گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر اپنی منفرد آئینی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے باعث ہمیشہ قومی سیاست کا اہم مرکز رہے ہیں ان خطوں کے عوام کئی دہائیوں سے بہتر طرزِ حکمرانی، آئینی حقوق، معاشی ترقی اور باوقار روزگار کے خواہاں رہے ہیں ایسے حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار جیسے انقلابی منشور کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی منشور بنا کر ان بنیادی مطالبات کو سیاسی بحث کا حصہ بنایا ہے قاریٸن آپ کی توجہ اور آسانی سے سمجھانے کے لیے اس منشور کے نکات کی مختصراً تشریح پیش ہے۔
حقِ حاکمیت
حقِ حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو اپنے مستقبل، وسائل اور انتظامی معاملات پر مؤثر اختیار حاصل ہو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام طویل عرصے سے ایسی حکمرانی کے خواہاں ہیں جس میں ان کی منتخب نمائندہ اسمبلیوں اور اداروں کا کردار مضبوط ہو اور عوامی رائے کو حقیقی اہمیت دی جائے اس تصور کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں، مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور جمہوری ادارے مزید مستحکم ہوں مضبوط جمہوری نظام نہ صرف عوام کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ خطے میں سیاسی استحکام بھی پیدا کرتا ہے۔
حقِ ملکیت
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر قدرتی وسائل، معدنیات، جنگلات، پانی اور سیاحت کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں حقِ ملکیت کے تصور کا مقصد یہ ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کو مناسب حصہ ملے اور ترقیاتی منصوبوں میں عوام کے حقوق اور مفادات کو مدنظر رکھا جائے اگر مقامی وسائل کو شفاف انداز میں استعمال کیا جائے ماحولیات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور مقامی آبادی کی شمولیت سے ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جائیں تو اس سے نہ صرف علاقائی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
حقِ روزگار
بے روزگاری دونوں خطوں کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے حقِ روزگار کا تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار، فنی تعلیم، کاروباری سہولیات اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں سیاحت، معدنیات، زراعت، پن بجلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار ایسے شعبے ہیں جن میں سرمایہ کاری سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں روزگار کے بہتر مواقع نہ صرف غربت میں کمی لاتے ہیں بلکہ سماجی استحکام اور معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری کا پیش کردہ یہ منشور اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اس میں عوام کے تین بنیادی مطالبات کو نمایاں کیا گیا ہے جن میں جمہوری اختیارات اور مؤثر عوامی نمائندگی، مقامی وسائل سے متعلق حقوق اور ان کے منصفانہ استعمال پر زور اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع کی فراہمی، یہ ایسے نکات ہیں جو انتخابی مباحثے کو سیاسی نعروں سے آگے بڑھا کر عوامی مسائل، معاشی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کسی بھی انتخابی منشور کی اصل کامیابی اس کے مؤثر نفاذ پر منحصر ہوتی ہے اگر حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار سے متعلق وعدوں کو عملی پالیسیوں، قانون سازی، شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر انتظامی اقدامات کے ذریعے نافذ کیا جائے تو یہ دونوں خطوں میں پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں .گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام بہتر مستقبل، معاشی استحکام اور بااختیار جمہوری نظام کے خواہاں ہیں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کا انتخابی منشور انہی بنیادی موضوعات کو نمایاں کرتا ہے اس کی سیاسی اور عملی افادیت کا حتمی اندازہ اس بات سے ہوگا کہ انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ان وعدوں کو کس حد تک حکومتی پالیسی اور عمل میں ڈھالنے میں سنجیدہ کردار ادا کر سکتی ہے اگر ان اصولوں پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو یہ دونوں خطوں کی معاشی، سماجی اور جمہوری ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں .چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے اس منشور کے نفاذ بارے خاصے مطمٸن اور پرجوش بھی دکھاٸ دیتے ہیں وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے عزم سے انتخابی میدان میں اترے ہیں اور اسی منشور کے تحت گلگت بلتستان میں نا صرف ییپلز پارٹی نے انتخابی کامیابی حاصل کی بلکہ وہاں حکومت بنانے میں بھی کامیاب رہی ہے.اسی منشور کے تحت گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے پہلا سرکاری حکم نامہ یا آرڈیننس جاری کرتے ہوۓ گزشتہ کٸ سالوں سے نوکریوں سے بیدخل کیۓ گٸے نواسی ڈاکٹروں کو واپس مستقل بحال کیا ہے اور یہ تو ابھی شروعات ہے آزاد کشمیر کے عوام بھی جوش و جذبے اور سیاسی بیداری کے ساتھ پوری طرح چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس منشور سے متفق دکھاٸ دے رہے ہیں وہ پرجوش انداز میں پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں جس سے یہ کہنا بالکل آسان ہے کہ آزاد کشمیر کے رہنے والوں نے بھی گلگت بلتستان کی تقلید کرتے ہوۓ پاکستان پیپلز پارٹی اور چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری پر اظہار اعتماد کر دیا ہے.اب بس وہ پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تیر پر مہریں لگا کر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب کروانے کے لیے بیتاب دکھاٸ دیتے ہیں اور جب آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی تو چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری کے منشور پر یقینی عمل در آمد بھی ہو گا۔
15