37

از قلم: ڈاکٹر آصف سیٹھی ترتیب: ملک سہیل انجم

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی خدمات ایک دور تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کا اثر آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک حاجی محمد افضل بٹ اور ان کے صاحبزادے ملک ضرار افضل بٹ اسی تسلسل کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
ملک حاجی محمد افضل بٹ کا تعلق ان لوگوں سے تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے کٹھن حالات میں عملی کردار ادا کیا۔ بطور ہیڈ وارڈن انہوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر مہاجرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں اہم خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا، پہلے پاکستان مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1968 میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔اپنی محنت اور عوامی رابطے کی بنیاد پر وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہے۔ 1977 کے مارشل لا کے دوران انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، شاہی قلعہ لاہور میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہوں ضیاء الحق کے مارشل لائی دور میں ظلم تشدد برداشت کیا مگر انہوں نے اپنے نظریے سے وفاداری قائم رکھی اور ڈٹے رھے تحریک بحالی جمہوریت میں بھی ان کا کردار قابلِ ذکر رہا۔ ان کی پوری زندگی اصولوں اور عوامی خدمت کے گرد گھومتی رہی۔یہی روایت ان کے صاحبزادے ملک ضرار افضل بٹ نے نہایت مضبوط انداز میں آگے بڑھائی۔ 2002 کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور بھاری اکثریت سے چیف کونسلر منتخب ہوئے، جو ان پر عوام کے اعتماد کا واضح اظہار تھا۔ملک ضرار افضل بٹ نے اپنے دور میں عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی سیاست کا مرکز ہمیشہ عوامی خدمت رہا۔ وہ نہ صرف اپنے حلقے کے لوگوں سے جڑے رہے بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے رہے۔اگرچہ وہ اس وقت لندن میں مقیم ہیں، مگر اپنے علاقے کے عوام سے ان کا رابطہ بدستور قائم ہے۔ جدید ذرائع کے ذریعے وہ لوگوں کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات انہیں دیگر روایتی سیاستدانوں سے منفرد بناتی ہے۔آج کے دور میں جب سیاست اکثر ذاتی مفادات تک محدود نظر آتی ہے، ملک ضرار افضل بٹ کا کردار اس کے برعکس ایک مثبت مثال پیش کرتا ہے۔ وہ اپنے والد کی سیاسی وراثت کو نہ صرف سنبھالے ہوئے ہیں بلکہ اسے جدید تقاضوں کے مطابق آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔یہ کہنا بجا ہے کہ ملک حاجی محمد افضل بٹ نے جس خدمت کے سفر کا آغاز کیا، ملک ضرار افضل بٹ اسے اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی تسلسل دراصل عوامی اعتماد کی اصل بنیاد ہے۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں