اسلام آباد (سٹی رپوٹر)فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان کا عوامی قرضوں کے آزادانہ آڈٹ، ترقی پسندانہ ٹیکس نظام اور معاشی انصاف کا مطالبہ اسلام آباد: فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان نے لیگل سپورٹ فاؤنڈیشن اور ڈیموکریٹک لائرز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے، جبکہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے تعاون سے، آج اسلام آباد بار ایسوسی ایشن میں ’’پاکستان کا قرضوں کا بحران: قیمت کون ادا کر رہا ہے؟‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا۔سیمینار میں وکلا، ماہرینِ تعلیم، قرضوں کے انصاف کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے پاکستان پر بڑھتے ہوئے قرضوں، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی مالی معاونت، ٹیکس نظام، معاشی عدم مساوات اور موجودہ معاشی پالیسیوں کے عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور روزمرہ زندگی پر اثرات کا تنقیدی جائزہ لیا۔گفتگو میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بحث کو قرضوں کی واپسی اور مالیاتی کٹوتیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان معاشی ڈھانچوں کا جائزہ لیا جائے جو دولت اور اختیار کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرتے ہیں، جبکہ معاشی بحرانوں کا بوجھ مزدوروں، کسانوں، کم آمدنی والے گھرانوں اور متوسط طبقے پر منتقل ہو جاتا ہے۔سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر عاصم سجاد اختر، شعبۂ سیاسی معیشت، قائداعظم یونیورسٹی؛ عبدالخالق شاہ، قرضوں کے انصاف کے لیے سرگرم کارکن اور کمیٹی فار دی ابالیشن آف الیجٹیمیٹ ڈیٹ (CADTM-Pakistan) کے فوکل پرسن؛ سینئر ایڈووکیٹ احمد حسن شاہ؛ سینئر ایڈووکیٹ جاوید اقبال بانڈے سینئر ایڈووکیٹ نثار احمد شاہ، قومی کنوینر فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان؛ بلال مغل ایڈووکیٹ ، عمران کاکڑ ایڈووکیٹ اور خاور دانیال، جنرل سیکرٹری اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے خطاب کیا۔سیمینار میں سرکاری قرضوں، ٹیکسوں کی تقسیم، زرعی آمدن، دولت اور جائیداد پر ٹیکس، سرکاری اخراجات اور عوام کی قوتِ خرید اور بنیادی سہولتوں تک رسائی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا گیا۔غیر مساوی معاشی نظام کو چیلنج کرنا
فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان کے مطابق ملک کا قرضوں کا بحران محض مالیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی اختیار، جمہوری جواب دہی، سماجی انصاف اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ بھی ہے۔
بین الاقوامی مالی معاونت جائز ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن محض وقتی مالی سہارا یا زرمبادلہ کی فراہمی قرض لینے کو کامیابی نہیں بنا دیتی۔ قرضوں کی شرائط، استعمال، مستفید ہونے والے طبقات اور ان کے طویل مدتی سماجی و معاشی نتائج عوامی جانچ پڑتال کے لیے دستیاب ہونے چاہییں۔
معاشی اصلاحات ایسا ذریعہ نہیں بننی چاہییں جس کے تحت عوام کی بامعنی شرکت کے بغیر کیے گئے فیصلوں کی قیمت عام لوگ ادا کریں، جبکہ طاقتور معاشی مفادات اپنے مراعات یافتہ مقام کو برقرار رکھیں۔
الائنس دولت اور معاشی مراعات کے ارتکاز کے بجائے انسانی فلاح، پیداواری سرمایہ کاری، باعزت روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ترجیح دینے والے عوام دوست معاشی ماڈل کی طرف بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔
فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان کے اہم مطالبات
1۔ سرکاری قرضوں کا آزادانہ عوامی آڈٹ
حکومت سرکاری قرضوں، قرض معاہدوں، حکومتی ضمانتوں، قرض کی رقم کے استعمال، ادائیگی کی ذمہ داریوں اور سرکاری مالی وسائل سے چلنے والے منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد اور شفاف طریقۂ کار قائم کرے، جس میں قانون کے تحت ضروری تحفظات کا خیال رکھا جائے۔ پارلیمان اور عوام کو اتنی معلومات دستیاب ہونی چاہییں کہ وہ جانچ سکیں کہ قرضے واقعی عوامی مفاد میں استعمال ہو رہے ہیں یا نہیں۔
2۔ ترقی پسندانہ ٹیکس نظام اور ناجائز مراعات کا خاتمہ
پاکستان کو بالواسطہ ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنا چاہیے، کیونکہ ان کا غیر متناسب بوجھ عام صارفین پر پڑتا ہے۔ ٹیکس نظام ایسا ہو کہ دولت مند افراد، قیمتی جائیدادوں کے مالکان اور کم ٹیکس دینے والے ذرائع سے زیادہ آمدن حاصل کرنے والے اپنی معاشی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالیں۔ بڑی ٹیکس چھوٹ کی تفصیلات شائع کی جائیں، ان کا جواز واضح ہو اور آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
3۔ زرعی آمدن پر منصفانہ ٹیکس اور بامعنی زرعی اصلاحات
زرعی آمدن پر منصفانہ اور قابلِ نفاذ قواعد کے تحت مؤثر ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ بڑے تجارتی زرعی کاروبار اور محدود آمدن والے چھوٹے کسانوں میں فرق رکھا جائے۔ زمین کی ملکیت کے غیر معمولی ارتکاز سے نمٹا جائے، زمین کا ریکارڈ بہتر بنایا جائے، مزارعین اور زرعی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور زمین، پانی، قرض اور زرعی معاونت تک منصفانہ رسائی بڑھائی جائے۔4۔ صحت، تعلیم اور بنیادی عوامی سہولتوں کا تحفظ قرضوں کے انتظام اور مالیاتی اصلاحات کے نتیجے میں سستی صحت کی سہولتوں، معیاری تعلیم، رہائش، سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ سرکاری اخراجات کا جائزہ عوام کی حقیقی ضروریات کی روشنی میں لیا جائے، خصوصاً مزدوروں، خواتین، بچوں، کم آمدنی والے گھرانوں اور محروم طبقات کے حوالے سے۔5۔ سرکاری اخراجات اور معاشی فیصلوں میں جواب دہی
پارلیمانی نگرانی، آزاد آڈٹ اداروں، معلومات تک رسائی کے نظام اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کو مضبوط بنایا جائے۔ سرکاری وسائل کو بدعنوانی، ضیاع، بدانتظامی اور بلاجواز ترجیحی مراعات سے محفوظ رکھا جائے۔ بڑی ٹیکس چھوٹ اور اہم سرکاری مالی وعدوں کی لاگت اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات شفاف بنائی جائیں۔6۔ مزدوروں اور عام شہریوں کا تحفظ
معاشی پالیسیوں میں مزدوروں کی اجرت، محنت کے حقوق، پنشن اور سماجی تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ مہنگائی، توانائی کی قیمتوں، بالواسطہ ٹیکسوں اور معاشی ایڈجسٹمنٹ کے گھریلو قوتِ خرید پر اثرات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ معاشی اصلاحات کا غیر متناسب بوجھ ان لوگوں پر نہیں پڑنا چاہیے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔7۔ پیداواری تبدیلی کے ذریعے معاشی خود انحصاری
پاکستان کو ملکی پیداوار مضبوط بنا کر، برآمدات بڑھا کر، باعزت روزگار پیدا کر کے، توانائی کے شعبے کی حکمرانی بہتر بنا کر اور زراعت، صنعت، سائنسی تحقیق، تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کر کے بیرونی قرضوں پر طویل مدتی انحصار کم کرنا چاہیے۔ پائیدار معاشی خود مختاری کے لیے پیداواری صلاحیت، منصفانہ محصولات اور ذمہ دارانہ سرکاری سرمایہ کاری ضروری ہیں، نہ کہ قرض لینے اور واپس کرنے کا مسلسل چکر۔
معاشی انصاف بنیادی حقوق کا معاملہ ہے
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معاشی پالیسی کو آئینی جمہوریت، مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب لوگوں کو صحت، تعلیم، باعزت روزگار اور زندگی کی بنیادی ضروریات تک بامعنی رسائی حاصل نہ ہو تو معاشی عدم مساوات انصاف اور جمہوری جواب دہی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمان، سیاسی جماعتوں، قانونی برادری، سول سوسائٹی اور آزاد احتسابی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری قرضوں، ٹیکس انصاف اور معاشی تبدیلی پر سنجیدہ قومی بحث شروع کی جائے۔الائنس کے مطابق قومی وسائل کے استعمال، سرکاری قرضوں کی شرائط اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات سے متعلق فیصلوں میں عوام کی بامعنی شرکت ضروری ہے۔ معاشی پالیسی کو صرف مالیاتی اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ اس بنیاد پر بھی پرکھا جانا چاہیے کہ آیا وہ لوگوں کی زندگی بہتر بناتی ہے، عدم مساوات کم کرتی ہے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں۔پاکستان کے عوام سے ایسے معاشی نظام کی قیمت وصول نہیں کی جانی چاہیے جو دولت اور مراعات کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرے جبکہ معاشی بحرانوں کی لاگت پورے معاشرے پر ڈال دی جائے۔ سرکاری قرضے عوامی مفاد میں استعمال ہونے چاہییں، ٹیکس منصفانہ ہونا چاہیے اور قومی وسائل اکثریت کی فلاح پر خرچ ہونے چاہییں۔فائٹ اِن ایکوالٹی الائنس پاکستان ایک ایسی جمہوری، ترقی پسند اور عوام دوست معاشی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے جس میں مزدوروں، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کو ملک کے معاشی مستقبل میں بامعنی حصہ حاصل ہو۔بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان اپنے قرضے کیسے واپس کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ قرض لینے سے فائدہ کس نے اٹھایا، اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے، اور پاکستان آنے والی نسلوں کے لیے کس قسم کی معیشت اور معاشرہ تشکیل دے رہا ہے۔
