اکیسویں صدی میں انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ کسی جنگ، وبا یا معاشی بحران سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) سے ہے۔ یہ صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، خوراک، پانی، صحت، معیشت، قومی سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار نہ روکی گئی تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ اس عالمی بحران کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ممالک اس کے سب سے کم ذمہ دار ہیں، وہی اس کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں، اور پاکستان اس کی نمایاں مثال ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ماحولیاتی آلودگی (Environmental Pollution) اور موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) ایک ہی چیز نہیں، اگرچہ دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہوا، پانی، زمین اور ماحول نقصان دہ مادوں سے آلودہ ہو جائیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی زمین کے درجہ حرارت، بارشوں، ہواؤں اور موسمی نظام میں آنے والی طویل المدتی تبدیلی کا نام ہے، جس کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج ہے۔ صنعتوں، گاڑیوں، کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور غیر پائیدار ترقی نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔صنعتی انقلاب نے دنیا کو ترقی دی، لیکن اس کے ساتھ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ نتیجتاً آج دنیا شدید گرمی کی لہروں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ، سمندروں کی بلند ہوتی سطح، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور غذائی و آبی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ، ایشیا اور بحرالکاہل کے جزائر، کوئی بھی خطہ اس بحران سے محفوظ نہیں۔
تاہم، اس عالمی بحران کا سب سے اہم پہلو موسمیاتی انصاف (Climate Justice) ہے۔ موسمیاتی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ جن ممالک نے دو صدیوں تک صنعتی ترقی کے ذریعے سب سے زیادہ آلودگی پیدا کی، انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ منصفانہ تعاون کرنا چاہیے۔ یہ صرف مالی امداد کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری، مساوات اور انصاف کا تقاضا ہے۔پاکستان دنیا کے مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، پانی کی قلت، سموگ، زرعی نقصان اور شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا، زراعت کو شدید نقصان پہنچا اور معیشت پر اربوں ڈالر کا بوجھ پڑا۔ یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس بحران کا ذمہ دار ہے یا وہ ایک ایسے بحران کی قیمت ادا کر رہا ہے جسے پیدا کرنے میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے؟پاکستان کی جغرافیائی ساخت بھی اسے غیر معمولی طور پر حساس بناتی ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے برفانی ذخائر، جنوب میں بحیرہ عرب، دریائے سندھ کا وسیع نظام، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منصوبہ بند شہری ترقی، جنگلات کی کمی اور محدود وسائل اس خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خوراک، پانی، صحت اور معاشی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔سموگ بھی اسی بحران کی ایک اہم کڑی ہے۔ اگرچہ سموگ براہِ راست موسمیاتی تبدیلی نہیں، لیکن دونوں کی بنیادی وجوہات مشترک ہیں، جن میں فضائی آلودگی، فوسل فیول کا زیادہ استعمال، صنعتی اخراج اور جنگلات کی کٹائی شامل ہیں۔ سموگ ہر سال لاکھوں شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔حکومت پاکستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی، بلین ٹری سونامی، ٹین بلین ٹری پروگرام، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے، “لیونگ انڈس” پروگرام، محفوظ قدرتی علاقوں میں اضافہ اور موسمیاتی موافقت کے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں۔ یہ اقدامات مثبت سمت میں اہم پیش رفت ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار صرف منصوبوں کے اعلان پر نہیں بلکہ شفاف عمل درآمد، ادارہ جاتی صلاحیت، سائنسی منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی تسلسل پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے بحران کا مقابلہ صرف مہمات سے نہیں بلکہ مستقل قومی پالیسی سے کیا جا سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، افغانستان اور چین بھی مختلف نوعیت کے موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔ جنوبی ایشیا میں مشترکہ آبی وسائل، گلیشیئرز، فضائی آلودگی، سموگ اور سیلاب جیسے مسائل سرحدوں کے پابند نہیں، اس لیے ان کا حل بھی علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ بدقسمتی سے اس شعبے میں تعاون کی رفتار اب بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، گرین کلائمیٹ فنڈ، گلوبل انوائرمنٹ فیسیلٹی اور دیگر ادارے پاکستان کو مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ 2022ء کے سیلاب کے بعد عالمی برادری نے پاکستان کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی معاونت کا اعلان بھی کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ہونے والے نقصانات ان امدادی رقوم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ امداد کا بڑا حصہ نرم قرضوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی بحران سے متاثرہ ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ گرانٹس، جدید ٹیکنالوجی، استعداد کار اور “Loss and Damage Fund” کے تحت مؤثر تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ یہ امداد نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری ہے۔دوسری طرف پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری، صاف توانائی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، پانی کے مؤثر استعمال، جدید زرعی نظام، مضبوط آفات سے نمٹنے کے اداروں، ماحولیاتی قوانین پر سخت عمل درآمد اور ماحولیات کو تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنانے جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو بھی اس قومی مہم میں شریک ہونا ہوگا، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی صرف حکومتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دنیا کے کئی ممالک، جیسے نیدرلینڈز، ڈنمارک، ناروے، سویڈن اور جاپان نے جدید منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی، مضبوط انفراسٹرکچر، مؤثر واٹر مینجمنٹ اور سخت ماحولیاتی قوانین کے ذریعے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کو بھی ان تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی ترقی کو ماحول دوست بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔آج دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری انصاف، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے؟ پاکستان موسمیاتی بحران کا خالق نہیں، لیکن اس کی قیمت ضرور ادا کر رہا ہے۔ اگر دنیا واقعی ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل چاہتی ہے تو موسمیاتی انصاف کو محض کانفرنسوں، اعلانات اور وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔آنے والی نسلیں ہمیں ہماری ترقی سے زیادہ ہمارے فیصلوں سے یاد رکھیں گی۔ اگر ہم نے آج ماحول، پانی، جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو قومی ترجیح نہ بنایا تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے اجتماعی دانش، سائنسی منصوبہ بندی، علاقائی تعاون اور عالمی ذمہ داری کے اصولوں کو اپنایا تو پاکستان نہ صرف اس بحران کے اثرات کو کم کر سکتا ہے بلکہ موسمیاتی انصاف کی عالمی جدوجہد میں ایک مضبوط اور باوقار آواز بھی بن سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا یہ تسلیم کرے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی کا سوال ہے۔اکیسویں صدی میں انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ کسی جنگ، وبا یا معاشی بحران سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) سے ہے۔ یہ صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، خوراک، پانی، صحت، معیشت، قومی سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار نہ روکی گئی تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ اس عالمی بحران کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ممالک اس کے سب سے کم ذمہ دار ہیں، وہی اس کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں، اور پاکستان اس کی نمایاں مثال ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ماحولیاتی آلودگی (Environmental Pollution) اور موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) ایک ہی چیز نہیں، اگرچہ دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہوا، پانی، زمین اور ماحول نقصان دہ مادوں سے آلودہ ہو جائیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی زمین کے درجہ حرارت، بارشوں، ہواؤں اور موسمی نظام میں آنے والی طویل المدتی تبدیلی کا نام ہے، جس کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج ہے۔ صنعتوں، گاڑیوں، کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور غیر پائیدار ترقی نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔صنعتی انقلاب نے دنیا کو ترقی دی، لیکن اس کے ساتھ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ نتیجتاً آج دنیا شدید گرمی کی لہروں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ، سمندروں کی بلند ہوتی سطح، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور غذائی و آبی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ، ایشیا اور بحرالکاہل کے جزائر، کوئی بھی خطہ اس بحران سے محفوظ نہیں۔
تاہم، اس عالمی بحران کا سب سے اہم پہلو موسمیاتی انصاف (Climate Justice) ہے۔ موسمیاتی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ جن ممالک نے دو صدیوں تک صنعتی ترقی کے ذریعے سب سے زیادہ آلودگی پیدا کی، انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ منصفانہ تعاون کرنا چاہیے۔ یہ صرف مالی امداد کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری، مساوات اور انصاف کا تقاضا ہے۔پاکستان دنیا کے مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، پانی کی قلت، سموگ، زرعی نقصان اور شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا، زراعت کو شدید نقصان پہنچا اور معیشت پر اربوں ڈالر کا بوجھ پڑا۔ یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس بحران کا ذمہ دار ہے یا وہ ایک ایسے بحران کی قیمت ادا کر رہا ہے جسے پیدا کرنے میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے؟پاکستان کی جغرافیائی ساخت بھی اسے غیر معمولی طور پر حساس بناتی ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے برفانی ذخائر، جنوب میں بحیرہ عرب، دریائے سندھ کا وسیع نظام، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منصوبہ بند شہری ترقی، جنگلات کی کمی اور محدود وسائل اس خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خوراک، پانی، صحت اور معاشی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔سموگ بھی اسی بحران کی ایک اہم کڑی ہے۔ اگرچہ سموگ براہِ راست موسمیاتی تبدیلی نہیں، لیکن دونوں کی بنیادی وجوہات مشترک ہیں، جن میں فضائی آلودگی، فوسل فیول کا زیادہ استعمال، صنعتی اخراج اور جنگلات کی کٹائی شامل ہیں۔ سموگ ہر سال لاکھوں شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔حکومت پاکستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی، بلین ٹری سونامی، ٹین بلین ٹری پروگرام، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے، “لیونگ انڈس” پروگرام، محفوظ قدرتی علاقوں میں اضافہ اور موسمیاتی موافقت کے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں۔ یہ اقدامات مثبت سمت میں اہم پیش رفت ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار صرف منصوبوں کے اعلان پر نہیں بلکہ شفاف عمل درآمد، ادارہ جاتی صلاحیت، سائنسی منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی تسلسل پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے بحران کا مقابلہ صرف مہمات سے نہیں بلکہ مستقل قومی پالیسی سے کیا جا سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، افغانستان اور چین بھی مختلف نوعیت کے موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔ جنوبی ایشیا میں مشترکہ آبی وسائل، گلیشیئرز، فضائی آلودگی، سموگ اور سیلاب جیسے مسائل سرحدوں کے پابند نہیں، اس لیے ان کا حل بھی علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ بدقسمتی سے اس شعبے میں تعاون کی رفتار اب بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، گرین کلائمیٹ فنڈ، گلوبل انوائرمنٹ فیسیلٹی اور دیگر ادارے پاکستان کو مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ 2022ء کے سیلاب کے بعد عالمی برادری نے پاکستان کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی معاونت کا اعلان بھی کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ہونے والے نقصانات ان امدادی رقوم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ امداد کا بڑا حصہ نرم قرضوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی بحران سے متاثرہ ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ گرانٹس، جدید ٹیکنالوجی، استعداد کار اور “Loss and Damage Fund” کے تحت مؤثر تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ یہ امداد نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری ہے۔دوسری طرف پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری، صاف توانائی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، پانی کے مؤثر استعمال، جدید زرعی نظام، مضبوط آفات سے نمٹنے کے اداروں، ماحولیاتی قوانین پر سخت عمل درآمد اور ماحولیات کو تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنانے جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو بھی اس قومی مہم میں شریک ہونا ہوگا، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی صرف حکومتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دنیا کے کئی ممالک، جیسے نیدرلینڈز، ڈنمارک، ناروے، سویڈن اور جاپان نے جدید منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی، مضبوط انفراسٹرکچر، مؤثر واٹر مینجمنٹ اور سخت ماحولیاتی قوانین کے ذریعے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کو بھی ان تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی ترقی کو ماحول دوست بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔
آج دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری انصاف، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے؟ پاکستان موسمیاتی بحران کا خالق نہیں، لیکن اس کی قیمت ضرور ادا کر رہا ہے۔ اگر دنیا واقعی ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل چاہتی ہے تو موسمیاتی انصاف کو محض کانفرنسوں، اعلانات اور وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔آنے والی نسلیں ہمیں ہماری ترقی سے زیادہ ہمارے فیصلوں سے یاد رکھیں گی۔ اگر ہم نے آج ماحول، پانی، جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو قومی ترجیح نہ بنایا تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے اجتماعی دانش، سائنسی منصوبہ بندی، علاقائی تعاون اور عالمی ذمہ داری کے اصولوں کو اپنایا تو پاکستان نہ صرف اس بحران کے اثرات کو کم کر سکتا ہے بلکہ موسمیاتی انصاف کی عالمی جدوجہد میں ایک مضبوط اور باوقار آواز بھی بن سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا یہ تسلیم کرے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی کا سوال ہے۔
119
