1

ون کانسٹیٹیوشن کا قانونی قبضہ حاصل، چند ماہ میں 5 سٹار ہوٹل بنے گا، اب اسلام آباد میں امیر اور غریب کے لیے دوہرا معیار نہیں چلے گا، وزیر داخلہ محسن نقوی

اسلام آباد (سٹا ف رپورٹر):وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے دارالحکومت میں زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن عمارت کو آئندہ چند ماہ میں باقاعدہ فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے گا۔اسلام آباد میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور چیئرمین سی ڈی اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ون کانسٹی ٹیوشن ایوینیو کے متعلق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پیش ہوئی جس کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے اور یہ حقائق جلد قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ اس عمارت پر پہلے بھی قبضہ تھا اور اب بھی ہے، لیکن اب سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن اس عمارت کے تمام تر انتظامی امور سنبھالیں گے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں اراضی پر جس بے دردی سے قبضے کیے گئے ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں امیر اور غریب کا کوئی تفریق آمیز معیار نہیں ہونا چاہیے، کسی کی بھی زمین پر ناجائز قبضہ ہوا تو وہ لازماً واگزار کرائی جائے گی اور سرکاری زمینوں پر قابض افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر داخلہ نے ون کانسٹیٹیوشن کیس میں سی ڈی اے انتظامیہ اور لیگل ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قبضہ واگزار کرانے کے دوران شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس سے دلبرداشتہ ہوئے تاہم چیئرمین سی ڈی اے اور ان کی ٹیم پوری تندہی سے کام کر رہی ہے۔صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کا مقصد محض دکھاوے کی کارروائی کرنا نہیں بلکہ ہر معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ ون کانسٹیٹیوشن پراجیکٹ کے خریداروں اور متاثرین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس نے جو ادائیگی کی ہے اسے وہ رقم واپس کی جائے گی۔دیگر امور پر روشنی ڈالتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ وزیراعظم ہائوس کے عقب میں قبضہ کی گئی زمینوں میں سے ایک ہزار ایکڑ رقبہ پہلے ہی واگزار کرایا جا چکا ہے، اسلام آباد کلب نے معاملے کے حل کے لیے مہلت مانگی ہے جبکہ سی ڈی اے کی ترجیحات میں دارالحکومت کے 4 نامکمل سیکٹرز پر کام مکمل کرنا اور ادارے میں متعلقہ شعبوں کے ماہر افراد کو تعینات کرنا شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں