موجودہ دور میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مسائل بن چکے ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی، معاشی مشکلات، سماجی تنہائی اور مسلسل ذہنی دباؤ نے انسان کو اندر سے بے چین کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ماہرینِ نفسیات صرف ادویات ہی نہیں بلکہ تخلیقی اور فنی سرگرمیوں کو بھی ذہنی صحت کی بحالی کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ انہی سرگرمیوں میں ایک قدیم اور دلکش فن بلاک پرنٹنگ بھی شامل ہے۔بلاک پرنٹنگ ایک قدیم طباعتی فن ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اس کی ابتدا چین میں ہوئی، جہاں لکڑی کے بلاکس پر نقش و نگار تراش کر انہیں کپڑوں اور کاغذ پر منتقل کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فن جاپان، کوریا، وسطی ایشیا اور برصغیر تک پہنچا۔ برصغیر میں خصوصاً سندھ کی اجرک، راجستھان کے روایتی ملبوسات اور پنجاب کے ثقافتی ڈیزائن اس فن کی خوبصورت مثالیں ہیں۔اگرچہ بلاک پرنٹنگ بنیادی طور پر ایک فنی اور ثقافتی سرگرمی ہے، لیکن جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اس قسم کی تخلیقی سرگرمیاں ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ جب کوئی شخص لکڑی کے بلاک پر ڈیزائن تراشتا ہے، رنگ منتخب کرتا ہے اور پھر انہیں کپڑے یا کاغذ پر منتقل کرتا ہے تو اس کی توجہ مکمل طور پر اس عمل پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت انسان کو وقتی طور پر پریشان کن خیالات اور ذہنی الجھنوں سے دور لے جاتی ہے۔ڈپریشن کا ایک اہم اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو دیتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی مثبت کام انجام نہیں دے سکتا۔ بلاک پرنٹنگ کے دوران جب ایک خوبصورت ڈیزائن تخلیق ہو کر سامنے آتا ہے تو انسان کو اپنی محنت کا واضح نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ احساسِ کامیابی خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن پیدا کرتا ہے۔مزید یہ کہ بلاک پرنٹنگ جذباتی اظہار کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ بہت سے لوگ اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، لیکن رنگوں، اشکال اور نقشوں کے ذریعے اپنے اندرونی جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں آرٹ تھراپی کے پروگراموں میں تخلیقی فنون کو ذہنی بحالی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔بلاک پرنٹنگ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو صبر، یکسوئی اور تحمل سکھاتی ہے۔ بلاک کی تیاری، رنگوں کا انتخاب اور پرنٹنگ کا عمل جلد بازی کے بجائے سکون اور توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی خصوصیات ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور ذہن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔اجتماعی سطح پر بھی بلاک پرنٹنگ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں، کمیونٹی مراکز اور فنی ورکشاپس میں اس فن کو فروغ دیا جائے تو نوجوانوں کو نہ صرف ایک مفید ہنر حاصل ہوگا بلکہ انہیں مثبت اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع بھی ملے گا، جو ذہنی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بلاک پرنٹنگ یا دیگر فنی سرگرمیاں ڈپریشن کے مکمل علاج کا متبادل نہیں ہیں، لیکن یہ علاج کے معاون اور مددگار ذرائع ضرور ثابت ہو سکتی ہیں۔ شدید ڈپریشن کی صورت میں ماہرِ نفسیات یا ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بلاک پرنٹنگ محض کپڑوں یا کاغذ پر نقش بنانے کا فن نہیں بلکہ یہ ذہنی سکون، تخلیقی اظہار اور نفسیاتی بحالی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قدیم تہذیبوں سے سفر کرتے ہوئے یہ فن آج بھی انسان کے دل و دماغ کو رنگوں اور نقشوں کی ایک نئی دنیا سے روشناس کرا رہا ہے۔
16