ڈیٹا نئی طاقت کے ستون بنتے جا رہے ہیں۔ جو ممالک علم، تحقیق، تعلیم اور جدید صنعت میں سرمایہ کاری کریں گے، وہی آنے والے دور میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کریں گے۔مشرقِ وسطیٰ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک اپنی معیشت کو صرف تیل تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی، سیاحت، سرمایہ کاری اور صنعت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اگر یہ تبدیلی جاری رہی تو آئندہ چند برسوں میں خطے کا معاشی نقشہ پہلے سے کہیں مختلف ہوگا۔پاکستان کے لیے یہ دور چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، چین کے ساتھ شراکت داری، مسلم دنیا سے تعلقات اور جنوبی و وسطی ایشیا کے درمیان رابطے کی صلاحیت اسے منفرد مقام دیتی ہے۔ لیکن یہ مقام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب ملک داخلی استحکام، معاشی اصلاحات، معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، قومی یکجہتی اور متوازن سفارت کاری کو اپنی ترجیح بنائے۔ دنیا بدل رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی صرف ردعمل کی سیاست کے بجائے مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ 2030 کی دنیا میں شاید ایک ہی سپر پاور کا تصور مزید کمزور ہو جائے اور اس کی جگہ ایک کثیر قطبی عالمی نظام مضبوط ہو، جہاں امریکہ، چین، یورپ، روس، علاقائی طاقتیں اور بااثر درمیانے درجے کے ممالک مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایسے ماحول میں وہی ریاستیں کامیاب ہوں گی جو قومی اتحاد، مضبوط معیشت، جدید سائنس، مؤثر حکمرانی اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی کو اپنی بنیاد بنائیں گی۔2030 ابھی دور نہیں۔ جو فیصلے آج کیے جا رہے ہیں، وہی آنے والے برسوں کی دنیا کی شکل متعین کریں گے۔ قوموں کی ترقی صرف قدرتی وسائل سے نہیں بلکہ وژن، تحقیق، علم، اتحاد اور درست فیصلوں سے ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی استحکام، معاشی خود انحصاری، جدید تعلیم، سائنسی ترقی اور متوازن سفارت کاری کو قومی ترجیح بنا لے تو بدلتی ہوئی دنیا میں نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔وقت کی دھڑکن، قلم کی زبان یہی کہتی ہے کہ آنے والے دور کی سب سے بڑی طاقت وہ نہیں ہوگی جس کے پاس صرف زیادہ ہتھیار ہوں، بلکہ وہ ہوگی جس کے پاس زیادہ علم، مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، قومی اتحاد اور دوراندیش قیادت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں