1

تاریخ میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک تاریخ نہیں رہتے بلکہ ایک قوم کے درد، جدوجہد اور امید کی علامت بن جاتے ہیں۔ پانچ اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے یومِ استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے

تاریخ میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک تاریخ نہیں رہتے بلکہ ایک قوم کے درد، جدوجہد اور امید کی علامت بن جاتے ہیں۔ پانچ اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے یومِ استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے بلکہ ان کی سیاسی، سماجی اور آئینی شناخت کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اور ان کے ہمدرد اس دن کو کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل اور ان کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے گا، لیکن افسوس کہ آج تک ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کئی برسوں سے مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی ادارے بارہا اس خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیاں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، مواصلاتی نظام کی بندش اور روزمرہ زندگی میں درپیش مشکلات ایسے عوامل ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستانی قوم کا یہ مؤقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دیا جائے اور اس دیرینہ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اس بیان کی اہمیت آج بھی برقرار ہے، کیونکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان مذہبی، ثقافتی، سماجی اور تاریخی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔پانچ اگست کا دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے یکساں اصول اپنانے چاہییں۔ اگر دنیا کے کسی بھی خطے میں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے تو عالمی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ مسئلہ کشمیر بھی اسی توجہ کا متقاضی ہے۔آج پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ یکجہتی محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ اس عزم کا اظہار ہے کہ کشمیری عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہر سفارتی اور اخلاقی کوشش جاری رکھی جائے گی۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وقت کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو انصاف، قانون اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہی راستہ خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ پانچ اگست کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، حق اور انصاف کی آواز کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں