پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران کا شکار نہیں بلکہ ایک گہرے اعتماد کے بحران سے بھی گزر رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے عوام کو مسلسل یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالنے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے اور ریاستی مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قربانی ناگزیر ہے۔ کبھی بجلی کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں، کبھی گیس مہنگی کر دی جاتی ہے، کبھی پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور کبھی نئے ٹیکس نافذ کر دیے جاتے ہیں۔ ہر بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ اشیائے خور و نوش، ادویات، تعلیم اور علاج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ان تمام قربانیوں کے درمیان ایک سوال شدت سے ابھر کر سامنے آیا ہے کہ آخر یہ قربانیاں صرف عوام ہی کیوں دیں؟ کیا حکمران طبقہ بھی انہی مشکلات سے گزر رہا ہے جن کا سامنا ایک عام پاکستانی کر رہا ہے، یا پھر ملک میں دو الگ الگ معاشی نظام قائم ہو چکے ہیں؛ ایک عوام کے لیے اور دوسرا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے طبقے کے لیے؟ 2022 کے بعد سے اراکینِ پارلیمنٹ، وفاقی وزراء اور پارلیمانی قیادت کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی بنیادی تنخواہ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ انیس ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی، جبکہ مختلف الاؤنسز اور دیگر سہولیات بھی اس کے علاوہ ہیں۔ حکومت نے اس اضافے کو مہنگائی اور گریڈ 22 کے وفاقی سیکریٹریز کے مساوی تنخواہوں کی ضرورت قرار دیا، لیکن یہی دلیل اس وقت کمزور محسوس ہوتی ہے جب لاکھوں سرکاری ملازمین، اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، پولیس اہلکار اور دیگر سرکاری ملازمین اپنی محدود تنخواہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مناسب سہولیات درکار ہوتی ہیں، لیکن سوال سہولیات کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے حجم، وقت اور اخلاقی جواز کا ہے۔ جب ملک کا متوسط طبقہ بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے اپنی جمع پونجی استعمال کر رہا ہو، جب پنشنرز اپنی دوائیوں اور گھریلو اخراجات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں، جب تنخواہ دار طبقہ ہر ماہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس کی صورت میں ادا کر رہا ہو، ایسے میں پارلیمانی مراعات میں غیر معمولی اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان صرف بنیادی تنخواہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ سفری سہولیات، رہائش، طبی سہولیات، کمیٹی الاؤنسز، دفتری اخراجات، معاون عملہ اور دیگر متعدد مراعات بھی قومی خزانے سے حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کئی سہولیات پارلیمانی فرائض کی انجام دہی کے لیے قانونی طور پر فراہم کی جاتی ہیں، تاہم جب انہی دنوں عوام کو کفایت شعاری اور قربانی کا درس دیا جا رہا ہو تو ان مراعات کا مجموعی حجم عوامی ردعمل کو جنم دینا ایک فطری امر ہے۔دوسری جانب سرکاری ملازمین کی حالت قابلِ رحم ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں ان کی تنخواہوں میں ہونے والے اضافے مہنگائی کی رفتار کے مقابلے میں نہایت معمولی رہے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم، جس کی تنخواہ کا ہر روپیہ ٹیکس نیٹ میں موجود ہے، اپنے بچوں کی تعلیم، علاج، کرایہ، بجلی، گیس اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ مہنگائی نے اس کی قوتِ خرید کو اس حد تک متاثر کر دیا ہے کہ ماہانہ بجٹ بنانا بھی ایک مشکل امتحان بن چکا ہے۔ اگر مہنگائی واقعی اتنی شدید ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں تقریباً تین گنا اضافہ ضروری سمجھا گیا، تو پھر یہی اصول لاکھوں سرکاری ملازمین کے لیے کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو شفافیت اور جوابدہی ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ قومی خزانے سے عوامی نمائندوں پر مجموعی طور پر کتنا خرچ کیا جا رہا ہے، انہیں کون کون سی مراعات حاصل ہیں، ان کی حاضری، قانون سازی میں کارکردگی، اثاثوں کے گوشوارے اور ٹیکس کی ادائیگی کی صورتحال کیا ہے۔ جمہوریت میں اعتماد صرف انتخابات سے نہیں بلکہ مسلسل جوابدہی سے قائم رہتا ہے۔ اگر عوام سے ہر سال ٹیکس گوشوارے، اثاثوں کی تفصیلات اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو عوامی نمائندوں کو بھی اسی معیار پر پورا اترنا چاہیے۔اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ اپنے لیے وہی معیار اختیار کرے جس کا تقاضا وہ عوام سے کرتی ہے۔ پارلیمانی تنخواہوں اور مراعات کا تعین ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ خود پارلیمنٹ اپنے لیے فیصلے کرے۔ مستقبل میں کسی بھی اضافے کو ملک کی معاشی کارکردگی، مہنگائی میں کمی، فی کس آمدنی، مالی خسارے اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ قومی وسائل کی تقسیم میں انصاف کا عنصر موجود ہے۔جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتی ہے۔ یہ اعتماد اس وقت مجروح ہوتا ہے جب حکمران طبقہ وہ قربانی دینے کے لیے تیار نہ ہو جس کا مطالبہ وہ عوام سے کرتا ہے۔ قیادت کا مطلب صرف اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ مثال قائم کرنا بھی ہے۔ قوم انہی رہنماؤں پر اعتماد کرتی ہے جو مشکل وقت میں اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، جو مراعات سے پہلے عوامی ریلیف کے بارے میں سوچیں، اور جو اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھیں، نہ کہ ذاتی آسائش کا وسیلہ۔ کستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی اخلاقیات کی بھی ہے۔ جب تک حکمران طبقہ اور عام شہری ایک ہی معاشی حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے، اس وقت تک عوام کے دلوں میں یہ احساس باقی رہے گا کہ ریاست کی نظر میں حقیقی “عوام” وہ نہیں جو بجلی، گیس، ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بیٹھ کر انہی عوام سے مزید قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوامی اعتماد اسی دن بحال ہوگا جب حکمران طبقہ یہ ثابت کرے گا کہ وہ بھی انہی مشکلات کا شریک ہے جنہیں برداشت کرنے کا مشورہ وہ پوری قوم کو دیتا ہے۔
18