تنظیمِ مغلیہ مرکز پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تنظیم کے سینئر رکن اور سینئر صحافی زمان مغل کے خلاف خبروں کی اشاعت اور نشر کرنے پر مقدمہ درج کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس کے شرکاء نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ زمان مغل کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور متفقہ قرارداد منظور کی جس میں صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، انہیں ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر ہراساں کرنا یا جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیمِ مغلیہ مرکز پاکستان ہر سطح پر زمان مغل کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور عوامی حمایت جاری رکھے گی۔اجلاس میں سرپرستِ اعلیٰ مرزا سعید اختر، چیئرمین سرفراز مغل، صدر عمر مغل، سینئر نائب صدر عاطف مغل، نائب صدر غزنفر مغل، جنرل سیکرٹری غلام حسین عرفانی، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی قیصر مرزا، ذبیر بیگ۔ وقار فانی، سردار عبدالقدیر، رضا مغل، ذوالفقار مغل، شاہد مغل اور دیگر عہدیداران و اراکین نے شرکت کی۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیمِ مغلیہ مرکز پاکستان آزادیٔ صحافت، قانون کی بالادستی اور اپنے ممبران کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی، اور کسی بھی صحافی یا تنظیمی رکن کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں ہر جمہوری اور قانونی فورم پر اس کی بھرپور آواز بلند کی جائے گی
1