مہنگا پٹرول اور مہنگائی کا طوفان
تحریر – خالد چوہدری .
مار چ کے مہینہ میں ایران – امریکہ اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے قبل بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل ستر ڈالر فی بیرل تھا۔ حکومت نے اس وقت پٹرول کی قیمت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ لیوی عائد کر دی۔ لیوی کے اطلاق کو حکومت نے ذریعہ آمدن بنا لیا ۔ اس وقت فی لیٹر لیوی تقریباً ڈیڑھ سو روپے تھی ۔ گذشتہ برس کے بجٹ شاٹ فال کو حکومت نے لیوی کے ذریعے پورا کر لیا۔ گذشتہ ہفتے حکومت نے احسان عظیم کیا اور چار روپے فی لٹر قیمت کم کی جبکہ لیوی کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ۔ اب انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرول کی فی بیرل قیمت 68 ڈالر ہے۔ گذشتہ جمعہ کو حکومت نے تقریباً 14 روپے فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا ۔ ساتھ ہی لیوی ۔ کسٹم ڈیوٹی ۔ کاربن ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا . آج پٹرول کی فی لیٹر قیمت پر تقریباً ایک سو روپے لیوی لگا دی گئی ۔ اب تک لیوی کی مد میں دو ہزار ارب روپے حکومت ٹیکس وصول کر چکی ہے ۔ اگر لیویں لگانا ہے حکومت کو ملک میں کوئی دیگر ٹیکس لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ مہنگے پٹرول کی وجہ سے اشیاء خورو نوش سمیت تمام مہنگی ہوگئی ہیں وزارت پٹرولیم کے منسٹر جو کہ سائینس دان بھی ہیں نے کہا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کاخاتمہ ہو گیا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ مقامی طور پر پڑول کی پیداوار کی قیمت بھی بین الرمی قیمت کے برابر دی گئی ہے جس سے آئل کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور عام آدمی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ کروڑوں افراد وه افراد متاثرین میں شامل ہو گئے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ لیوی کو حکومت نے ذریعہ آمدن بنا لیا ہے اور براہ راست عوام اِسی ٹیکس کے رگڑے میں آتے ہیں۔ پٹرولیم مافیا اتنا طاقتور ہے کہ ایران سے گیس پائپ لائن کی تکمیل اور سستا پڑول خریدنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بین الاقوامی مصالحت کاری کا پاکستان کو کہ فائدہ ہوا ہے ؟ سمندر کی بجائے سڑک کے راستے ایران سے پٹرول خریدا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت نے لیوی کے ذریعے مال جمع کرنا ہے ۔ دیگر ٹیکسوں کی کیا ضرورت ہے ؟ لاہور الیکٹرک کارپوریشن نے اعلیٰ افسران کے لئے مفت بجلی کی سپلائی ختم کر دی تھی ۔ جبکہ دیگر کمپنیوں میں عدالتوں ذریعے سٹے لیا گیا۔ جن افسران نے بل ادا کئے ہیں ان کے ادا شدہ بلوں کی کاپیاں پبلک کی جائیں۔ سالانہ مفت کی مد میں تقریبا تین سو ارب کی بجلی سپلائی کی جاتی ہے۔ ملازمین کے رشتے دار بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے استدا کی گئی تھی کہ مفت بجلی کی سہولت ختم کختم کی جائے اور بجلی کی چوری روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں ۔ دوسو یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے اگلے چھ ماہ تک ادی ریٹ پر ادائیگیاں کرتے ہیں۔ جتنی بجلی استعمال ہو اس کا بل وصول کیا جا -پیک آورز کے دورانیہ میں کمی کی جائے ۔ اور فاسٹر میٹر لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ فاسٹر میٹرز کی رپورٹ اوگرا کی سائٹ پر ہے جس کے مطابق تیس سے پینتیس کی صد میٹر تیز بنوائے جاتے ہیں۔ یہ سرکاری ڈکیتی کے مترادف ہے۔ تمام دسکوز اپنے حالات درست کریں اور ریٹ کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔
44