اسسلام آ باد ( ندیم گلزارکھوکھر ) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان کو امریکی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کی اہم منزل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت مستحکم اور ترقی جانب گامزن ہے ،پاکستان کی بڑی مارکیٹ اور نوجوان افرادی قوت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اہم عوامل ہیں۔ امریکی کاروباری برادری بالخصوص مینوفیکچرنگ، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کر سکتی ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفدسےملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسلز اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اہم پل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں گزشتہ ایک سال میں نمایاں بہتری آئی ہے اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہم مل کر پاکستان میں موجود مواقع پر سنجیدگی سے غور کریں۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں متنوع شعبہ جات میں بے شمار مواقع اور صلاحیتیں کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کی منتظر ہیں،ہم پاکستان میں آپ کا خیرمقدم کرنے اور تمام امور پر تفصیلی بات چیت کے لئے تیار ہیں ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ہماری معیشت اب مستحکم ہورہی ہے اور ہم معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں،بدقسمتی سے حالیہ خلیج بحران نے ہمیں مشکلات سے دوچار کردیا تاہم ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قیام امن کی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے اپنی پوری توانائی صرف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جون میں ہم درپیش صورتحال کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن اس کے بعد حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے،توقع ہے کہ دوست ممالک کے تعاون سے ہم اس صورتحال کو بہتر بنانے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے میں سرخرو ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں امن وامان قائم رہنا کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے،ہم نے بڑی حد تک ادارہ جاتی اصلاحات شروع کی ہیں، معیشت کو ڈیجیٹائز کررہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ای گورننس کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔انہوں نےزراعت سمیت دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ زراعت سرفہرست ہے،ہم زراعت میں مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید زرعی مشینری کے استعمال کی بات کرتے ہیں،جن میں کمبائن ہارویسٹر اور دیگر آلات شامل ہیں تاکہ پیداوار اور کارکردگی میں اضافہ ہو، اخراجات کم ہوں اور ایک ایک دانے کو محفوظ بنایا جاسکے،یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کے پاس آج بھی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات کے شعبہ میں اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے،اس کے علاوہ آئی ٹی اور اے آئی سے متعلقہ اقدامات ہیں،ہماری آبادی کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے،ہم انہیں پیشہ وارانہ تربیت،مہارت فراہم کرکے بااختیار بنانے کی پوری کوشش کررہے ہیں،یہ نوجوان پاکستان کا بڑا اثاثہ ہیں ، ان پر توجہ مرکوز کر کے انہیں ثمر آور بنانا ہے اور ان کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں ۔وزیراعظم نے حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں متعدد چیزیں سیکھنا ہوں گی ،پاکستان توانائی کے ذخائر، ایندھن ،گیس کے حوالے سے تحفظ اور سلامتی دونوں یقینی بنا سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ جہاز رانی اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔وزیر اعظم نے شرکا سے کہا کہ مذکورہ پانچ وہ شعبے ہیں جنہیں ترجیجی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نجکاری کا شعبہ سرمایہ کاروں کے لئے دلچسپی کا ایک اور بہت اہم شعبہ ہے،اس وقت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری ہو چکی ہے نئے مالکان جو سب پاکستانی ہیں وہ اس میں بہتری لائیں گے ۔ہم نے ایک بینک کی نجکاری بھی کی ہے،ہم اب بجلی کی تقسیم کار کمینیوں کی نجکاری کرنے جارہے ہیں،اسی طرح باہمی دلچسپی کے بہت سے دیگر شعبہ جات بھی نجی شعبہ کے حوالے کئے جارہے ہیں کیونکہ حکومت کا کام سہولت فراہم کرنا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا کام نجی شعبہ کی معاونت کے لئے ایک عمل انگیز کے طور پر سازگار ماحول اور سہولت فراہم کرنا ہے ۔
56
