کبھی کچھ واقعات ہمارے دل فخر سے بھر دیتے ہیں اور کبھی کچھ سانحات ہمیں اپنے معاشرے، اپنے نظام اور اپنی اجتماعی ترجیحات پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی قوم کی دو مختلف کہانیاں ہمارے سامنے آتی ہیں؛ ایک ہمیں اپنے لوگوں کی صلاحیتوں پر یقین دلاتی ہے، جبکہ دوسری ہمیں اپنی کوتاہیوں اور اصلاح کی فوری ضرورت کا احساس دلاتی ہے۔آج ہمارے سامنے بھی ایسی ہی دو کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی پاکستانی نژاد برطانوی ہارٹ سرجن ڈاکٹر آصف حسن کی ہے، جنہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بچوں کے پیچیدہ امراضِ قلب کا علاج کرکے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں امید کی روشنی پیدا کی۔ دوسری کہانی اسلام آباد کے ایک اسپتال میں نومولود بچوں کی المناک اموات کی ہے، جو ہمارے نظامِ صحت، حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی جواب دہی کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ان دونوں واقعات پر غور کرتے ہوئے میرے دل میں بیک وقت فخر بھی پیدا ہوا اور گہرا دکھ بھی۔ ایک طرف ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ہمارے اپنے ملک میں معصوم بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے بنیادی انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔یہ محض دو واقعات کا تقابل نہیں، بلکہ ہمارے قومی شعور، پیشہ ورانہ ذمہ داری، انسانی ہمدردی اور ریاستی نظام کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ڈاکٹر آصف حسن: تین دہائیوں پر محیط خدمت اور انسانیت کی مثال
برطانیہ کے شہر نیو کیسل میں بچوں کے امراضِ قلب کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آصف حسن کو اس سال کے ڈیلی مرر پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان کی کئی دہائیوں پر محیط طبی خدمات اور بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ان کی غیرمعمولی جدوجہد کا اعتراف ہے۔ڈاکٹر آصف حسن نے برطانیہ کے معروف طبی ادارے، نیو کیسل اپون ٹائن ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ، میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ بچوں کے پیچیدہ امراضِ قلب کے علاج کے لیے وقف کیا۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشن کیے اور بچوں کے امراضِ قلب کی سرجری اور پیوندکاری کے شعبے میں نیو کیسل کو ایک نمایاں عالمی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن ان کی کامیابی کی اصل اہمیت صرف ہزاروں آپریشن کرنے یا کسی بڑے اعزاز کے حصول میں نہیں، بلکہ ان معصوم بچوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں میں پوشیدہ ہے جنہیں ان کی مہارت، توجہ اور ہمدردی سے نئی امید ملی۔اس تقریب کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ ڈاکٹر آصف حسن کے سابق مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کے سامنے اپنی محبت اور تشکر کا اظہار کرتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔یہ وہ خاندان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں اپنے بچوں کی سانسوں اور مستقبل کو ایک ڈاکٹر کے سپرد کیا تھا۔ ان کے لیے ڈاکٹر آصف حسن محض ایک سرجن نہیں، بلکہ امید، اعتماد اور زندگی کی علامت تھے۔ان کے ایک سابق مریض، سیب، کو 2009 میں پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد دل کی ایک سنگین پیدائشی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ برسوں بعد ڈاکٹر اور مریض کی دوبارہ ملاقات اس حقیقت کی خوب صورت مثال ہے کہ ایک ڈاکٹر کی خدمت کا اثر اسپتال کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا۔ بعض اوقات اس کے کیے گئے کام کی قدر دہائیوں تک ایک خاندان کی زندگی میں محسوس کی جاتی ہے۔ڈاکٹر آصف حسن کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف پیشہ ورانہ مہارت کا نام نہیں۔ اس کے لیے مسلسل محنت، نظم و ضبط، ذمہ داری، ٹیم ورک اور سب سے بڑھ کر انسانیت سے محبت ضروری ہے۔یہ اعزاز یقیناً دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔ لیکن اس فخر کے ساتھ ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ ہم اپنے ملک میں ایسے ادارے اور ایسا ماحول کیوں پیدا نہیں کر پاتے جہاں ہمارے ڈاکٹر اسی معیار کی خدمات انجام دے سکیں اور ہر شہری کو بہترین طبی سہولیات میسر ہوں؟اسلام آباد کا سانحہ: چودہ نومولود، چودہ مستقبل
ڈاکٹر آصف حسن کی کامیابی پر خوشی مناتے ہوئے میرے ذہن میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والا وہ المناک واقعہ بھی آیا، جس نے پورے ملک کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا۔26 اگست 2026 کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہاسپٹل کی نرسری میں آگ لگنے کے واقعے میں چودہ نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔یہ وہ بچے تھے جنہوں نے ابھی دنیا میں اپنی زندگی کا سفر شروع ہی کیا تھا۔ ان کے والدین اپنے بچوں کو علاج اور حفاظت کی امید کے ساتھ ایک بڑے سرکاری اسپتال میں لائے تھے۔ کسی ماں باپ کے لیے اس سے زیادہ کرب ناک صورت حال کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے بچے کی صحت یابی کی امید لے کر اسپتال پہنچیں، مگر وہاں سے اپنے جگر گوشے کی میت لے کر واپس جائیں؟اس سانحے نے اسپتال کے حفاظتی انتظامات، آگ بجھانے کے نظام، ہنگامی انخلا کے طریقۂ کار، عملے کی تربیت اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے۔تحقیقات میں ادارہ جاتی اور نظامی خامیوں کی نشاندہی بھی سامنے آئی۔ ہنگامی راستوں اور حفاظتی انتظامات کے مؤثر ہونے کے بارے میں سوالات اٹھے، جبکہ واقعے کے سلسلے میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کے احکامات بھی دیے گئے۔ہاں ایک اہم بات واضح کرنا ضروری ہے: کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام ڈاکٹر یا اسپتال کا عملہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ اطلاعات کے مطابق عملے کے بعض افراد نے بچوں کو بچانے کی کوشش بھی کی، جبکہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے اور بچوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھے۔ان پہلوؤں کی شفاف اور غیرجانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ تاہم، اس وضاحت سے بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے: کیا اسپتال میں ایسے حفاظتی اور ہنگامی انتظامات موجود تھے جو کسی حادثے کی صورت میں نومولود بچوں کی جان بچانے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے تھے؟
اس سوال کا جواب محض بیانات سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، دستیاب شواہد اور ٹھوس اصلاحات سے ملنا چاہیے۔
اسپتال صرف عمارت، مشینری اور طبی عملے کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہر لمحہ انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی ترجیح ہونا چاہیے۔ فائر الارم، ہنگامی اخراج کے راستے، حفاظتی آلات، تربیت یافتہ عملہ، آکسیجن کے نظام اور بچوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا واضح طریقۂ کار کسی اضافی سہولت کا نام نہیں، بلکہ بنیادی ضرورت ہیں۔جب یہ انتظامات ناکام ہو جائیں تو اس کی قیمت بعض اوقات انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ان چودہ بچوں میں سے ہر ایک ایک خاندان کی امید تھا۔ کسی ماں نے اپنے بچے کے لیے خواب دیکھے ہوں گے، کسی باپ نے اس کے روشن مستقبل کے منصوبے بنائے ہوں گے۔ ان بچوں کی موت صرف ایک اسپتال کا واقعہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کے لیے ایسا صدمہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ہمیں انہیں محض ایک رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ انسانی زندگیاں تھیں، جن کے ضیاع کا تقاضا ہے کہ حقائق سامنے لائے جائیں، ذمہ داری کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ہمارے ڈاکٹر بیرونِ ملک کامیاب، مگر اپنے ملک میں مسائل کیوں؟
یہ دونوں واقعات ایک مشکل مگر ضروری سوال کو جنم دیتے ہیں: آخر ہمارے بہت سے پیشہ ور افراد بیرونِ ملک عالمی معیار کی خدمات انجام دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بنیادی سہولیات، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور جواب دہی کے مسائل برقرار رہتے ہیں؟
یہ سوال تمام پاکستانی ڈاکٹروں پر الزام لگانے کے لیے نہیں اٹھایا جا رہا۔ ہمارے ملک میں ہزاروں ڈاکٹر، نرسیں اور طبی کارکن محدود وسائل، طویل اوقاتِ کار اور شدید دباؤ کے باوجود انتہائی محنت اور اخلاص کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی قربانیوں اور خدمات کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہوگی۔اسی طرح یہ فرض کرنا بھی درست نہیں کہ ہر پاکستانی پیشہ ور بیرونِ ملک پہنچ کر لازماً بہتر کام کرنے لگتا ہے۔
اصل سوال ان حالات اور نظاموں کا ہے جن میں یہ افراد کام کرتے ہیں۔ایک مؤثر طبی نظام میں واضح پیشہ ورانہ معیارات، مریضوں کی حفاظت کے اصول، باقاعدہ نگرانی، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت اور غلطیوں کی تحقیقات کے قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی خرابی سامنے آئے تو اسے چھپانے کے بجائے اس کی وجوہات جاننے اور مستقبل میں اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کے نظامِ صحت بھی خامیوں سے پاک نہیں۔ وہاں بھی طبی غلطیاں، غفلت اور قابلِ انسداد اموات کے واقعات پیش آتے ہیں۔ فرق یہ نہیں کہ وہاں کبھی غلطی نہیں ہوتی، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک مؤثر نظام میں غلطیوں کی نشاندہی، تحقیقات اور اصلاح کے لیے مضبوط طریقۂ کار موجود ہونا چاہیے۔پاکستان میں بھی ہمیں اسی نوعیت کے مؤثر حفاظتی نظام، ادارہ جاتی نگرانی اور جواب دہی کو مضبوط بنانا ہوگا۔ایک قابل ڈاکٹر بھی ایسے اسپتال میں مریضوں کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا جہاں ہنگامی اخراج کے راستے غیرمحفوظ ہوں، ضروری آلات دستیاب نہ ہوں یا انتظامی نگرانی مؤثر نہ ہو۔ اسی طرح ایک محنتی نرس بھی افرادی قوت کی کمی یا ناقص انتظامات کے تمام مسائل اکیلے حل نہیں کر سکتی۔
اس لیے مسئلے کا حل صرف افراد کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ ان اداروں اور نظاموں کی اصلاح بھی ہے جن کے تحت وہ کام کرتے ہیں۔ہمارے ڈاکٹر جب بیرونِ ملک عالمی سطح کے اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے سکتے ہیں تو ہمیں اپنے ملک میں بھی ایسے حالات پیدا کرنے چاہییں جہاں انہیں بہترین سہولیات، پیشہ ورانہ آزادی، مؤثر قیادت اور شفاف جواب دہی میسر ہو۔ہمارے لیے مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی ڈاکٹر بیرونِ ملک نہ جائیں۔ ان کی کامیابیاں پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ اصل مقصد ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں طبی مہارت کو فروغ ملے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی قدر ہو اور ہر مریض کو محفوظ اور معیاری علاج میسر آ سکے۔اسلامی معاشرہ اور انسانی جان کی حرمت
اس بحث کا ایک گہرا اخلاقی اور دینی پہلو بھی ہے۔ہم ایک اسلامی ملک کے شہری ہیں۔ اسلام انسانی جان کی حرمت، کمزوروں پر رحم، دیانت داری، امانت اور اپنے اعمال کے لیے جواب دہی پر زور دیتا ہے۔ لیکن ان اصولوں کی حقیقی اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب ہم انہیں اپنی عملی زندگی، اپنے پیشے اور اپنے اداروں میں نافذ کرتے ہیں۔صرف مذہبی شناخت کسی معاشرے کو خودبخود مہذب، منصف اور انسان دوست نہیں بنا دیتی۔ ان اقدار کا ثبوت ہمارے کردار اور عمل سے ملتا ہے۔اگر ہم انسانیت کی بات کریں مگر بچوں کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہیں، اگر ہم ذمہ داری کا درس دیں مگر حفاظتی خامیوں کو نظرانداز کریں، اور اگر ہم انصاف کا مطالبہ کریں مگر تحقیقات کے نتائج پر عمل درآمد نہ ہو تو ہمیں اپنے اجتماعی رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔یہ سوالات تلخ ضرور ہیں، لیکن اصلاح کا آغاز اکثر ایسے ہی سوالات سے ہوتا ہے۔ڈاکٹر ہو، نرس ہو، اسپتال کا منتظم ہو یا کوئی سرکاری افسر، ہر شخص کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی ذمہ داری محض ملازمت کی شرائط پوری کرنے تک محدود نہیں۔ بعض اوقات ایک فیصلہ، ایک نظرانداز کی گئی شکایت یا ایک حفاظتی اقدام میں تاخیر کسی کی زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔حقیقی پیشہ ورانہ کامیابی صرف اعزاز حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس اعتماد پر پورا اترنے کا نام ہے جو لوگ ہم پر کرتے ہیں۔ڈاکٹر آصف حسن کی کہانی اسی اصول کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کے مریض انہیں صرف ایک ماہر سرجن کے طور پر نہیں، بلکہ ایسے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے ان کے مشکل ترین وقت میں انہیں امید اور حوصلہ دیا۔پاکستان کو ہر شعبے میں ایسے ہی پیشہ ورانہ کردار اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔اب پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
کسی بڑے سانحے کے بعد دکھ، غصہ اور احتجاج فطری ردِعمل ہیں۔ لیکن اگر یہ جذبات عملی اصلاحات میں تبدیل نہ ہوں تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعہ بھی خبروں کی سرخیوں سے غائب ہو جائے گا، جبکہ بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔پاکستان کو کم از کم درج ذیل اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے:اول: شفاف تحقیقات اور مؤثر جواب دہی۔ پمز سانحے سے متعلق تحقیقاتی نتائج عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کیے جائیں۔ اگر کسی افسر، اہلکار یا ادارے کی غفلت ثابت ہو تو قانون اور شواہد کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ذمہ داری کا تعین محض کمیٹیاں بنانے یا عارضی انتظامی اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔دوم: مریضوں کی حفاظت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات کے باقاعدہ، آزادانہ معائنے کیے جائیں۔ خامیوں کی نشاندہی کے بعد ان کی اصلاح اور عملی تصدیق بھی ضروری ہو۔سوم: ہنگامی تربیت لازمی قرار دی جائے۔ ڈاکٹروں، نرسوں، تکنیکی عملے، سکیورٹی اہلکاروں اور انتظامیہ کو آگ لگنے، انخلا اور انتہائی نگہداشت کے محتاج مریضوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی عملی تربیت دی جائے۔ باقاعدگی سے ہنگامی مشقیں کرائی جائیں تاکہ ہر شخص کو اپنی ذمہ داری معلوم ہو۔چہارم: اسپتال انتظامیہ کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں۔ عمارت کی حفاظت، ضروری آلات کی دستیابی، ہنگامی راستوں کی دیکھ بھال، عملے کی مناسب تعداد اور حفاظتی شکایات پر بروقت کارروائی کو انتظامی کارکردگی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔پنجم: طبی تعلیم میں اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ ڈاکٹر کی قابلیت صرف طبی علم اور آپریشن کرنے کی مہارت سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ مریضوں سے حسنِ سلوک، دیانت داری، ٹیم ورک، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات بھی اسی قدر ضروری ہیں۔ششم: عالمی تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ پاکستان کو بیرونِ ملک خدمات انجام دینے والے ماہر پاکستانی ڈاکٹروں اور عالمی طبی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔ ان کے تجربات سے اسپتالوں کی بہتری، طبی تربیت اور مریضوں کی حفاظت کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔یہ کوئی غیرحقیقی مطالبات نہیں۔ انسانی زندگی کو اہمیت دینے والے معاشرے میں یہ بنیادی تقاضے ہیں۔
قومی فخر کو قومی ذمہ داری میں بدلنے کا وقت
جب میں نے ڈاکٹر آصف حسن کی کامیابی اور ان کے سابق مریضوں کو ان کے سامنے اظہارِ تشکر کرتے دیکھا تو میرا دل فخر سے بھر گیا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ایک انسان نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو اس انداز میں گزارا کہ اس کی خدمات ہزاروں خاندانوں کے لیے امید اور خوشی کا سبب بنیں۔لیکن اسی وقت اسلام آباد میں اپنی جانیں گنوانے والے نومولود بچوں کا خیال دل کو غمگین کر گیا۔ایک کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ محنت، مہارت اور انسانیت سے وابستگی کتنی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ دوسری کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات ناکام ہوں تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔یہ برطانیہ اور پاکستان کا مقابلہ نہیں، نہ ہی دو مختلف ڈاکٹروں یا طبی عملے کے درمیان کوئی فیصلہ ہے۔ اصل سوال ان معیارات کا ہے جنہیں ہم دوسروں کے ہاں دیکھ کر سراہتے ہیں، مگر اپنے ملک میں ہر شہری کے لیے یقینی بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ہم صرف بیرونِ ملک پاکستانیوں کی کامیابیوں پر فخر کرکے ایک بہتر پاکستان تعمیر نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے اداروں کو بھی ایسا بنانا ہوگا جہاں قابلیت کو فروغ ملے، محنت کی قدر ہو اور انسانی زندگی کا تحفظ ہر دوسری ترجیح پر مقدم ہو۔ہمارے بچوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اتفاقات یا قسمت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہیں محفوظ رکھنے کے لیے اہل انتظامیہ، مؤثر ہنگامی نظام، مناسب وسائل اور ذمہ داری کا مضبوط احساس ضروری ہے۔پمز سانحے میں اپنے بچوں کو کھونے والے والدین کو سچ جاننے کا حق ہے۔ انہیں یہ یقین دہانی محض الفاظ میں نہیں، عملی اقدامات کے ذریعے ملنی چاہیے کہ ان کے بچوں کی موت کے بعد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو مستقبل میں دوسرے خاندانوں کو اسی کرب سے بچا سکیں۔ان بچوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن ان کی اموات کو ایک ایسے سانحے میں تبدیل ہونا چاہیے جس سے پورا نظام سبق حاصل کرے، نہ کہ یہ واقعہ بھی وقت کے ساتھ ہماری اجتماعی یادداشت سے مٹ جائے۔دعا بھی، عہد بھی
ان دونوں واقعات پر غور کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کسی قوم کی عظمت کا تعین صرف اس کی دولت، عمارتوں، ٹیکنالوجی یا بیرونِ ملک حاصل ہونے والے اعزازات سے نہیں ہوتا۔ اس کی اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی کو کتنی اہمیت دیتی ہے، اپنے کمزور شہریوں کی حفاظت کیسے کرتی ہے اور ناکامی کی صورت میں اپنے اداروں کو کس حد تک جواب دہ بناتی ہے۔میں ڈاکٹر آصف حسن کو ان کی شاندار خدمات اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کا طویل کیریئر پاکستان اور دنیا بھر کے طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ دعا ہے کہ ان کی خدمات نئی نسل کے ڈاکٹروں کو مہارت، دیانت داری، عاجزی اور انسانیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ترغیب دیں۔اس کے ساتھ ہی میں اسلام آباد میں اپنے نومولود بچوں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ ان کا غم ناقابلِ بیان ہے، اور ان کے سوالات کو سننا، ان کے دکھ کو سمجھنا اور حقائق سامنے لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔پاکستان میں انسانی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے پاس قابل ڈاکٹر، محنتی اساتذہ، باصلاحیت نوجوان اور ایسے پیشہ ور افراد موجود ہیں جو دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں دیانت داری کی قدر ہو، غفلت کی تحقیقات ہوں، ادارے اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور انسانی جان کا تحفظ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف یہ سوال نہ کریں کہ دوسرے ممالک ہم سے آگے کیوں نکل گئے، بلکہ یہ بھی طے کریں کہ ہم اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کریں گے۔ایک قوم اپنے ہیروز کو سب سے بہترین خراجِ تحسین اس وقت پیش کرتی ہے جب وہ ان کی کامیابیوں سے سبق سیکھتی ہے اور اپنے سانحات کو دیرپا اصلاحات میں بدل دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی توفیق دے، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرے اور پاکستان کو ایک محفوظ، منصفانہ اور باوقار معاشرہ بنانے کی توفیق دے۔اللہ ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے، غم زدہ خاندانوں کو صبر عطا کرے اور ہمیں ایسا مستقبل تعمیر کرنے کی ہدایت دے جہاں ہر انسانی جان قیمتی سمجھی جائے۔اکستان ایک ایسے نظامِ صحت کا حق دار ہے جہاں ہر بچے کو زندہ رہنے اور صحت مند مستقبل پانے کا موقع ملے، ہر مریض کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے اور ہر پیشہ ور شخص یہ سمجھے کہ انسانیت کی خدمت محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے
1
