51

نور مقدم کی پانچویں برسی،انصاف، خواتین کے تحفظ اور فوری عدالتی اصلاحات پر زور، مؤثر قوانین پر سختی سے عملدرآمدکیلئےمعاشرے کے تمام طبقات کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے، عائشہ سید

اسلام آباد(سٹی رپورٹر) نور مقدم کی پانچویں برسی کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تعزیتی و یادگاری تقریب منعقد ہوئی، جس میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم، سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ، رکن قومی اسمبلی عائشہ سید، سی ای او زینتھ میڈیا سعدیہ حیات خان، سابق صدرروٹری کلب ڈاکٹر ملک اشرف حمید، وکیل دستاویزی فلم ساز اور ڈرامہ پروڈیوسرحلیمہ طارق،سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے نور مقدم کی مغفرت کے لیے دعا کی، انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور خواتین کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ نور مقدم کا کیس صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور خواتین کے تحفظ کا معاملہ ہے، صرف بیٹیوں ہی نہیں بلکہ بیٹوں کی ایسی تربیت بھی ضروری ہے جو دوسروں کی عزت، وقار اور حقوق کا احترام سکھائے، کیونکہ ظلم کے خلاف خاموشی خود ظلم کو تقویت دیتی ہے، پانچ سال بعد بھی یہ سانحہ ہمارے معاشرے سے اہم سوالات کرتا ہے کہ آیا ہم اپنی آئندہ نسلوں، خصوصاً بچیوں، کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مؤثر قوانین پر سختی سے عملدرآمد، فوری انصاف، والدین، تعلیمی اداروں، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔ممتاز سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ آج خوشی کا نہیں بلکہ غم اور عزم کا دن ہے۔ نور مقدم کی جدائی کا دکھ ہمیشہ رہے گا، تاہم انہوں نے ایک ایسی میراث چھوڑی ہے جس نے مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نور کے بہیمانہ قتل کو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور کسی انسان کے قتل کا کوئی جواز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت مقدم کی قیادت میں نفرت اور تشدد کے بیانیے کا مؤثر جواب دیا گیا اور انصاف کی آواز مزید مضبوط ہوئی، نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن رہے، تاہم میڈیا، سول سوسائٹی، دوستوں اور عوام کی مسلسل حمایت نے انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نور مقدم کا مقدمہ صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مقدمہ بن گیا تھا، اسی لیے عوام نے اسے اپنا دکھ سمجھ کر انصاف کی جدوجہد میں ساتھ دیا۔انہوں نے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ سنگین جرائم کے مقدمات کے لیے قانون کے ذریعے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات برسوں تک زیر التوا نہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سزاؤں پر بروقت عملدرآمد نہ ہو تو قانون کی عملداری متاثر ہوتی ہے اور مجرموں میں خوف ختم ہو جاتا ہے۔شوکت مقدم نے پولیس کی تفتیشی ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جدید سائنسی شواہد اور دیانتداری سے کی گئی تحقیقات نے انصاف کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی اور معاشرے کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متحد رہنا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے نور مقدم سمیت تشدد کا نشانہ بننے والی تمام خواتین کے لیے دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کے تحفظ، انسانی وقار، قانون کی بالادستی اور بروقت انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی، تقریب کے اختتام پر نور مقدم کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں