کراچی (بیورو چیف ) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر طلعت محمود نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کراچی چیمبر ان کے جائز مسائل وفاقی و سندھ حکومت کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات، ٹریفک کے بھاری جرمانے، بندرگاہوں پر پارکنگ کی ناکافی سہولیات اور سڑکوں کی خراب صورتحال صنعتی پیداوار، کاروباری مسابقت اور مجموعی کاروباری لاگت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔طلعت محمود نے لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس (ایل جی ٹی اے) سمیت دیگر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے وفد کے ساتھ کے سی سی آئی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کہیں بھی ٹرانسپورٹرز کو ناانصافی کا سامنا ہوگا، چیمبر ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور مذاکرات کے ذریعے عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو مشورہ دیا کہ ہڑتال کا اعلان کرنے سے قبل کے سی سی آئی سے مشاورت کریں تاکہ چیمبر متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے مذاکرات میں سہولت فراہم کرسکے اور سامان کی نقل و حرکت میں خلل ڈالے بغیر حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹریفک قوانین کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے اور غیر معمولی ٹریفک جرمانوں کو معقول بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔اجلاس میں چیئرمین ایل جی ٹی اے ملک خالد اعوان، صدر محمد رمضان، نائب صدر حاجی جمشید طاہر، نائب صدر محمد عثمان، چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن (اے پی او ٹی او اے) گل فراز خان جڈون، وائس چیئرمین خانزادہ محسود، چیئرمین آل کراچی فلور ملز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن جہانگیر خان نیازی، صدر کے ڈبلیو ٹی اے ملک شریف اعوان، سینئر نائب صدر کے سی سی آئی اسلم پکھالی، نائب صدر عاطف جمیل الرحمان، ایگزیکٹیو کمیٹی اراکین اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے دیگر نمائندے موجود تھے۔صدر کے سی سی آئی نے ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مال کی ترسیل کے کرایوں میں اضافے کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایندھن اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات پہلے ہی بھاری آپریٹنگ اخراجات کا سامنا کرنے والی صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اخراجات میں مسلسل اضافہ کاروباری اداروں کو پیداوارمحمدودکرنے یا اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جس سے خطے میں پاکستان کی کاروباری مسابقت متاثر ہوسکتی ہے۔انہوں نے کراچی کی بندرگاہوں کے قریب ٹرکوں اور ٹریلرز کے لیے مخصوص پارکنگ کی فوری ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ مناسب سرکاری زمین کو معقول چارجز کیعیوض مختص کرکے باقاعدہ پارکنگ سہولت میں تبدیل کیا جائے تاکہ بندرگاہوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور سامان کی نقل و حرکت کی نقل و حرکت ہموار ہو سکے۔ طلعت محمود نے کراچی کے تباہ حال انفراسٹرکچر پر تبادلہ خیال کرتے ہوئیکہا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گڑھے، یوٹیلیٹی سروسز کے نامکمل کام اور ٹریفک کا ناقص انتظام گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات بڑھانے کے ساتھ ساتھ تاخیر کا سبب بن رہے ہیں اور سڑک استعمال کرنے والوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ کے سی سی آئی سڑکوں کی مرمت، بہتر انفراسٹرکچر اور پورٹ قاسم کے صنعتی راستے پر گھگھر پھاٹک کے قریب تباہ حال پل کی فوری بحالی کے لیے متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرڈ پارٹی انشورنس اور دیگر قانونی تقاضوں کے ساتھ بہتر عوامی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹرز کے لیے سازگار عملی ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
چیئرمین ایل جی ٹی اے ملک خالد اعوان نے خطاب کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چیمبر کی منتخب ٹیم میں ایل جی ٹی اے کے نائب صدرمحمد عثمان کی شمولیت سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کی نمائندگی مضبوط ہوگی اور شکایات کے مؤثر فالو اپ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نیکہا کہ ٹرانسپورٹرز سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ فیکٹریوں، ملوں اور گوداموں کے درمیان سامان کی محفوظ طریقے سے ترسیل یقینی بناتے ہیں تاہم اکثر انتظامی رکاوٹوں،بندرگاہوں پر رش اور سڑکوں کی ابتر صورتحال کا سامنا رہتاہے۔ انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ کے سی سی آئی کے ذریعے باقاعدہ مشاورت سے تنازعات کو ہڑتالوں میں تبدیل ہونے اور تجارتی سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار ہونے سے پہلے حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وائس چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن (اے پی او ٹی او اے) خانزادہ محسود نے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں، غیر معمولی ٹریفک جرمانوں اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے لیے ڈرائیورز کی تنخواہیں دینے، گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیزل کی قیمتیں 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہیں، ٹائروں کے ایک جوڑے کی قیمت تقریباً 70,000 سے 75,000 روپے سے بڑھ کر 180,000 روپے ہو گئی ہے اور ٹول چارجز میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ مال برداری کے کرائے اور کاروباری سرگرمیاں دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے بھاری گاڑیوں کے لائسنسنگ کے حل طلب مسائل، تھرڈ پارٹی انشورنس کی شرائط اور ناکافی پارکنگ سہولیات کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کے سی سی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے۔ خانزادہ محسود نے گھگھر پھاٹک کے قریب تباہ حال پل کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ پل کی طویل عرصے سے بندش کے باعث اطراف کے صنعتی علاقے کو سامان پہنچانے والی گاڑیوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں جس سے فی گاڑی تقریباً 7 سے 8 ہزار روپے اضافی ٹرانسپورٹ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کے سی سی آئی پر زور دیا کہ وہمتعلقہ پورٹ قاسم حکام سے رابطہ کرکے پل فوری مرمت کے لیے اپنا کردار اداکرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قابلِ اجتناب اضافی اخراجات بالآخر مال برداری کے کرایوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں جس کا بوجھ صنعتی صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
صدر کے سی سی آئی طلعت محمود نے اجلاس کے اختتام پرمسائل کے حل کے لیے ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز اور متعلقہ حکومتی محکموں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی صنعتی و تجارتی ترقی کے لیے مؤثر ٹرانسپورٹ نظام، قابلِ استعمال سڑکیں اور بندرگاہوں پر مناسب سہولیات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی سمیت کاروباری مسابقت برقرار رکھنے اور سامان کی بلارکاوٹ ترسیل یقینی بنانے کے لیے مسلسل مشاورت اور حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
11
