یہ تحریر خوشپور کی 75 سالہ جوبلی موقع پر فادر یوسف اللہ رکھا نے جو اس وقت پیرش پریسٹ تھے ان سے لی گئی ہے ۔جو کہ میرے والد بابو برکت پال مرحوم نے مجھے عطا کی ۔پنجاب کے ضلع لائلپور کی تحصیل سمندری سے گوجرہ جانے سڑک پر اڈا نارا ڈاڈا کے شمال کی جانب تین میل کے فاصلے پر چک نمبر 51 گ ب خوشپور واقع ہے جو 22 فروری 1900 میں ریورنڈ فادر فیلیکس اوسی کی انتھک شبانہ کاوشوں سے معرض وجود میں آیا۔ موضع کی زرعی رہایشی زمین 2376 ایکڑ ہے۔ ریورنڈ فادر فیلیکس کا وطن بلجیم تھا اور وہ کیپوچن آڈر کے مبشر انجیل تھے۔ آ پ نے 15 جون 1900 میں سرکارِ عالیہ سے آبپاشی کے لیے نہری پانی منظور کرایا۔اور ان کی زیرِ نگرانی یہ بیابان جنتِ ارضی کا نقشہ بن گیا ۔ آباد کاری کے عمل میں جو مشکلات پیش آئیں آج کا انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ پے در پے مشکلات سے تنگ آکر آباد کار دو دفعہ زمین چھوڑ گئے مگر بانیِ خوشپور ہمت بندھا کر ، حوصلہ بڑھا کر، اپنی قیادت میں آبا دکاروں کو واپس لے آئے ۔ اس گاؤں صرف مسیحی اور کتھولک جماعت سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔ تعلیمی اور مذہبی لحاظ سے اس گاؤں نے بڑی ترقی کی ہے۔ ایک حصہ سے زیادہ اس گاؤں کے لوگ فادرز، بابو اور سسٹر صاحبات ہیں۔ اس گاؤں میں لاسالین برادرز اور اساتذہ کرام بھی قابل ذکر ہیں۔ سب سے پہلے تاریخی اور فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا پہلا فادر اور پہلا عوامی اور مقامی بشپ ڈاکٹر جان جوزف شہید کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا ۔ یہ گاؤں بہت تاریخی ،سیاسی اوردینی لحاظ سے بہت ہی زیادہ مشہور ہے۔اسی گاؤں سے فادر جیکب ڈوگرا ،فادر رشید عاصی ، فادر وسیم، فادر ظفر، فادر روفن انتھی، فادر پرویز عمانوائیل اور لاسال برادرز ،برادرز شہزاد جارج ، برادر ساجد بشیر ،یوسف پرواز، شہباز بھٹی ، زاہد انور، اکمل بھٹی ، شمون گل، ندیم گل کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔اس گاؤں میں چند گھرانے مسلمانوں کے بھی ہیں جو کہ پوری دنیا میں مذہبی ہم آہنگائی کی بہت بڑی مثال ہےاس گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے ڈاکٹر بشپ جان جوزف نے بھرپور ساتھ دیا۔یاد رہے اس گاؤں میں مسیحوں اور مسلمانوں کامشترکہ قبرستان ہے۔ ماسٹر محمد رفیق مرحوم اس گاؤں کی بہت بڑی مثال تھی ، ان کےبیٹے اور بیٹیاں سیالکوٹ سے مسیحوں کے ساتھ کرسمس منانے کے لیے ہر سال گاؤں میں آتے تھے۔ان کو دیکھ کر پورا گاؤں ہی پھولے نہیں سماتا تھا۔ اس گاؤں کے سابق ایم پی اے اور ایم این اےاور کئی اداروں کے سربراہ بھی اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اردو بائبل اورمختلف کتابوں کے بڑے مصنف اور ادیب پال ارنسٹ بھی اسی گاؤں کے رہنے والے تھے ۔ خوشپور کو برصغیر کا روم بھی کہاجاتاہے۔17 ستمبر 1900 میں ریورنڈ فادر فلپ او ۔خوشپور کے پہلے پیرش پریسٹ مقرر ہوئے جنہوں نے اپریل 1900 میں نئی رہائش کی تعمیر کا کام شروع کیا ۔ اس سال تقدس مآب جناب بشپ پبلک مان نے پیرش ہاؤس اوراسکول بنانے کا حکم دیا ۔نیز سسٹرز آف چیرٹی کے لانے کا انتظام کیا۔ 17 جون 1901 میں خوشپور میں پہلے گرجا گھر کو برکت دی گئی1902 میں بشپ آف لاہور ڈایوسیس باقاعد ہ سرکار ی طور پر گاؤں کے نمبردار مقرر ہوئے اور پیرش پریسٹ قائم مقام نمبردار ہوئے ۔ انہی دنوں گاؤں کا نام ریورنڈ فادر فیلیکس کے نام پر ’خوش پور ‘ رکھا گیا۔28 جنوری 1903 میں سسٹرصاحبات و فادر صاحبات کی کوٹھیاں بننی شروع ہوئیں اور اسی سال تعمیرکا آخری مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ 20 جولائی اور 3 دسمبر کو فادر صاحبان اور سسٹر صاحبات بالترتیب اپنی اپنی رہائش گاہ میں منتقل ہوگئے۔9 جولائی 1903 میں ریورنڈ فادر برنا دین نے موجودہ گرجا گھر کا سنگِ بنیاد رکھا۔ گرجا گھر کی تقدیس مقدس یوحنا آف الورناکی عید کے دن ہوئی۔یکم جون 1905 میں ریورنڈ سسٹر اشیر صاحبہ کی تقرری خوشپور میں ہوئی جو طویل عرصہ مشنری خدمات انجام دے کر 1948 میں واپس بلجیم چلیں گئیں۔ ان کی مذہبی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سسٹر آف چیرٹی 1903 کے آخری ماہ میں یہاں آئیں تھی اور 29مارچ 1949 کو یہاں سے چلیں گئیں۔ان کا مومنیں کے ساتھ تعاون میل ملاپ اور مذہبی سرگرمیاں انمٹ نقش ہیں۔ 1949 میں ڈومینکین سسٹرز یہاں آئیں جن کی پہلی کھیپ میں مدر جیکولین اور سسٹرلیلین جو کافی عرصے تک ڈسپنسری میں خدمات کرتی رہیں ۔ لڑکوں کا پرائمری اسکول پہلے سسٹر صاحبات کے ماتحت تھا لیکن یکم اپریل 1912 میں پیرش پریسٹ کی سپردگی میں آگیا جب کہ لڑکیوں بدستور سسٹر صاحبات کے ماتحت رہا۔ 1913 میں فادر ہرمین کی تقرری بحیثیت علاقہ پریسٹ خوشپور میں ہوئی جنہیں اس علاقے کا مقدس پولوس رسول کہتے ہیں۔ جن کی تبلیغی خدمات کے لاحاصل میں خوشپور 132 دیہات کا تبلیغی مرکز بن گیا۔اپریل 1914 میں خوشپور کے طلباء ڈالوال تحصیل علم کے لیے جانے شروع ہوئے پہلے گروپ کے طلباء میں ماسٹر پال ارنسٹ اور جناب جی ۔ جیکب اور آخری گروپ جناب لغرزس جوزف تاب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔17 جولائی 1914 کوریورنڈ فادر برنا دین کی وفات پر ملال کے بعد ریورنڈ فادر ہیرمن پیرش پریسٹ ہوئے۔ بعدازاں فادر روپرٹ نے یہ عہدہ سنبھالا جو 1918 میں اپنے خالق سے جاملے۔ 1919 میں سسٹر اولگا صاحبہ بھی وفات پاگئیں۔کیپوچن مبشران انجیل 31 اکتوبر 1935 کو خوشپور آئے۔ وہ مومنین کو ایسا مذہبی شوق دے گئے ہیں کہ رہتی دنیا تک اہل خوشپور مذہب کے علم دار رہیں گے۔1935 میں لاہور ڈایوسیس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ بدستور لاہور ڈایوسیس اور دوسرا ملتان بنا۔ جن کی پر یفکیٹ تقدس مآب بنیڈ کٹ چیالیو مقرر ہوئے ۔20 جولائی 1939 میں یہ حصہ ملتان ڈایوسیس بنا ۔ تقدس مآب بنیڈکٹ چیالیو اس کے بشپ مقرر ہوئے۔10 فروری 1942 سے یکم ستمبر 1944 تک اٹلی کے فادر صاحبان کی نظر بندی کے باعث کراچی اور راولپنڈی ڈایوسیس کے فادر صاحبان نے مشنری کام سنبھالے رکھا۔ ریورنڈ فادر سلواتر کی محنتوں سے 1964کو گاؤں میں ہائی اسکول منظور ہوا جس کے پہلے ہیڈ ماسٹر مشہور شاعر سردار تخت نگھ بی۔ اے ، بی ۔ ایڈ تھے۔ سکول کی موجودہ عمارت 1957میں مکمل ہوئی۔ 1961ء میں مینجر و ہیڈ ماسٹر کا عہدہ اکٹھا کر دیا گیا۔ اور فادر صاحبان کی بجائے اس کی باگ ڈور لا سال برادرز کو دے دی گئی۔پہلے بر اور ہیڈ ماسٹر ریورنڈ بر اور سیزر تھے۔ 1972 سے سکول قومی تحویل میں آچکا ہے ۔ 1952 سے طالبات کے لیئے مڈل سکول ہے جو 1972 سے قومی تحویل میں آچکا ہے تاہم طالبات کے تعلیمی مسائل کے پیش نظر طالبات کے لئے ہائی کلاسز کا انتظام بھی کر دیا گیا ۔ ۱۹۵۲ء میں کیٹی کسٹ ٹریننگ سنٹر قائم ہوا جس کے پہلے مینجر ریورنڈ فادر فلپ اور سی تھے۔ موجودہ عمارت ۱۹۶۴ء میں مکمل ہوئی اب یہ سنٹر لا سال برادرز کے تحت چل رہا ہے۔ اور مسیح کی فضل کے لیے مزدور تیار کر رہا ہے۔۲۱ نومبر ۱۹۵۲ ء کو اہالیانِ خوش پور نے زریں جوبلی بنائی۔ 18 جنوری 1960 تاریخ خوش پور میں نمایاں اہمیت کا دن ہے۔ اس روز ڈیورنڈ فادر جان جوزف فرزندِ خوشپور کا کا ہنا نہ تقرر ہوا۔خوشپور کا گھر جا گھر 18 ماہ میں مکمل ہوا۔سب سے اچھا سہرا بڈھانیہ برادری کی لڑکی نے باندھا تھا۔ جوکہ بڑے گھر جا کے بڑے دروازے کے اوپر باندھا گیا۔ ایک سہرا ڈوگری برادری کی لڑکی نے ساکراسٹی کے دروازے کے اوپر باندھا اور سہرا ساکراسٹی کی طرف دروازہ تھا۔ گرجا گھر کا ٹل پر چک والے کی لڑکی نے باندھا تھا۔صنعت و حرفت میں خوش پور کا شمار دیہاتوں میں صفت اول پر ہے۔ 1970 میں قالین بانی، 1974 میں فرنیچر اوزار اور صابن سازی کی صنعت شروع ہوئی ۔1974ء میں مچھلی تالاب ، کمیونٹی سنٹر قائم ہوا ۔ اسی سال گاؤں کے دو مومنین ماسٹرپال ارنسٹ اور بابو نواب نے روم کی زیارت کی۔ جولائی 1985 میں بشپ آف لائلپور نے نمبرداری سے استعفے دیا اور پہلے مقامی نمبردار جیمل شاہ مقرر ہوئے ۔ اہم تاریخی واقعات ڈاکخانہ 1920 پوسٹ ماسٹر لوئیس، نمبردار جی جیکب م مسٹر جلال۔بجلی29 مارچ 1959 ، نیا شفا خانہ 25 فروری1965۔افتتاح بشپ بینڈکٹ چیالیو او سی ۔، پہلا کاہنامہ تقرر 8جنوری 1960 فادر جان جوزف۔برادار صاحبان 1961 کرسچن برادرز آف لاسال برادر سینئر۔ کیٹی ڑریننگ سنٹر 1964 عمارت کی تکمیل۔ مچھلی کا تالاب جولائی 1975۔ پہلے مقامی بلاہٹیں سسٹر مارگریٹ دختر ایشر داس، سسٹر مارتھا دختر کھیڑا، فادر مہروین بینڈکٹ ولد کتھو پیدائش1901 ۔ سربراہ نمبردار چوہدری دتو ولدچندا جب تک سورج چاند رہے گا خوشپور تیرا نام رہے گا۔خداونداس گاؤں کو ہمیشہ آباد و شاد رکھے۔
54
