11

پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تجارت 50 کروڑ ڈالر تک فروغ دیا جاسکتا ہے، میجر جنرل (ر) ممتاز حسین ے سی سی آئی لیبیا کے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ روابط قائم کرے گا، صدر ریحان حنیف

کراچی ( بیورو چیف ) لیبیا میں نامزد پاکستانی سفیر میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے پاکستانی تاجر برادری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لیبیا میں تعمیر نو کی وجہ سے پیدا ہونے والے تجارتی، سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ شمالی افریقا کا یہ ملک اس وقت بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں درآمدی اشیاء، ہنر مند افرادی قوت اور کاروباری شراکت داری کی بہت زہادہ ضرورت ہے۔اگر نجی شعبہ ادارہ جاتی تعاون اور بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے فعال طور پر شامل ہوا تو پاکستان کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے اور دوطرفہ تجارت 500 ملین ڈالر تک پہنچنے کی کی امید ہے۔یہ بات انہوں نے بدھ کے روز کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی،چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر محمد ادریس، کے سی سی آئی منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور ممتاز کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ عدم استحکام کے تاثر کے باوجود لیبیا پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے بے شمار غیر استعمال شدہ مواقعوں کا حامل ملک ہے۔ لیبیا کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 46 سے 47 ارب ڈالر ہے، فی کس آمدنی نسبتاً زیادہ ہے اور اس کے پاس خاطر خواہ مالی وسائل موجود ہیں جو اسے تجارت و سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔ انہوں نے لیبیا میں سیکورٹی صورتحال کے بارے میں کئی غلط فہمیوں کا دور کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ملک میں نہ جنگ، نہ امن جیسی صورتحال ہے تاہم حالات عام تاثر سے کہیں زیادہ مستحکم ہیں اور ملک بھر میں تعمیرِ نو کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں جس کی وجہ سے درآمدی مصنوعات اور خدمات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین جیسے ممالک نے ہمیشہ چیلنجز کا سامنے کرنے والے خطوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور ان چیلنجز کو معاشی مواقعوں میں تبدیل کیا۔ پاکستانی تاجروں کو بھی ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ مکمل استحکام کے بعد یورپی کمپنیاں مارکیٹ پر تیزی سے قبضہ کر لیں گی اور تاخیر سے آنے والوں کے لیے گنجائش محدود رہ جائے گی۔
پاکستانی سفیر نے شرکاء کو بتایا کہ لیبیا کو اس وقت تقریباً 50 ہزار ہنر مند ورکرز کی ضرورت ہے جبکہ اس حوالے سے پاکستان کو ہزاروں افراد کی فراہمی کی باضابطہ درخواست بھی موصول ہو چکی ہے تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں بے روزگاری کے باوجود سیکورٹی سے متعلق غلط فہمیوں کی وجہ سے ہنر مند افراد مطلوبہ تعداد میں آگے نہیں آ رہے۔ انہوں نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان بیرون ملک پاکستانی ورکرز کی سلامتی اور فلاح کو یقینی بناتے ہوئے لیبیا میں قانونی طور پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں لیبیا میں اپنی سفارتی موجودگی کو مزید مستحکم کیا ہے۔ طرابلس میں پاکستانی مشن کے علاوہ اب بن غازی میں بھی ایک قونصلر تعینات کردیا گیا ہے جس سے لیبیا کی دونوں اہم انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنایا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ لیبیا تعمیرِ نو کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر، رہائشی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کی تعمیر کے لیے تقریباً ہر قسم کی اشیاء درآمد کر رہا ہے تاہم زیادہ تر درآمدات مصر اور ترکی سے ہو رہی ہیں۔ پاکستانی سفیر نے تاجر برادری کی طرف سے بینکنگ چینلز اور ادائیگی کے نظام سے متعلق سوالات کے جواب میں بتایا کہ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بات چیت ہوچکی ہے۔اسٹیٹ بینک نے لیبیا کے ساتھ قانونی تجارتی لین دین کو آسان بنانے کے لیے عملی بینکاری انتظامات اور متبادل طریقہ کار وضع کرنے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر سے کم ہو کر 30 ارب ڈالر رہ گئی ہیں جس سے نئی مارکیٹوں کی تلاش اور رسائی ناگزیر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں چیلنجز ہیں وہاں مواقع بھی موجود ہوتے ہیں اس لیے برآمدات میں اضافہ پاکستان کی اولین معاشی ترجیح ہونا چاہیے۔ ممتاز حسین نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئیکہا کہ ان کا سب سے پہلا ہدف اپنی تعیناتی کے دوران پاکستان اور لیبیا کی تجارت کو کم از کم دگنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کے سی سی آئی ممبران کو یقین دلایا کہ وہ تاجر برادری کے لیے براہِ راست دستیاب رہیں گے اور تجارتی معاملات میں ذاتی طور پر تعاون کریں گے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بی ٹو بی اور چیمبر ٹو چیمبر کی شمولیت حکومتی سطح پر صرف انحصار کرنے سے زیادہ تیز اور زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔انہوں نے کے سی سی آئی سے لیبیا کے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ براہ راست ادارہ جاتی روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ مارکیٹ کی کے مکمل صلاحیتکو بروئے کار لایا جا سکے۔س موقع پر صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف نے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ لیبیا ایک برادر اسلامی ملک ہے جس میں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں مگر افسوس کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم دونوں ممالک کے درمیان قائم بہترین تعلقات کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کو برآمدات میں توسیع ایک قومی ترجیح ہونی چاہیے بالخصوص ایسے وقت میں جب پاکستان اپنیزرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لیبیا سالانہ تقریباً 31 ارب ڈالرکی درآمدات کرتا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات صرف ایک کروڑ 50 سے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہیں جو لیبیا کی مجموعی درآمدات کا محض 0.04 فیصد بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معمولی شیئر پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے غیر معمولی مواقعوں کی نشاندہی کرتا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب لیبیا میں تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔ ریحان حنیف نے نامزد سفیر کو بتایا کہ اس وقت لیبیا کے لیے پاکستان کی برآمدات زیادہ تر ٹیکسٹائل تک محدود ہیں جبکہ محدود مقدار میں کیمیکلز، زرعی مصنوعات اور ادویات بھی برآمد کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان لیبیا سے بنیادی طور پر لوہا اور اسٹیل درآمد کرتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی شعبوں میں مزید تنوع لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فرنیچر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، نٹ ویئر، چاول، ادویات، سیرامکس، سینیٹری ویئر، ٹائلز، فاسٹس اور کھیلوں کے سامان سمیت کئی شعبوں میں کامیابی سے لیبیا کی مارکیٹ میں اپنا شیئر بڑھا سکتا ہے جہاں اس وقت دیگر ممالک اپنی مصنوعات فراہم کر رہے ہیں۔صدر کے سی سی آئی نے لیبیا میں پاکستانی سفارتی مشن زور دیا کہ وہ کے سی سی آئی اور لیبیا کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم کروانے، کاروباری نیٹ ورکنگ کے مواقعوں کا اہتمام اور پاکستانی برآمد کنندگان کو لیبیا میں قابل اعتماد درآمد کنندگان، ڈسٹری بیوٹرز اور تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں مدد فرایم کریں۔ ریحان حنیف نے نامزد سفیر کو دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کراچی چیمبر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی مشن اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان لیبیا کی درآمدی مارکیٹ میں اپنا شیئر نمایاں طور پر بڑھانے اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

عامر حسن
ایڈیشنل سیکٹری جنرل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں