پاکستان میں اگر کسی چیز کو حقیقی معنوں میں “سرمایہ” کہا جا سکتا ہے تو وہ ادھار ہے۔ یہاں لوگ دولت کم چھوڑتے ہیں، مگر ادھار کی داستانیں نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ بعض گھروں میں تو مرحوم کی جائیداد سے زیادہ اس کے ادھار کا ذکر ہوتا ہے۔ پوتا فخر سے کہتا ہے: “دادا جی بڑے بااثر آدمی تھے، پورے بازار سے ادھار لیتے تھے! ہمارے ہاں ادھار مانگنے والے کی گفتگو میں ایسی مٹھاس ہوتی ہے کہ گنے کا رس بھی شرما جائے۔ وہ کہے گا: “بس دو دن کی بات ہے۔” یہ دو دن پھر ایسے لمبے ہوتے ہیں کہ کیلنڈر کے صفحے بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، مگر وہ دو دن ختم نہیں ہوتے۔ادھار لینے کے بعد سب سے پہلے موبائل نمبر بدلتا ہے، پھر گھر کا راستہ، پھر سلام کا انداز۔ پہلے جو روز دس مرتبہ سلام کرتا تھا، اب سامنے سے گزرے تو ایسے منہ پھیر لیتا ہے جیسے آپ اس کے بچپن کے استاد ہوں جنہوں نے کبھی ہوم ورک نہ کرنے پر سزا دی ہو۔پاکستانی معاشرے میں ایک عجیب فلسفہ ہے۔ جب تک ادھار لینا ہو، آپ دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔ جیسے ہی واپسی کا وقت آئے، آپ ظالم سرمایہ دار، بے رحم انسان اور رشتوں کی قدر نہ کرنے والے شخص قرار دے دیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے صرف اتنا کہہ دیا: “بھائی! وہ پیسے…” تو جواب ملے گا: “یار! تمہیں پیسوں کی پڑی ہے، دوستی کی کوئی قدر ہی نہیں!”بعض لوگ ادھار کو قرض نہیں بلکہ مستقل وظیفہ سمجھتے ہیں۔ وہ اس اعتماد سے مانگتے ہیں جیسے بینک کے مالک خود ہوں۔ واپسی کا ذکر آئے تو فوراً آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں: “رزق دینے والی ذات اوپر ہے۔دکاندار بھی عجیب مخلوق ہے۔ ہر بار قسم کھاتا ہے کہ اب کسی کو ادھار نہیں دوں گا۔ مگر شام ہوتے ہی ایک مستقل گاہک آتا ہے، مسکرا کر کہتا ہے: “چچا! آج آخری بار لکھ لیں۔” اور دکاندار اپنی رجسٹر کی کتاب کھول کر ایک اور صفحہ سیاہ کر دیتا ہے۔ہمارے ہاں ادھار واپس کرنے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ اگر کوئی وقت پر قرض لوٹا دے تو لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ بعض تو شک کرتے ہیں کہ شاید اسے غلطی لگ گئی ہے۔ادھار لینے والے کی یادداشت بھی کمال کی ہوتی ہے۔ جس دن پیسے لیے تھے، اس دن کی ہر بات یاد ہوتی ہے۔ لیکن واپسی کی تاریخ آتے ہی حافظہ ایسا کمزور ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ جائیں۔ اگر آپ یاد دلائیں تو فوراً جواب ملتا ہے: “اوہ! میں تو بھول ہی گیا تھا۔”پاکستان میں ادھار صرف مالی معاملہ نہیں، ایک ثقافت ہے، ایک فن ہے، ایک ایسا کھیل ہے جس میں جیت ہمیشہ لینے والے کی ہوتی ہے اور ہار دینے والے کے حصے میں آتی ہے۔اس لیے بزرگوں کا ایک غیر سرکاری مگر نہایت کارآمد اصول ہے: “اگر کسی عزیز کو ہمیشہ عزیز رکھنا چاہتے ہو تو اسے ادھار مت دو، اور اگر ادھار دے ہی دیا ہے تو اسے صدقہ سمجھ کر بھول جاؤ، ورنہ نہ پیسے ملیں گے، نہ سکون، اور نہ ہی وہ عزیز!”تاہم کچھ لوگ ایفاے عہد کا بہت خیال رکھتے ہیں- بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو وقت پر اپنا قرض ادا کرتے ہیں، اور انہی کی وجہ سے اعتماد اور معاشرتی تعلقات قائم رہتے ہیں۔
23