کراچی )( کامرس رپورٹر )ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کراچی آزاد خان نے تاجر برادری کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے معاشی مرکز کراچی کا تحفظ سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے کیونکہ شہر کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کا تحفظ درحقیقت پاکستان کی معیشت کے تحفظ کے مترادف ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ کراچی پولیس نے انٹیلیجنس ایجنسیوں اور دیگر اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے پولیسنگ کو مضبوط بنایا ہے جس کے نتیجے میں بڑے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے یہ عزم دہرایا کہ بھتہ خوروں، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ، بزنس مین گروپ(بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا، وائس چیئرمین انجم نثار، صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف، سینئر نائب صدرمحمد رضا، نائب صدر عارف لاکھانی، چیئرمین لاء اینڈ آرڈر سب کمیٹی اکرم رانا، چیف پولیس چیمبر لائژن کمیٹی (پی سی ایل سی) حفیظ عزیز، کے سی سی آئی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین اور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے مزید کہا کہ کراچی کا کاروباری و تجارتی مرکز سندھ پولیس کی آپریشنل ترجیحات میں سرفہرست ہے کیونکہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کا انجن ہے۔کراچی میں اٹھایا جانے والا ہر سیکیورٹی اقدام صرف اس شہر کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے معاشی استحکام کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اپنی اس ذمہ داری سے بخوبی واقف ہے کہ ایسا پرامن اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا باعث بنے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران سندھ بھر میں دہشتگردی کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں سال یہ تعداد صرف 8 رہی اور کوئی بڑا دہشتگرد حملہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا مؤثر انٹیلیجنس، پیشگی کارروائیوں اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو دیا۔انہوں نے اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے کہا کہ یہ اب بھی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت مجموعی اسٹریٹ کرائم میں تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈکیتی کے دوران قتل کے واقعات میں تقریباً 30 فیصد، ڈکیتی کے دوران زخمی ہونے کے واقعات میں 40 فیصد جبکہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں بھی تقریباً 30 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی طرح موٹر سائیکل اور گاڑی چوری کے واقعات میں بھی تقریباً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اگرچہ موبائل فون چھیننے کے واقعات میں معمولی اضافہ ہوا تاہم مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بھتہ خوری کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ کراچی پولیس نے بھتہ خوروں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور ایسے مقدمات پولیس کی آپریشنل ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پولیس مقابلوں میں 9 بھتہ خور ہلاک ہوئے، تقریباً 15 زخمی ہوئے جبکہ 61بھتہ خوروں کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے اور شہریوں کو ہدایت کی کہ انہیں ملازمت یا پناہ نہ دی جائے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ نئے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے نتیجے میں ہیوی وہیکل حادثات میں اموات 40 فیصد کم ہوئی جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 60 قیمتی جانیں بچانے اور 217 شہریوں کو شدید زخمی یا مستقل معذوری سے محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی ٹریفک پولیس نے شہر میں پہلی مرتبہ ٹریفک جام پر ایک جامع سائنسی تحقیق بھی شروع کی ہے جس کے تحت مصروف اوقات میں اہم شاہراہوں پر سفر کے دورانیے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ٹریفک انجینئرنگ اور انتظامی اصلاحات کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والانے کہا کہ اگرچہ شہر بھر کی امن و امان کی صورتحال اہم ہے تاہم سب سے پہلے کراچی کی روایتی تجارتی منڈیوں بالخصوص جوڑیا بازار، کلاتھ مارکیٹ اور دیگر ہول سیل تجارتی مراکز کے تاجروں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ ان مارکیٹوں کو سیکیورٹی، تجاوزات، ٹریفک کی بدترین صورتحال اور انتظامی کارروائیوں جیسے مستقل مسائل کا سامنا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے انسداد تجاوزات مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکثر مستند دکاندار بلاوجہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ غیر قانونی ٹھیلے اور پتھارے بدستور قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کارروائیاں شفاف اور منصفانہ ہونی چاہیے تاکہ حقیقی کاروباری طبقہ متاثر نہ ہو۔انہوں نے تجویز دی کہ کراچی پولیس ہر بڑی مارکیٹ کے لیے مخصوص فوکل پرسن مقرر کرے تاکہ مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ مستقل رابطہ قائم رہے اور روزمرہ کے سیکیورٹی و انتظامی مسائل بروقت حل کیے جا سکیں۔انہوں نے آن لائن ایف آئی آر رجسٹریشن سسٹم متعارف کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ٹریفک نظام میں جدید ٹیکنالوجی کامیابی سے نافذ کی گئی ہے اسی طرح جرائم سے متعلق شکایات کے اندراج کو بھی ڈیجیٹل بنایا جائے۔ وائس چیئرمین بی ایم جی انجم نثار نے کراچی پولیس کے تاجر برادری کے ساتھ مسلسل رابطوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر ڈائیلاگ ہی ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہے جو معاشی ترقی و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف نے کراچی کے مجموعی سیکیورٹی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ چار پانچ سال پہلے کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کا کریڈٹ سندھ پولیس کو جاتا ہے جس نے امن بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں اضافے کے باعث تشویش ہیں اور حالات کو اب بھی تسلی بخش نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے پولیس قیادت پر زور دیا کہ اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف مزید مؤثر اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی جائے کیونکہ بظاہر معمولی نظر آنے والے موبائل فون یا نقدی چھیننے کے واقعات اکثر بے گناہ شہریوں کی جان لے لیتے ہیں۔صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کراچی کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے اگر شہر بھر میں کیمروں کے ذریعے نگرانی کے نظام کو وسعت دی جائے تو جرائم کی روک تھام، تفتیش کے معیار اور عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
39