اسلام آباد (سٹی رپورٹر) راجہ ارشد کیانی نے اپنے دیرینہ سکول و کالج کے دوستوں سے ملاقات کے دوران ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے موبائل اور سوشل میڈیا کے دور میں وہ خلوص اور محبت کہیں کھو گئی ہے جو کبھی دوستوں کے درمیان ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ سکول و کالج کا زمانہ زندگی کا سب سے خوبصورت دور تھا، جب سب دوست ایک ساتھ پڑھتے، کھیلتے، ہنستے، ایک ہی تھالی میں کھانا کھاتے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہر دوست اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا، کوئی اعلیٰ افسر بن گیا، کسی نے کاروبار شروع کر لیا جبکہ کئی دوست روزگار کی خاطر بیرون ملک آباد ہو گئے، مگر دل آج بھی انہی پرانی گلیوں، سکول کے صحن اور دوستوں کی محفلوں میں اٹکا ہوا ہے۔ راجہ ارشد کیانی نے کہا کہ آج جدید ٹیکنالوجی، موبائل فون اور ویڈیو کالز نے رابطے آسان ضرور بنا دیے ہیں، لیکن سامنے بیٹھ کر گھنٹوں گپ شپ لگانے، ہنسی مذاق کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا لطف اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دوست کم اور بھائی زیادہ ہوتے تھے، جن کے درمیان نہ دکھاوا تھا، نہ مفاد، بلکہ خلوص، محبت اور ایثار کا جذبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سکول و کالج کے دنوں میں اگر کسی دوست کے پاس پیسے نہ ہوتے تو سب مل کر اس کے لیے کھانے کا انتظام کرتے، ایک دوسرے کی کتابیں اور کاپیاں استعمال کرتے، اکٹھے کرکٹ کھیلتے، ٹیوشن جاتے اور رات گئے تک مستقبل کے خواب سجایا کرتے تھے۔امتحانات، اساتذہ کی ڈانٹ، عید کی خوشیاں اور معمولی ناراضگیوں کے بعد فوراً صلح کر لینا آج بھی دل میں تازہ یادوں کی صورت موجود ہے۔ راجہ ارشد کیانی نے اپنے تمام پرانے دوستوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی اور کامیابی عطا فرمائے اور ایک بار پھر سب دوستوں کو اکٹھا ہونے کا موقع دے تاکہ وہی پرانی محفلیں دوبارہ سج سکیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو پیغام دیا کہ ترقی اور مصروفیات کے باوجود اپنے پرانے دوستوں اور رشتوں کو نہ بھولیں، وقت نکال کر ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور حال احوال پوچھتے رہیں، کیونکہ زندگی کی اصل دولت خلوص بھرے رشتے اور مخلص دوست ہوتے ہیں۔
27