1

آئی سی سی آئی میں مسابقتی قانون سے متعلق آگاہی سیشن کا انعقاد مسابقتی قانون سے آگاہی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے: فرید احمد تارڑ مسابقتی قانون کی بہتر سمجھ سرمایہ کاری دوست معیشت کی بنیاد ہے: سردار طاہر محمود

اسلام آباد: چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے کہا ہے کہ مسابقتی قانون سے متعلق آگاہی اور مختلف اداروں کے اختیارات و ذمہ داریوں کی واضح سمجھ ہی پاکستان میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار کاروباری ماحول کے قیام کی ضمانت ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کے روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس تعمیری اور باہمی مکالمے نے سی سی پی کے قانونی مینڈیٹ، طریقہ کار اور نفاذ کے نظام کو براہِ راست کاروباری برادری کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ کمیشن کو درپیش عملی چیلنجز پر بھی کھل کر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شرکاء کی بھرپور دلچسپی اس امر کا ثبوت ہے کہ کاروباری برادری مسابقتی قوانین اور ریگولیٹری تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی خواہاں ہے۔فرید احمد تارڑ نے واضح کیا کہ کمپٹیشن کمیشن کے اختیارات کے بارے میں عمومی طور پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا کام مسابقت کے خلاف سرگرمیوں، گمراہ کن تشہیر، کارٹلائزیشن اور مارکیٹ میں غلبے کے ناجائز استعمال کی روک تھام ہے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو لائسنس جاری کرنا، سرمایہ کاروں کی رقوم کی واپسی، فوجداری تحقیقات کرنا یا دیگر ریگولیٹری اداروں کے دائرۂ اختیار میں آنے والے معاملات نمٹانا سی سی پی کی ذمہ داری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا بنیادی مقصد منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا اور درست تجارتی طرزِ عمل کے ذریعے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔چیئرمین سی سی پی نے کہا کہ کمیشن کی کارروائیوں کا مقصد مسابقت کے خلاف رویوں کی حوصلہ شکنی اور تمام کاروباری اداروں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی، سیمنٹ اور صارفین کی مصنوعات کے شعبوں میں سی سی پی کی مداخلت سے غیر مسابقتی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی، مارکیٹ میں نظم و ضبط بہتر ہوا اور صارفین کا تحفظ مضبوط ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن ڈیجیٹل مارکیٹس، ای کامرس اور ابھرتے ہوئے کاروباری ماڈلز جیسے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی اپنی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ پاکستان کا مسابقتی نظام عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رہے۔ آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ اپنے اشتراک کو پاکستان کے معاشی مستقبل میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ اور شفاف مسابقتی ماحول جدت، سرمایہ کاری اور صارفین کے اعتماد کو فروغ دیتا ہے، جو پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر عناصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی مسابقتی قانون سے متعلق آگاہی کے فروغ، ادارہ جاتی تعاون کے استحکام اور نجی شعبے اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان مسلسل رابطوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ قانون کی پاسداری کو محض ایک قانونی تقاضے کے بجائے کاروباری مسابقت، شفافیت اور ترقی کا ذریعہ سمجھا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر مستقبل میں بھی سی سی پی کے ساتھ آگاہی پروگراموں، تربیتی سرگرمیوں اور پالیسی مکالمے میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر اکرام الحق، سلمان ظفر، محترمہ مریم پرویز اور محترمہ مالیحہ قدوس نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے مقاصد، قانونی دائرۂ کار، نفاذ کے نظام اور ادارے کے کردار پر تفصیلی پریزنٹیشنز دیں۔ آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے سیشن کی نظامت کی اور کمیشن کی کارکردگی اور اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا ایک بھرپور اور دلچسپ سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مسابقتی قانون، صارفین کے حقوق اور ریگولیٹری معاملات سے متعلق مختلف سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری، سابق صدر باصر داؤد، ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی اور وسیم چوہدری، سابق سینئر نائب صدور نوید ملک اور خالد چوہدری، سابق نائب صدور اشفاق احمد چھٹہ اور اخونزادہ فہیم سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں