99

عنوان : “هل مِن ناصر یَنصُرُنى تحریر : سیدہ شبانہ رضوی شہر میں ماتم کرتا۔”

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
میرا سلام ہو اس ریشِ مبارک پر جسے خون نے خضاب کیا، میرا سلام ہو اس مظلوم امام پر جن کی انگوٹھی کے لیے انگلی تک کاٹ دی گئی، اور میرا سلام ہو اس بے کس مگر عظیم رہبر پر، جس نے اپنے تمام ساتھیوں اور اہلِ بیت کی شہادت کے بعد بھی آخری لمحوں میں صدا بلند کی: “هَلْ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُنِي”۔
یہ ندا ہرگز بے بسی یا کمزوری کی علامت نہ تھی۔ علماء کی تشریح کے مطابق امام حسینؑ کا یہ استغاثہ دراصل ہر دور کے انسان کو دعوت تھا کہ کون ہے جو حق، عدل اور دینِ محمدیؐ کی سربلندی کے لیے میرا ساتھ دے گا؟ یہ آواز صرف میدانِ کربلا تک محدود نہ تھی بلکہ قیامت تک آنے والے ہر حق پسند انسان کے لیے ایک پیغام تھی۔ اسی لیے آج جب عاشقانِ حسینؑ “لبیک یا حسینؑ” کہتے ہیں تو وہ دراصل اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ہم ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے، حق کا ساتھ دیں گے اور حسینی مشن کو زندہ رکھیں گے۔
امام حسینؑ جانتے تھے کہ ان کی شہادت کے بعد بھی اسلام کو مختلف ادوار میں خطرات لاحق ہوں گے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی قربانی سے ایسی بنیاد فراہم کر دی جس پر ہمیشہ حق کی آواز بلند ہوتی رہے گی۔ حسینؑ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک زندہ تحریک کا نام ہے جو انسان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے۔
میرا سلام ہو اس صابر امام پر جو صبحِ عاشور سے عصر تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہے، مگر صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ۔ سنو مسلمانوں! وقت عصر عاشور سےکچھ دیر پہلے جو شور تھا ” حسین کو مارو ” حسین کو زمین پر گراؤ “آپ صرف وہ شور سن لیں تو زندگی بھر ہنسنا بھول جائیں.اس شور کے بعد
!” پھر کسی نے نیزہ مارا، کسی نے تیر برسائے، کسی نے پتھر پھینکے، اور جس کے ہاتھ کچھ نہ آیا اس نے کربلا کی تپتی ریت ہی اچھال دی۔ یہ وہ منظر ہے جسے تصور میں بھی لایا جائے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔وا حسینا ! خدا کی قسم
اگر لوگ تعصب کی عینک اتار کر کربلا کی اصل حقیقت کو سمجھ لیں تو عاشورہ ان کے لیے محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ حق، وفا، صبر اور قربانی کا زندہ سبق بن جائے۔
اگر ہم کربلا کی اصل حقیقت کو جان پاتے تو روز عاشورہ سیرو تفریح کے لیے ,” مری جانے کی بجائے ” مر ” ہی جاتے
بلاشبہ امام حسینؑ کی یاد انسان کو ظلم سے نفرت، انصاف سے محبت اور دینِ اسلام کی حقیقی روح سے وابستگی کا درس دیتی ہے
سمجھ لیں تو عاشورہ ان کے لیے محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ حق، وفا، صبر بلاشبہ امام حسینؑ کی یاد انسان کو ظلم سے نفرت، انصاف سے محبت اور دینِ اسلام کی حقیقی روح سے وابستگی کا درس دیتی ہے۔
“تجھ کو معلوم نہیں غمِ حسینؑ کی حقیقت ورنہ
تو بھی میرے ساتھ بھرے شہر میں ماتم کرتا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں