کچھ سانحات صرف خبریں نہیں ہوتے، وہ دل پر ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جنہیں وقت بھی پوری طرح نہیں بھر پاتا۔ سانحۂ پمز اسلام آباد بھی ایسا ہی ایک دردناک واقعہ ہے، جس نے نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ بجھا دیے، کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں اور کتنے خاندانوں کو عمر بھر کے انتظار اور کرب میں مبتلا کر دیا۔ہسپتال، جسے انسان زندگی کی امید سمجھ کر جاتا ہے، جب وہاں موت کا سایہ چھا جائے تو دکھ کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس ڈاکٹر اور نرسیں، راہداریوں میں دوڑتے قدم، پریشان چہرے، کسی اپنے کی خبر کے منتظر آنکھیں اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی بے چینی—یہ سب مناظر انسانی دل کو اندر تک ہلا دیتے ہیں۔سب سے زیادہ اذیت ناک منظر وہ ہوتا ہے جب کسی ماں کو اپنے بچے کے بارے میں تسلی کے چند الفاظ سننے کی امید ہو، مگر جواب میں خاموشی ملے۔ جب باپ بار بار دروازے کی طرف دیکھے کہ شاید ڈاکٹر باہر آ کر کہہ دے: “فکر نہ کریں، آپ کا پیارا محفوظ ہے۔” مگر وہ جملہ کبھی نہ آئے۔کسی گھر میں بیٹا تھا، کسی گھر میں بیٹی، کسی کے بڑھاپے کا سہارا، کسی کی آنکھوں کا نور اور کسی کی زندگی کی آخری امید۔ ایک انسان کی جدائی صرف ایک فرد کو نہیں لے جاتی، وہ اپنے ساتھ ایک پورا جہان لے جاتی ہے۔ پیچھے رہ جانے والے لوگ بظاہر زندگی گزار لیتے ہیں، مگر اندر سے ایک سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے: آخر ہمارا اپنا کیوں چلا گیا؟سانحے کے بعد تحقیقات، بیانات اور یقین دہانیاں اپنی جگہ، مگر متاثرہ خاندانوں کے لیے سب سے اہم چیز انصاف، شفافیت اور جواب دہی ہے۔ کسی بھی انسانی جان کی قیمت محض ایک خبر یا ایک سرکاری بیان نہیں ہو سکتی۔ اگر کہیں غفلت، بدانتظامی یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو اور آئندہ کسی اور خاندان کو ایسا دکھ نہ سہنا پڑے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حادثات کے اعداد و شمار کے پیچھے انسان ہوتے ہیں۔ ہر نمبر کے پیچھے ایک نام، ایک چہرہ، ایک ماں، ایک باپ، ایک خاندان اور بے شمار خواب ہوتے ہیں۔آج ضرورت صرف افسوس کرنے کی نہیں، بلکہ اپنے نظام کو انسان دوست، محفوظ اور جواب دہ بنانے کی ہے۔ کیونکہ کسی ماں کی آنکھ سے بہنے والا آنسو صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں ہوتا، وہ پوری انسانیت کے ضمیر پر سوال ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سانحۂ پمز اسلام آباد کے تمام متاثرین کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں انسانی جان کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح ہو۔ آمین۔
42
