16

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام صحتِ عامہ کی کانفرنس کا انعقاد تقریب کے شرکا ء کاڈیجیٹل صحت میں جدت اور بہتر طبی نتائج پر زور

اسلام آباد (سٹی رپورٹر)ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام ’’بہتر طبی نتائج کے لیے ڈیجیٹل صحت میں جدت‘‘ کے موضوع پر صحتِ عامہ کی 16ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس 2026ء کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، اعلیٰ سرکاری حکام، طبی ماہرین، جامعات کے سربراہان، بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے نظام کو بہتر بنانے، طبی سہولیات تک رسائی میں اضافے، صحتِ عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے لیے جدید طریقہ کار پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔تقریب میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے قومی صحت، خدمات و رابطہ کاری ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و منشیات کے چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز، رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن سیدہ آمنہ عمیر، صوبائی وزیر محنت پنجاب میاں منشا اللہ بٹ، ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی وزارتِ قومی صحت ڈاکٹر موسیٰ خان، سیکریٹری پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل ڈاکٹر گل سنگا عمران اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ڈاکٹر عبیداللہ ملک بھی موجود تھے۔کانفرنس میں پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ، شعبہ ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت (MNCH) کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ نعیم خالد، سابق وزیر صحت، سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم، وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، چیئرپرسن پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان، کمشنر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن ذوالفقار علی کھَرل، ڈاکٹر سبین خان، ڈاکٹر شبینہ رضا، کنٹری ڈائریکٹر نیوٹریشن انٹرنیشنل، پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ، ماہر صحتِ عامہ و سینئر اکیڈمک بحریہ یونیورسٹی کراچی ڈاکٹر فرید مدحت، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر سیدہ رشیدہ بتول، سیکریٹری محکمہ صحت حکومت آزاد جموں و کشمیر بریگیڈیئر تشفین بن نذیر، پروفیسر امراضِ نسواں ڈاکٹر سیدہ بتول مظہر، پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ چوہدری، کارڈف یونیورسٹی کی ڈاکٹر سیریتھ واٹرز، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی لیکچرر ڈاکٹر شانزہ عظیم اور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان سمیت دیگر ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔کانفرنس کے مرکزی موضوع کے تحت ڈیجیٹل صحت کے جدید رجحانات، طبی خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، صحت کے نظام کی بہتری اور مریضوں کے علاج کے نتائج بہتر بنانے کے امکانات کو اہمیت دی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر تبادلہ خیال کیا کہ جدید ڈیجیٹل ذرائع کو صحت کے شعبے میں مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر طبی خدمات کی دستیابی، معیار اور کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔کانفرنس میں قومی صحت کی پالیسیوں، صحت کے شعبے میں ادارہ جاتی تعاون، طبی تعلیم و تحقیق، صحت کے کارکنوں کی استعداد کار میں اضافے اور بین الاقوامی تجربات سے استفادے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ صحتِ عامہ کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی و تحقیقی مراکز، طبی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت، غذائیت، ادویات کے ضابطہ جاتی امور، نرسنگ و مڈوائفری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق جیسے موضوعات بھی کانفرنس کے وسیع تر دائرہ کار کا حصہ رہے۔ مختلف اداروں کے نمائندوں کی شرکت نے صحت کے شعبے کو درپیش مسائل پر بین الادارہ جاتی مکالمے اور تجربات کے تبادلے کے مواقع فراہم کیے۔کانفرنس میں وفاقی و صوبائی سطح پر صحت کے شعبے سے وابستہ ذمہ داران، پالیسی سازوں اور ماہرین کی موجودگی کو صحت کے نظام میں جدت، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ اس موقع پر ڈیجیٹل صحت کے فروغ کو بہتر طبی نتائج کے حصول اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک اہم موضوع کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام اس بین الاقوامی کانفرنس کا بنیادی محور صحتِ عامہ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، علمی و پیشہ ورانہ تعاون اور صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملیوں پر پیش رفت کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں