اسلام آباد(سٹی رپورٹر) صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام ہزارہ کے عوام کا دیرینہ، آئینی اور جمہوری مطالبہ ہےجس کے لیے گزشتہ سولہ برس سے پرامن جدوجہد جاری ہے،ہزارہ کے عوام نے اس تحریک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پارلیمانی اور آئینی عمل کو آگے بڑھائے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سینیٹر طلحہ محمود، مرتضیٰ جاوید عباسی، ایم این اے بابر نواز خان، سیدہ سونیا شاہ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی تین مرتبہ صوبہ ہزارہ کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس حوالے سے بل پیش کیے جا چکے ہیں۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع، سیاسی جماعتوں اور عوام کی مشترکہ آواز ہے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے،چھوٹے انتظامی یونٹس سے بہتر طرزِ حکمرانی، تیز رفتار ترقی، وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔اس موقع پرسینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اگر پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانا ہے تو نئے صوبوں کے قیام پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، ہر حکومت اپوزیشن میں نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے لیکن اقتدار میں آکر اس معاملے کو نظر انداز کر دیتی ہے، صوبہ ہزارہ کی تحریک عوامی حمایت اور قربانیوں کی علامت ہےجسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماء مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے قیام کا بل پیش کیا جا چکا ہے، تاہم اسے پارلیمانی کمیٹی میں زیر التوا رکھا گیا ہے، حکومت اس بل پر فوری پیش رفت کرے اور اسے منطقی انجام تک پہنچائے۔ایم این اے بابر نواز خان نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن قدرتی وسائل، پن بجلی، معدنیات، صنعت اور ٹیکس محصولات کے اعتبار سے ملک کے مضبوط ترین خطوں میں شامل ہے، اس لیے صوبہ ہزارہ معاشی طور پر ایک قابلِ عمل اور مضبوط صوبہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے عوام کو ان کے وسائل اور حقوق کا مکمل حق ملنا چاہیے۔سیدہ سونیا شاہ نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ جغرافیائی، انتظامی اور عوامی حقائق پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے قیام سے نہ صرف عوامی مسائل بہتر انداز میں حل ہوں گے بلکہ ملک میں انتظامی نظام بھی زیادہ مؤثر ہوگا۔رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی مکالمہ شروع کرتے ہوئے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
26