ہراسمنٹ صرف نازیبا جملوں، دھمکیوں یا جسمانی بدسلوکی کا نام نہیں۔ بعض اوقات یہ ایک ایسی منظم اور خاموش جنگ ہوتی ہے جس میں کسی فرد کی عزت، ساکھ، قابلیت اور ذہنی سکون کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔اور اگر ہراسمنٹ کا سامنا کام کی جگہ پر ہو تو چند ہم خیال افراد ایک گروہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، افواہیں پھیلاتے ہیں، جھوٹے الزامات تراشتے ہیں، غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور مسلسل منفی پراپیگنڈے کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں جس میں سچائی کی آواز دبنے لگتی ہے۔ بظاہر یہ صرف ایک ملازم کے خلاف مہم محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک انسان کی پوری شخصیت، اس کے اعتماد، اس کے وقار اور اس کی برسوں کی محنت کو تباہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
جب کسی ادارے میں کسی فرد کے خلاف زہریلی مہم چلائی جاتی ہے تو صرف اس کی ملازمت یا عہدہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری ہستی زخموں سے چور ہو جاتی ہے۔ وہ شخص جو کل تک اپنی صلاحیتوں، خدمات اور کردار کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، اچانک وضاحتیں دینے، اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور اپنی عزت بچانے کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ذہنی اذیت، بے بسی اور تنہائی کا احساس کسی بھی جسمانی تکلیف سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہراسمنٹ کا شکار ہونے والا شخص اکثر دوہری سزا بھگتتا ہے۔ پہلے اسے کردار کشی، سازشوں اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پھر جب وہ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اسی سے ثبوت مانگے جاتے ہیں، اسی کے مؤقف پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور بعض اوقات اسے اپنی شکایت کے جواز کے لیے بھی بار بار صفائیاں دینی پڑتی ہیں۔ یوں مظلوم کو انصاف کی تلاش میں بھی مزید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسلام ہمیں خبردار کرتا ہے کہ کسی پر جھوٹا الزام لگانا، بہتان تراشنا اور بلا تحقیق کسی خبر یا الزام کو سچ مان لینا سنگین گناہ ہے۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ ایک بے گناہ شخص کی عزت کو مجروح کرنا، اس کے خلاف تہمت لگانا اور اس کی ساکھ کو داغدار کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک معمولی جرم نہیں۔ یہ وہ ظلم ہے جس کا حساب نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی دینا ہوگا۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک وہ رویہ ہے جب کچھ لوگ بغیر تحقیق، بغیر شواہد اور بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے کسی پر الزام کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک جھوٹے الزام کو سچ مان لینے سے کسی کی زندگی تاریک ہو سکتی ہے۔ اسلام میں عدل اور تحقیق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور جو لوگ جان بوجھ کر ظلم کا ساتھ دیتے ہیں یا مظلوم کی فریاد سننے سے انکار کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔ دنیا کی عدالتوں سے بچ نکلنا ممکن ہو سکتا ہے، مگر ربِ کائنات کی عدالت میں نہ کوئی سفارش چلے گی اور نہ کوئی جھوٹا جواز۔ وہاں مظلوم کی آہ، اس کے آنسو اور اس کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی گواہی دے گی، اور ظالم کے لیے عذاب، رسوائی اور سخت مواخذہ مقدر بن سکتا ہے۔
اداروں اور اعلیٰ حکام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیر جانبداری محض ایک انتظامی تقاضا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر اتھارٹیز سائل کو غیر جانبداری سے نہیں سنیں گی، شواہد کا منصفانہ جائزہ نہیں لیں گی اور بروقت فیصلے نہیں کریں گی تو وہ صرف ایک مظلوم کے ساتھ نیا ظلم نہیں کر رہی ہوں گی بلکہ بدعنوان، سازشی اور منفی ذہنیت رکھنے والے افراد کو مزید کھل کھیلنے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہوں گی۔ انصاف میں تاخیر یا جانبداری دراصل ظلم کی پشت پناہی ہے، اور جب ظلم کو خاموش حمایت مل جائے تو اس کے شکار صرف افراد نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ، اس کا نظم و ضبط، اس کی اخلاقی بنیادیں اور انصاف پر عوام کا اعتماد بھی بن
103