68

کراچی چیمبر اور وفاقی انشورنس محتسب کے درمیان انشورنس تنازعات کے فوری حل پر اتفاق، کے سی سی آئی، ایس ای سی پی، ایف آئی او پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے، کراچی چیمبر فوکل پرسن مقرر کرے،مبشر نعیم صدیقی، انشورنس سے متعلق آگاہی، تربیتی سیشنز کے انعقاد میں کے سی سی آئی ہر ممکن تعاون کرے گا، ریحان حنیف

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور وفاقی انشورنس محتسب نے انشورنس سے متعلق تنازعات کے تیز تر حل، ریگولیٹری اداروں میں بہتر ہم آہنگی اور پالیسی ہولڈرز کے حقوق سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے تاجر برادری کی سہولت کے لیے باہمی ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں منعقدہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل وفاقی انشورنس محتسب مبشر نعیم صدیقی، مشیر ایف آئی او فضل ابریجو، صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لکھانی، کے سی سی آئی کی بینکنگ اینڈ انشورنس سب کمیٹی کے چیئرمین عاصم اعجاز اور کے سی سی آئی ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی او مبشر نعیم صدیقی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر برادری کی جانب سے اٹھائے گئے انشورنس سے متعلق مسائل، بالخصوص موجودہ علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے باعث ٹریڈ انشورنس اور ری انشورنس کے شعبے کو درپیش مشکلات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام کے ادوار میں ری انشورنس کے اخراجات میں اکثر نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے بین الاقوامی تجارت سے وابستہ کاروباری اداروں کے انشورنس پریمیم اور کوریج متاثر ہوتی ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں حالات ہونے کے ساتھ ہی یہ صورتحال معمول پر آ جائے گی۔انہوں نے ان خدشات کے ازالے کے لیے تجویز دی کہ کے سی سی آئی، وفاقی انشورنس محتسب سیکرٹریٹ اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) پر مشتمل ایک خصوصی مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ ان مسائل کا تفصیلی جائزہ لے کر عملی حل تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ کے سی سی آئی، ایس ای سی پی اور ایف آئی او سیکرٹریٹ کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ پالیسی میں بہتری لائی جا سکے اور صنعت کے مخصوص مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ مبشر صدیقی نے وفاقی انشورنس محتسب کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ انشورنس آرڈیننس 2000 اور فیڈرل محتسب انسٹی ٹیوشنل ریفارمز ایکٹ 2013 کے تحت قائم کردہ ایک آزاد الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) فورم ہے جو انشورنس تنازعات کا مفت، تیز رفتار اور غیر جانبدارانہ حل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ کوئی بھی فرد، کمپنی یا پالیسی ہولڈر جسے اپنے جائز انشورنس کلیمز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو وہ بغیر کسی قانونی مشیر کی خدمات حاصل کیے ایف آئی او سے رجوع کر سکتا ہے جہاں شکایات مفت حل کی جاتی ہیں جن میں سے تقریباً 95 فیصد مقدمات 60 دن کے اندر نمٹا دیے جاتے ہیں جبکہ 90 فیصد سے زائد کیسز ثالثی اور مصالحت کے ذریعے باہمی رضامندی سے حل کیے جاتے ہیں۔ایف آئی او سیکرٹریٹ نے گزشتہ سال تاخیر کا شکار یا متنازع انشورنس کلیمز کے حل کے ذریعے 1.5 ارب روپے سے زائد کی مالی امداد فراہم کی۔ انہوں نے ایس ای سی پی کے تعاون سے صارفین کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کا بھی ذکر کیا جن میں انشورنس پالیسی دستاویزات کا اردو اور انگریزی میں اجراء اور پالیسی دستاویزات پر وفاقی انشورنس محتسب کی رابطہ تفصیلات شامل کرنا شامل ہے تاکہ پالیسی ہولڈرز بروقت شکایات درج کرا سکیں۔انہوں نے تاجر برادری کے ساتھ رابطے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تجویز دی کہ کے سی سی آئی ایک فوکل پرسن نامزد کرے تاکہ اراکین کی انشورنس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک ورچوئل لائژن ڈیسک قائم کی جا سکے۔ انہوں نے کے سی سی آئی ممبران کے لیے باقاعدگی سے آگاہی سیمینار، تربیتی سیشن اور تکنیکی بریفنگ کے انعقاد کی پیشکش بھی کی۔مزید برآں انہوں نے اعلان کیا کہ ایف آئی او سیکرٹریٹ کے سی سی آئی کے ساتھ باقاعدگی سے آگاہی سے متعلق مواد شیئر کرے گا تاکہ اسے اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تاجر برادری تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کے سی سی آئی کی سوشل میڈیا سب کمیٹی اور بینکنگ اینڈ انشورنس سب کمیٹی کے نمائندوں کو سیکرٹریٹ کے ماہانہ آگاہی اجلاسوں میں شرکت کی دعوت بھی دی جس سے معلومات کا تبادلہ اور مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی ممکن ہو سکے گی۔ صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پالیسی ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ اور پاکستان کے انشورنس سیکٹر پر اعتماد بحال کرنے کے حوالے سے خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے، تجارتی سہولت، کاروباری خطرات سے نمٹنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابلِ بھروسہ، شفاف اور مؤثر انشورنس نظام ناگزیر ہے۔ اسی طرح ایک ایسے آزاد ادارے کا وجود بھی اتنا ہی اہم ہے جو انشورنس تنازعات کو منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا تجارتی اور مالیاتی مرکز ہونے کے ناطے تجارت، صنعت، برآمدات اور ٹیکس محصولات کے ذریعے قومی معیشت میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہ اگرچہ تاجر برادری قوانین پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے تاہم کاروباری لاگت اور پیچیدگی کو کم کرنے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کا کاروبار دوست، قابل پیشگوئی اور معاون ہونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کے سی سی آئی ممبران کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے ریگولیٹری تقاضوں میں مزید وضاحت، ریگولیٹری اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی، تعمیل سے متعلق مسائل کے بروقت حل اور تقاضوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ایف آئی او سیکرٹریٹ کو یقین دلایا کہ کے سی سی آئی آگاہی اجلاسوں، تربیتی پروگرامز اور مشاورتی نشستوں کے انعقاد میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا تاکہ کاروباری اداروں کو انشورنس سے متعلق امور پر آگاہی حاصل ہو سکے اور ریگولیٹرز بھی نجی شعبے کو درپیش عملی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کے سی سی آئی اور ایف آئی او سیکرٹریٹ کے مابین مضبوط تعاون سے پالیسی ہولڈرز کے لیے انصاف تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، انشورنس انڈسٹری پر اعتماد بڑھے گا اور پاکستان میں ایک زیادہ شفاف، مضبوط اور کاروبار دوست اقتصادی ماحول کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں