62

پٹرول کی قیمت اور وفاقی وزراء کا موقف تحریر خالد چوہدری

پاکستان میں پٹرولیم کی مقامی پیداوار ٹوٹل کا چوبیس فی صد ہے۔ مختلف کمپنیاں تیل نکال کر مقامی ریفائنریز میں سپلائی کرتی ہیں۔ جو مقامی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ راولپنڈی کی ریفائنری گرد و نواح کے شہروں کو سپلائی دیتی ہے ۔ یہاں پر امپورٹڈ تیل استعمال یا سپلائی نہیں ہوتا۔ پٹرولیم کمپنیوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ مارچ کی مہینہ میں پٹرول کی قیمت جنگ کی وجہ سے بڑھا دی گئیں ۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت ایک سو دس ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ مقامی تیل کی پیداوار کی قیمت میں بھی عالمی مارکیٹ جتنا اضافہ ہو گیا ۔ اور مقامی آئل کمپنیوں نے خوب مال کمایا ۔ لیوی۔ سروس چارجز – کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس مقامی تیل پر عائد کر دیئے گئے ۔ اربوں ڈالر آئل کمپنیوں نے کمائے ۔ یہ کمپنیاں کن کی ملکیت ہیں ؟ ایران امریکہ جنگ شروع ہونے سے قبل مارکیٹ 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان سے جنگ بندی کرانے کے لئے پاکستان نے مصالحتی کردار ادا کیا ۔ اس معاہدہ کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت جنگ سے پہلے والی قیمت سے بھی کم ہو گئی یعنی گذشتہ روز 67 ڈالر فی بیرل ہو گئی ۔ پوری قوم رات دیر تک انتظار کرتی رہی کہ قیمت حسب وعدہ کم کی جائے گی۔ لیکن آخری وقت پر وزارت پٹرولیم کی طرف سے سابقہ قیمت میں کوئی رد و بدل نہ کیا گیا ۔ نوٹیفیکشن کے مطابق لیوی۔ سروسز چارجز۔ کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس تقریباً فی لیٹر 100 روپے ہیں ۔ گذشتہ دنوں حکومت نے اتنی زیادہ لیوی وصول کی کہ گذشتہ برس بجٹ کے شاٹ فال کو پورا کیا گیا ۔ آسانی سے زیادہ قیمت اور ٹیکس وصول کئے گئے ۔ ایران پاکستان کو تیل سپلائی کرنے کے لئے تیار ہے۔ گیس پائپ لائن بھی مکمل کرنے کو تیار ہے لیکن پاکستان میں پٹرول مافیا اتنا زیادہ مظبوط ہے کہ انہوں نے حکومت کو قیمت کم نہ کرنے پر مجبور کیا ۔ وزیر پٹرولیم علی ملک تو اس انداز میں مافیا کی ترجمانی کرتے نظر آئے کہ محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ بھی مافیا کا حصہ ہی ہیں ۔ عوام کہاں جائیں ۔ مارکیٹ 67 ڈالر ہے اور وزیر صاحب نے 90 ڈالر پر قیمت مقرر کرائی. اس میگا کرپشن کا ذمہ دار کون ہے؟ وزیر اعظم اس معاملہ پر ابھی تک خاموش ہیں۔ کون لوگ پاک ایران باہمی تجارت میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا سب کو بے نقاب کر رہا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی ایکشن نہ لیا جارہا ہے۔
پٹرول مہنگا ہونے سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایے
بڑھ گئے ہیں۔ روزمرہ کی اشیاء کی قیمت اپنے عروج پر ہیں۔ حتی کی فروٹ اور سبزی غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ خریداری کی استطات ختم ہو چکی ہے۔ ملکی بجٹ میں تاجروں کے لئے ٹیکس کی شرح میں بےجا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں تجارتی لاک ڈاؤن جاری ہے ۔ کاروبار نہیں ہوگا تو ٹیکس کیسے ادا ہونگے ۔ وزیر پٹرولیم اور وزیر بجلی و پانی معلوم نہیں کس کے انجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔ عوام پر بوجھ ڈال کر کن لوگوں کے لئے آمدن کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ ملکی معیشت کو معئشت کو نقصان پہنچانے کے دونوں ذمہ دار ہیں ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔جبکہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی خاموشی معنی خیز ہے عوام کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ کی ساکھ تواتر سے خراب ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں