پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ موسموں کا تقرر و تبدل اب محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا تلخ تجربہ بن چکا ہے۔ کبھی بارشیں وقت سے پہلے برسنے لگتی ہیں، کبھی معمول سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر جاتی ہیں اور کبھی وہ موسم، جو برسوں سے ایک خاص ترتیب کے ساتھ آتے رہے، اچانک اپنی روایتی پہچان بدل لیتے ہیں۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے اور ماحولیاتی نظام پر انسانی سرگرمیوں کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ صرف قدرت کا فیصلہ نہیں، اس میں ہمارے اپنے اعمال کا بھی بڑا حصہ ہے۔ فضائی آلودگی، دھوئیں کا بے تحاشا اخراج، جنگلات کی کٹائی، درختوں کی کمی، پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال اور ماحول کے ساتھ ہماری بے اعتنائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہم نے ترقی کے نام پر فطرت سے ایسا سلوک کیا جیسے زمین ہماری جاگیر ہو اور آنے والی نسلوں کا اس پر کوئی حق ہی نہ ہو۔موجودہ بارشوں نے ایک مرتبہ پھر ہمارے شہری نظام کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی اجتماعی بے احتیاطی بھی سامنے رکھ دی ہے۔ بارش ہوتی ہے تو ہم فوراً حکومت اور اداروں کی طرف دیکھنے لگتے ہیں، لیکن ذرا اپنے دروازے کے باہر بھی جھانک کر دیکھنے کی زحمت کریں۔ گلی میں پھینکا ہوا شاپر، نالی میں اٹکا ہوا پلاسٹک، کچرے کا ڈھیر اور صفائی سے ہماری مسلسل بے نیازی بھی تو پانی کے جمع ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ہم شاپر پھینکتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ یہ نالی میں جائے گا تو پانی کا راستہ بند کرے گا۔ نالی بند ہوتی ہے، بارش کا پانی آتا ہے اور چند ہی لمحوں میں گلی ندی کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ پھر ہم چھتوں اور دکانوں سے کھڑے ہو کر شور مچاتے ہیں کہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ حکومت سے پہلے ہم نے کیا کیا؟
یقیناً حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے، لیکن شہری ذمہ داری بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ پنجاب حکومت کا ستھرا پنجاب جیسے صفائی کے اقدامات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب عوام بھی ان کا ساتھ دیں۔ حکومت اکیلی ہر گھر کے دروازے پر کھڑی ہو کر صفائی نہیں کر سکتی۔ ہمیں اپنی گلی، اپنے محلے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو اپنا گھر سمجھنا ہوگا۔میری رائے میں ہر محلے میں ایک فعال شہری کمیٹی ہونی چاہیے جو مون سون شروع ہونے سے پہلے نالیوں، گلیوں اور نکاسیٔ آب کے راستوں کی صفائی یقینی بنائے۔ بارشوں کے دنوں میں یہی کمیٹیاں بزرگوں، بچوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کریں۔ خطرے کی صورت میں لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کا انتظام ہو اور بڑے رہائشی علاقوں میں ہنگامی اطلاع کے لیے سائرن یا مؤثر الرٹ سسٹم بھی موجود ہونا چاہیے۔ آفت کے بعد دوڑنے سے بہتر ہے کہ آفت سے پہلے تیاری کر لی جائے۔درخت بھی اس پوری داستان کا ایک اہم کردار ہیں۔ ہم نے درخت لگانے کے بجائے انہیں کاٹنے میں غیر معمولی مہارت حاصل کر لی ہے۔ درخت فضا کو صاف کرتے ہیں، گرمی کم کرتے ہیں، زمین کو مضبوط رکھتے ہیں اور ماحول کے قدرتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں شجرکاری کو محض تصویری مہم نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بنانا ہوگا۔ ہر شخص کم از کم ایک درخت لگائے اور اسے بڑا کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ شہری منصوبہ بندی، نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری، برساتی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ، کچرے کی مؤثر تلفی اور پلاسٹک کے استعمال میں کمی بھی ناگزیر ہے۔ صرف بارش کے وقت نالے صاف کرنا مسئلے کا حل نہیں؛ ہمیں پورا سال ایسے نظام کی ضرورت ہے جو بارش کے پانی کو محفوظ راستہ فراہم کر سکے۔
اور اب سب سے اہم بات، ان لوگوں کی جو موجودہ بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ جن کے گھر پانی میں ڈوب گئے، جن کے سامان تباہ ہوگئے، جن کے بچوں نے خوف کے عالم میں راتیں گزاری ہیں، وہ صرف خبر کا حصہ نہیں، ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ حکومت، پاک فوج اور متعلقہ ادارے امدادی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن بحیثیت پاکستانی شہری ہماری ذمہ داری بھی ختم نہیں ہو جاتی۔س علاقے کے لوگ محفوظ ہیں، وہاں کے صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ متاثرہ خاندانوں تک خشک راشن، کھانے کے پیکٹ، صاف پانی، کمبل، ضروری ادویات اور دوسری بنیادی اشیاء پہنچائیں۔ مدد صرف بڑی رقم دینے کا نام نہیں؛ کبھی ایک کھانے کا پیکٹ، ایک کمبل اور ایک بوتل پانی بھی کسی پریشان حال انسان کے لیے پوری دنیا بن جاتا ہے۔والدین سے بھی گزارش ہے کہ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خصوصاً بچوں کو برساتی نالوں، ندی نالوں، زیرِ آب سڑکوں اور خطرناک مقامات کے قریب نہ جانے دیں۔ پانی بظاہر پرسکون دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس کے نیچے چھپی گہرائی اور بہاؤ چند لمحوں میں زندگی بدل سکتے ہیں۔قدرت ہمیں بار بار خبردار کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب سنیں گے؟
بارش دشمن نہیں، زندگی کی علامت ہے۔ دشمن ہماری بے احتیاطی، ہماری غفلت، ہماری ماحولیاتی بے حسی اور ہماری اجتماعی غیر ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے رویے بدل لیں، اپنے محلے صاف رکھیں، پلاسٹک کم کریں، درخت لگائیں، نکاسیٔ آب کے راستے کھلے رکھیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو یہی بارش رحمت بھی بن سکتی ہے۔پاکستان صرف حکومت کا نام نہیں، پاکستان ہم سب کا نام ہے۔ جب ذمہ داری بھی ہماری مشترکہ ہے تو اس کا حل بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ آج ہمیں صرف پانی سے نہیں لڑنا، اپنی عادتوں سے بھی لڑنا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو آنے والی بارشیں صرف گلیاں نہیں بھریں گی، ہماری غفلت کی داستان بھی مزید طویل کر دیں گی۔
55
