18

عنوان: فیک آئی ڈی کے پیچھے چھپا مجرم تحریر: سیدہ شبانہ رضوی (اسلام آباد ) جب سوشل میڈیا پر تہمت جرم بن جائے

سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو ہر شخص کی دسترس میں پہنچا دیا ہے، مگر افسوس کہ بعض لوگ اس آزادی کو کسی کی عزت، شہرت اور زندگی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کسی کے خلاف فیک آئی ڈی بنانا، اس کے نام یا تصویر کا غلط استعمال کرنا، جھوٹی تہمتیں لگانا، کردار کشی کرنا، اس کے پروفیشن یا ملازمت کو بدنیتی سے عوام کے سامنے پیش کرنا اور پھر اس مواد کو مختلف پلیٹ فارمز پر پھیلانا محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ نہیں، بلکہ حالات اور شواہد کے مطابق ایک باقاعدہ سائبر جرم بن سکتا ہے۔پاکستان کے Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) کی دفعہ 20 کے تحت کسی شخص کے بارے میں جان بوجھ کر ایسی جھوٹی معلومات آن لائن نشر کرنا جو اس کی عزت، شہرت یا پرائیویسی کو نقصان پہنچائے، جرم ہو سکتا ہے۔ اس کی سزا تین سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں ہو سکتی ہے۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے فرد کا نام، تصویر یا شناخت استعمال کرتے ہوئے جعلی اکاؤنٹ بنائے اور اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ یا کسی کو بدنام کرے تو شناخت کے غلط استعمال کا پہلو بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ PECA کی دفعہ 16 کے تحت بعض حالات میں تین سال تک قید یا پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
کسی شخص کے خلاف فیک آئی ڈی سے مسلسل جھوٹی پوسٹس کرنا، اسے مختلف پلیٹ فارمز پر نشانہ بنانا، نفرت پیدا کرنا، ذہنی اذیت دینا یا اس کی پیشہ ورانہ شہرت کو نقصان پہنچانا Cyber Harassment، Cyber Bullying اور Targeted Online Harassment کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ میں بھی ہتکِ عزت سے متعلق دفعات موجود ہیں، لہٰذا کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی تشہیر کے قانونی نتائج صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہتے۔یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے: تنقید اور کردار کشی ایک چیز نہیں۔ سچی، مہذب اور ثبوت پر مبنی تنقید اظہارِ رائے کا حق ہے، لیکن جھوٹا الزام، من گھڑت کہانی، جعلی ثبوت اور بدنیتی پر مبنی تشہیر کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش بن سکتی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فیک آئی ڈی کے پیچھے چھپ کر وہ قانون سے بچ جائیں گے، مگر ڈیجیٹل دنیا میں مکمل گمنامی ایک غلط فہمی ہے۔ اکاؤنٹ کی سرگرمیاں، لاگ اِن ریکارڈ، ڈیوائسز اور دیگر تکنیکی شواہد تفتیش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ذرا سوچیے! آج آپ کسی فیک آئی ڈی کے پیچھے چھپ کر کسی کی عزت پر ایک جھوٹا الزام لگا رہے ہیں، کل وہی الزام آپ کے خلاف ایک قانونی شکایت، تفتیش اور عدالت میں پیش ہونے والی شہادت بن سکتا ہے۔ جس پوسٹ کو آپ چند لمحوں بعد ڈیلیٹ کر کے سمجھیں گے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، ممکن ہے اس کا اسکرین شاٹ، لنک یا دیگر ڈیجیٹل شواہد پہلے ہی محفوظ ہو چکے ہوں۔ پھر فیک نام، جعلی پروفائل اور چھپی ہوئی شناخت آپ کو قانون کی گرفت سے نہیں بچا سکے گی۔ کسی کی عزت کو نشانہ بنانے کے چند سیکنڈ، آپ کی اپنی آزادی، عزت اور مستقبل کے لیے ایک طویل قانونی مشکل کا آغاز بن سکتے ہیں۔یاد رکھیے، ڈیلیٹ کیا ہوا مواد بھی ہمیشہ ختم نہیں ہو جاتا اور فیک آئی ڈی ہمیشہ فیک نہیں رہتی۔ ڈیجیٹل دنیا اپنے نشان چھوڑتی ہے۔ ایک اسکرین شاٹ، ایک لنک، ایک لاگ اِن ریکارڈ یا کوئی تکنیکی ثبوت اس شخص تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ قانون سے چھپ گیا ہے۔ایسے واقعات کا شکار ہونے والے افراد کو چاہیے کہ وہ پوسٹس کے اسکرین شاٹس، اصل لنکس، جعلی پروفائل کا لنک، تاریخ و وقت، کمنٹس اور شیئرز محفوظ کریں۔ سائبر جرائم کی شکایت کے لیے موجودہ نظام کے تحت National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) متعلقہ ادارہ ہے۔آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آزادیِ اظہار، کسی کی عزت پامال کرنے کا لائسنس نہیں۔ اختلافِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے، مگر جھوٹ، تہمت، جعلی شناخت اور کردار کشی کسی کا بنیادی حق نہیں۔ایک پوسٹ کرنے سے پہلے سوچ لیجیے؛ کیونکہ جو انگلی آج کسی کی عزت پر اٹھ رہی ہے، کل اسی انگلی کے نشان قانون کی فائل میں موجود ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں