ہم نے اسے نقشوں، نعروں اور دعووں میں تو بہت دیکھا، مگر اس انسان کو نہیں دیکھا جس کا مستقبل اسی مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔
شاید اسی لیے 1947 سے یہ سوال آج تک ہمارے سامنے ہے اور جواب ابھی تک ندارد۔
تقسیمِ ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر کا معاملہ حل نہ ہو سکا، یا یوں کہیے کہ اسے حل ہونے نہیں دیا گیا۔
مہاراجہ ہری سنگھ کا تذبذب، قبائلی یلغار، بھارتی فوج کی آمد، الحاق اور پھر جنگ۔
ان سب واقعات نے ایک ایسے تنازع کو جنم دیا جو بعد میں اقوام متحدہ تک جا پہنچا۔
1948 میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے امن کی بحالی اور کشمیر کے مستقبل کے لیے رائے شماری کا اصول سامنے آیا، مگر یہ معاملہ آج تک حل طلب ہے۔ 1947-48 کی پہلی جنگ کے بعد 1965، 1971 اور پھر 1999 کی کارگل جنگ تک یہ تنازع مختلف شکلوں میں خطے کے امن کو متاثر کرتا رہا۔
جنگوں کے درمیان ہونے والے معاہدے اور سیاسی کوششیں بھی اس الجھاؤ کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکیں۔
یہاں ساحر لدھیانوی کی آواز جیسے بار بار یاد دلاتی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں:
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تقسیم کے وقت کے فیصلوں، برطانوی انتظام اور اس دور کی سیاسی مصلحتوں نے اس تنازع کو پیدا کرنے یا طول دینے میں کیا کردار ادا کیا؟
اس کا جواب نعروں سے نہیں، تاریخ کے ریکارڈ سے ہی تلاش کرنا ہوگا۔پھر 5 اگست 2019 آیا۔ بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کیے اور سابق ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کی دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیا۔ بعد کے آئینی اور عدالتی اقدامات نے اس نئی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا،
کشمیر میں رہنے والے انسان کی سیاسی اور انسانی آواز کہاں ہے؟5 اگست کے بعد پابندیوں، گرفتاریوں، اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے کئی سوالات اٹھے۔ دوسری طرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی سیاسی اور شہری حقوق کے مسائل سامنے آتے رہے۔ انسانی حقوق سرحدوں کے ساتھ اپنا معیار نہیں بدلتے۔
ساحر ہی کے لفظوں میں اگر سوچا جائے تو:خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
کشمیر کی اہمیت صرف تاریخ تک محدود نہیں۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازع پورے جنوبی ایشیا کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ جب بیانات کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو عام آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اگلی خبر موسم کی نہیں بلکہ جنگ کی پیش گوئی ہو؛ حالاں کہ جنگ کسی مسئلے کا آخری حل نہیں، بلکہ اکثر نئے مسائل کی ابتدا ثابت ہوتی ہے۔
اس لیے پاکستانی اور ہندوستانی عام شہری کو کشمیر کو صرف اپنے قومی نقشے سے نہیں بلکہ وہاں کے انسان کی نظر سے بھی دیکھنا ہوگا۔ اگر حقِ خود ارادیت ایک اصول ہے تو اسے اپنی پسند کے نتیجے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہیں، بھارت سے یا کوئی الگ سیاسی راستہ اختیار کریں، بنیادی سوال یہی رہتا ہے:
کیا ان کی آزادانہ اور منصفانہ رائے کا احترام ہوگا؟
ہم نے بہت سے نقشے بنائے، دعوے کیے اور تقریریں کیں۔ اب شاید ایک سوال اور زیادہ اہم ہو گیا ہے:
کشمیر کس کا ہے؟
اس سے پہلے یہ پوچھنا زیادہ ضروری ہے:
کشمیر کے لوگوں کا حق کیا ہے؟
یہ سوال کسی ملک کے خلاف نہیں، بلکہ انسان کے حق میں ہے۔
شاید کشمیر کا اگلا باب جنگ سے نہیں، مکالمے سے؛ دعوے سے نہیں، اعتماد سے؛ اور طاقت سے نہیں، انصاف سے لکھا جائے۔۔
1