تاریخ کی ورق گر دانی کرتے ہو ئے ایک ایسی محترم شخصیت ایک دم نکل کر سامنے آ کھڑی ہو تی ہے تاریخ جس کو کرنل ایس ، کے ٹریسلر کے نام نا می سے جا نتی ہے آپ کا پورا نام سوشیل کمار ٹریسلر ہے جبکہ آپ کی پیدائش1933 ء میںسیالکوٹ کے تاریخی شہر میں ہوئی مقامی طور پر تعلیم حا صل کرنے کے بعد آپ نے 1955ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی آپ مسیحیت کا ایک ناکابل فراموش نام ہیں جنہوں نے ملک کی خاطر کارہا ئے نما یاں سر انجام دئیے 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں آپ کو لیفٹینٹ کرنل ترقی دے کر چھمب سیکٹر میں 42پنجاب رجمنٹ کی کمان سپرد کی گئی آپ نے کمان کرتے ہو ئے کمال مہارت سے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور اس کے غرور کو خاک میں ملاتے ہو ئے چھمب سیکٹر میں دشمن کو نا قابل تلا فی نقصان پہنچایا ۔ ملٹری سروسز کے بعد آپ نے1994 ء میں فارن سروسز کو جا ئن کیا اور بطور چیف پروٹو کول آفیسر اور ڈی ، جی فارن سروسز اکیڈمی خدمات سر انجام دیں پھر 2001ء میں جنر ل پرویز مشرف قیادت نے آپ کو وفاقی وزیر تعینات کیا اورآپ کو کلچر ، سپورٹس ، ٹورازم ، امور نو جوانان ، اور وزارت اقلیت کے قلم دان سونپے گئے ۔ آپ کو اسی دوران حکومتی نما ئندگی کرتے ہو ئے بطور مہمان خصوصی لال شہباز قلندر کے 750ویں عرس میں شرکت کا بھی اعزاز حاصل ہوا ، آ پ کی خدمات کے صلے میں آپ کو ستارہ ا متیاز سے بھی نوازا گیا ، آپ کی کاشوں کی وجہ سے ملک بھر کے اقلیتوں کو جد گا نہ انتخابات کے نظام سے نجات ملی جس میں اقلیتی سیٹ پر حلقہ پورا پا کستان ہو اکرتا تھا جو کہ ایک اقلیتی امیدوار کے لئے پورے حلقے میں میں پہنچ پا نا نا ممکن ہوا کرتا تھا اقلیتوں کے لئے مروجہ نظام انتخاب آپ کی کاوشوں کا ثمر ہے اسی طرح مسیحی تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لئیے جا نے کے بعد مسیحیت کی ترقی کا عمل رک گیا جس کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے سابق صدر پرویز مشرف سے ان اداروں کی واپسی کا حکم جاری کروایا جس سے بہت سے تعلیمی ادارے وا پس ہو ئے اور مسیحیوں کی تعلیمی آبیاری کا ایک بار پھر سے آغاز ہو گیا جس کے ثمرات مسیحی قوم کو ملنا شروع ہو گئے ہیں ، آپ کی ذاتی کاوشوں سے بہت سے اجتماعی مسائل حل ہو ئے جس سے مشرف دور میں مسیحیوں کی ترقی کے نئے باب کا آغاز ہوا ، نہ صرف آپ بلکہ آپ کی شریک حیات مسز منورماں ٹریسلر بھی اپنی بزرگی کی عمر کے باجود آپ کے شانہ بشانہ اقلیتوں کی خدمت میں مصروف عمل رہتی تھیں آپ دیگر مذہبی اقلیتوںکی رسومات میں شامل ہوکر خواتین میں گھل مل جاتی تھیں ، آپ نے اپنے شوہر کے ساتھ ملک وقوم کی خدت دل جمعی سے کی راقم الحروف نے ایک دفعہ دونوں میاں بیوی کا انٹر ویو ان کی رہا ئش گا ہ پر کیا جس سے کرنل صاحب کی شخصیت کی کامیابی کے پیچھے ان کی مسز کا کردار واضح نظر آیا دونوں میں بلا کی معاملہ فہمی اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت موجود تھی اور ان کی کیمسٹری سے یوں لگتا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں عمر کے آخری حصے میں بھی دونوں کے درمیان مثالی تعلقات تھے جیسے کسی دانشور کا قول ہے کہ،، ایک کا میاب مرد کے پیچھے ایک کامیاب عورت کا ہاتھ ہو تا ہے ،، دونوں اس کی زندہ مثال تھے ۔مسز منورماں ٹریسلر جن کو جڑواں شہروں کے مسیحی ماماجی کہا کرتے تھے ایک دین دار اور نیک دل خاتون تھیں آپ کو خدا نے اولاد سے بھی نوازا ایک بیٹا پاسٹر حنوک ٹریسلر اور بیٹی تبیتہ ٹریسلراعلی تعلیم حاصل کرکے بیرون ملک سیٹل ہو گئے بیٹا حنوک ٹریسلر چند سال قبل والدہ کی وفات کا سن کر پا کستان آئے اور والدہ کی تدفین کے چند روز بعد خود بھی جہان فا نی سے کوچ کر گئے جبکہ کرنل ایس کے ٹریسلر کو ان کی بیٹی تبیتہ ٹریسلر جو کہ کرنل انوسنٹ شمس سے شادی کر کے برطا نیہ میں مقیم ہیں اکیلے رہ جانے پر اپنے ساتھ برطا نیہ لے گئیں ہیں اور وہ وہاں اپنی بیٹی اور ان کی فیملی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں حکومت پاکستان کی جا نب سے آپ کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور دیگر اعزازات سے نو ازا گیا ہے کرنل (ر) ٹریسلر کے حوالے سے ایک بات جو سب سے زیادہ قابل تعریف ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر خدمت بڑی ایمانداری سے کی ہے اور ان کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے ان کی ساری خدمات مسیحی نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے ۔
ہم بدلتے ہیں رخ ہوائوں کے ۔۔۔۔ آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
70