2

پاکستان اور سعودی عرب کا تعلیم، ثقافت اور علمی تبادلوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) پاکستان میں مملکتِ سعودی عرب کے سفیر عزت مآب ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری تعلیم جناب ندیم محبوب سمیت وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور شعبۂ تعلیم سے وابستہ دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا اور پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دیرینہ، برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، بالخصوص تعلیم، اعلیٰ تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔گفتگو میں تعلیمی تبادلوں کے پروگراموں، ادارہ جاتی شراکت داری، استعداد کار میں اضافے کے اقدامات اور دونوں ممالک کی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان مشترکہ تعاون کے مواقع کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔ اس ضمن میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے، طلبہ و اساتذہ کی علمی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور طلبہ، محققین، اساتذہ اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے ایک دوسرے کے تجربات اور مہارتوں سے استفادے کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔دونوں فریقین نے وظائف کے مواقع میں اضافے، طلبہ کے تبادلہ پروگراموں، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور علمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس بات پر بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک کی جامعات اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ جدت، تحقیقی معیار اور بین الاقوامی علمی تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔ملاقات میں ثقافتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے، بالخصوص عربی زبان کی تعلیم، عربی ادب کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں کے مشترکہ اقدامات پر توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ تعلیمی پروگراموں، تدریسی اداروں اور مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے لسانی ہم آہنگی، باہمی ثقافتی آگاہی اور دونوں برادر ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، دفاع سے متعلق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، علم و تجربات کے تبادلے اور ادارہ جاتی ترقی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس امر کو اہم قرار دیا گیا کہ روایتی شعبہ جات سے آگے بڑھتے ہوئے دوطرفہ روابط کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے اور ایسے نئے مواقع تلاش کیے جائیں جو دونوں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور باہمی مفاد میں معاون ثابت ہو سکیں۔وفاقی سیکریٹری تعلیم جناب ندیم محبوب نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی جامعات کے مابین تعلیمی شراکت داری، مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں، طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے سے مہارتوں اور تجربات کے تبادلے، انسانی وسائل کی ترقی اور علمی معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے قیمتی مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ ملاقاتوں اور مشاورت کے نتیجے میں سامنے آنے والی تجاویز کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ دونوں ممالک کے لیے بامعنی، دیرپا اور مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سعودی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مملکتِ سعودی عرب کی مسلسل اور گہری وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے دوطرفہ شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی اہمیت پر زور دیا۔
سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور تعلیم، اعلیٰ تعلیم، عربی زبان کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات اس مشترکہ عزم کی عکاس تھی کہ پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو تعلیمی تعاون، ادارہ جاتی روابط، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم بنائیں گے۔ دونوں جانب سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ باہمی رابطوں اور قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے قابلِ عمل تجاویز اور مواقع پر مسلسل کام کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں